کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار ، آؤ سچ بولیں

سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
یہی ہے موقع اظہار ، آؤ سچ بولیں
...

ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا
بنامِ عظمت کردار ، آؤ سچ بولیں

سنا ہے وقت کا حاکم بڑا ہی منصف ہے
پکار کر سرِ دربار ، آؤ سچ بولیں

تمام شہر میں ایک بھی نہیں منصور
کہیں گے کیا رسن و دار ، آؤ سچ بولیں

جو وصف ہم میں نہیں کیوں کریں کسی میں تلاش
اگر ضمیر ہے بیدار ، آؤ سچ بولیں

چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہروں کے
نظر ہے آئینہ بردار ، آؤ سچ بولیں

قتیل جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا
کدھر گئے وہ گنہ گار، آؤ سچ بولیں
Enhanced by Zemanta

Comment on this post