Place of Women in Islam

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

Place of Women in Islam
تم عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے بہت ڈرو بہت ہی زیادہ کیوں کہ کچھ لوگوں کو دیکھا گیا ہے وہ عورت پر بہت ہی ظلم کرتے ہیں جب کہ اسلام میں جہاں تک اجازت ہے وہ درج ذیل ہے
 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے :
 
تم عورتوں کے بارہ میں اللہ تعالی سے ڈرو ، بلاشبہ تم نے انہيں اللہ تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے ، اوران کی شرمگاہوں کواللہ تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتےہووہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو، اگر وہ ایسا کریں توتم انہيں مار کی سزا دو جوزخمی نہ کرے اورشدید تکلیف دہ نہ ہو، اوران کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہيں اچھے اور احسن انداز سے نان و نفقہ اوررہائش دو
...
صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 )
 
تواس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر بیوی خاوند کی نافرمانی اورمخالفت کرتی ہے تواسے شدید مارنہیں بلکہ ہلکہ سامارا جاسکتا ہے ۔
 
اوریہ بھی اسی طرح ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا مندرجہ ذيل فرمان ہے :
 
{ اورجن عورتوں کی نافرمانی اوربددماغی کا تمہیں ڈر اورخدشہ ہوانہيں نصیحت کرو ، اورانہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو ، اورانہیں مار کی سزا دواگر تو وہ تمہاری بات مان کراطاعت کرلیں توپھر ان پرکوئي راہ نہ تلاش کرو یقینا اللہ تعالی بلندوبالا بڑا ہے }
 
النساء ( 34 )
 
توجب عورت اپنے خاوند کے خلاف سرکشی کرے اوراس کی مخالفت کرے اوربات تسلیم نہ کرے تووہ اس کے ساتھ یہ تین طریقے استعمال کرے سب سے پہلے وعظ ونصیحت اورپھر بسترسے علیحدگي ، اورپھر آخر میں مار لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ شدید قسم کی مار نہ ہوجس سے اسے زخم ہویا پھر ہڈی ٹوٹنے کا خدشہ ہو ۔
 
حسن بصری رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
 
یعنی ایسی مار جوکہ اپنا اثر نہ چھوڑے ۔
 
اورعطاء رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے غیر مبرح مار کے بارہ میں سوال کیا تو ان کا جواب تھا کہ مسواک وغیرہ سے مارے ۔
 
تواس مار سے عورت کی توہین اوراسے اذیت دینا مقصود نہیں بلکہ اسے صرف یہ محسوس اورشعور دلانا ہے کہ وہ اپنے خاوند کے حق میں غلطی کررہی ہے ، اوراس کے خاوند کواسے صحیح اوراس کی اصلاح کے لیے حق حاصل ہے ۔
 
 
 
 
Enhanced by Zemanta

Comment on this post