Cheguera

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

Churriguera Argentine
English: The Iranian Revolution (Also known as...
  م 
چی گویرا نے 14 جون 1928 پہ ارجنٹائن کے شہر روساریہ میں جنم لیا،
پوری دنیا میں چی ایک رہنما کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے،
چی گویرا جب میڈیکل کالیج م پڑھتا تھا تو اس وقت وو موٹرسائیکل پہ پورے آمریکا کی سیر کرنے نکل پڑا،
... اور جب اس نے آمریکا کی ریاستوں میں لوگوں کی بہوک، بدحالی، بیروزگاری، دیکہی تو اس سے برداشت نہیں ہوا،
اس نے ٹہان لی کے وو اب ان غریب لوگوں کے حق کے لیے سامراج سے لڑیگا،
اور وھاں کی عوام کو سامراج کے ظلموں سے نجات دلائیگا، 
اس کے بعد وہ "میکسیکو" چلا گیا،
جہاں اس کی ملاقات 
'فیڈرل کاسترو' سے ہوئی،
اس دوران چی گویرا اپنے کام اور کردار کی وجھ سے مشھور ھوتا چلا گیا،
اس قدر کے کیوبا کی آزادی والی تحریک میں فیڈرل کاسترو نے اسے دوسرا اھم کمانڈر مقرر کیا،
اور چی گویرا نے گوریلا تحریک میں بہت ئی اھم کردار ادا کیا،
اور وہاں کی سامراجی حکومت کا تختہ الٹ دیا،
اس کی انتھک محنت کی وجھ سے ئی کیوبا آزاد ہوا،
اور فیڈرل کاسترو کو کیوبا کا اقتدار مل گیا،
کیوبا کے انقلاب کے بعد چی گویرا اس نئیں حکومت میں اھم عھدوں پہ فائز رھا،
اور اپنا کردار ادا کیا،
سخت محنت، اور انتھک جدوجھد کے بعد انقلاب لانے کے بعد بہی اس نے عیش و عشرت کی زندگی نہیں گذاری،
اس نے کوئی بہی رعایت نہیں لی،
اس قدر کے اس کے گھر والے بہی غربت میں زندگی گذارتے تھے،
مارکسزم کو عام انسانوں تک پہچانے والا "چی" ھمیشہ -مظلوم طبقے- کا ساتھی رھا،
چی گویرا ایک اچہا ادیب اور ڈرامہ نگار بہی تہا،
وہ سامراجی قوتوں سے تنگ تہا،
وہ پوری دنیا میں سامراج کا خاتمہ چاہتا تہا،
پہر اس نے کیوبا کو خیرآباد کھہ کر دوسرے ملکوں کا رخ کیا،
جہان وہ انقلاب لانا چاھتا تہا،
"کانگو" اور "بولیویا" میں اس نے گوریلا جنگ شروع کی،
لیکیں بولیویا میں اس کو فوج اور سی آئی ای نے پکڑ لیا،
اور سخت تشدد کے بعد اس کو شھید کر دیا،
کیوبا میں اب چی گویرا عالمی انقلابی ھیرو سے بدل کر ایک مقدس ھستی بن گیا ہے،
اور عوام میں اس کی مقبولیت کا یے حال تہا کہ اس کی شھادت کے بعد اس کی تصویروں والے پوسٹر، اسکیچ، ٹی شرٹس، لاکہوں کی تعداد میں لوگوں نے خریدیں،
اور آج بہی ھر صبح اسکول کے شاگرد قطار میں کہڑے ہوکر گیت گاتے ہیں کہ،
ھم "چی" کی طرح ھونا چاھتے ھیں.
Enhanced by Zemanta

Comment on this post