بچے --- شاہنواز فاروقیChildren by Shanaz Farooqi

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


...
رئیس فروغ کا ایک شعر ہے
... لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

رئیس فروغ کے اس شعر میں مرنے کا مطلب ہے دنیا سے رخصت ہوجانا۔ لیکن مرنے کا ایک اور مفہوم بھی ہے: بڑا ہوجانا۔

بڑا ہونا ایک فطری بات ہے لیکن عام طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ لوگوں کا صرف جسم بڑھتا ہے، ان کے علم میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا، ان کے فہم میں کوئی ترقی نہیں ہوتی، ان کے شعور میں بالیدگی پیدا نہیں ہوتی، ان کی نظر وسعت سے ہمکنار نہیں ہوپاتی۔ البتہ جسم کے ساتھ کئی اور چیزوں میں بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے۔

لوگ جھوٹ میں کمال پیدا کرلیتے ہیں، دھوکا دینے میں ماہر ہو جاتے ہیں، ان میں حسد کا صحرا آباد ہوجاتا ہے، نفرت کا تالاب سمندر بن جاتا ہے، غیبت گوئی پہاڑ بن جاتی ہے۔

انسانوں کی بڑی تعداد اس صورت حال سے یہ مراد لیتی ہے کہ وہ اب پختہ کار ہوگئی ہے، سمجھ دار بن گئی ہے، صاحب ِنظر ہوگئی ہے۔ لیکن یہ منظرنامہ بتاتا ہے کہ انسان بڑا نہیں ہوا بلکہ اس کی باطنی موت واقع ہوگئی ہے اور اس کا بچپن گم ہوکر رہ گیا ہے۔ وہ بچپن جس کے ہونے سے انسان، انسان تھا۔ جس کی موجودگی زندگی کی علامت تھی۔ جس کا ہونا اس معصومیت کا استعارہ تھا جو انسان کو اشرف المخلوقات کہلواتا ہے۔

مذہب کو دیکھنے کے کئی زاویے ہیں۔ ایک زاویہ یہ ہے کہ مذہب انسان کو بندہ بناتا ہے اور اسے اس کے خالق، مالک اور رازق سے جوڑ دیتا ہے۔ مذہب کو دیکھنے کا ایک زاویہ یہ ہے کہ مذہب انسان کو اپنے جیسے انسانوں سے محبت کرنا، ان کے لیے قربانی دینا اور ایثار کرنا سکھاتا ہے۔ مذہب کو دیکھنے کا ایک تناظر یہ ہے کہ مذہب ’’بڑوں‘‘ کو ایک بار پھر ’’بچہ‘‘ بناتا ہے۔ انہیں ان کے ظاہری اور باطنی عیوب سے پاک کرتا ہے۔ انہیں ان کی کھوئی ہوئی معصومیت لوٹاتا ہے۔ ہماری دنیا کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ اس میں بچے ’’کمیاب‘‘ ہوگئے ہیں اور بڑوں کی ’’فراوانی‘‘ ہوگئی ہے۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی معصوم ہوتے ہیں۔ نبی کی معصومیت کے تین پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نبی کی زبان پر حق جاری کردیتے ہیں۔

نبی کی معصومیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ نبی کا نفس تزکیے کی بلند ترین سطح کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن نبی کی معصومیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نبی کا بچپن کبھی زائل نہیں ہوتا۔

بچپن میں حضرت موسیٰؑ کے بارے میں جب فرعون کو شبہ ہوا کہ یہ بنی اسرائیل کا وہی بچہ ہے جس سے مجھے خطرہ لاحق ہے تو اس نے حضرت موسیٰؑ کا امتحان لیا۔ اس نے حضرت موسیٰؑ کے سامنے انگارا اور ہیرا رکھا اور کہا کہ اگر یہ خاص بچہ ہے تو یہ انگارے کے بجائے ہیرا اٹھائے گا، مگر حضرت موسیٰؑ نے ہیرے کے بجائے انگارا اٹھا لیا۔

اس واقعہ کی ایک تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے ذریعے حضرت موسیٰؑ کی حفاظت کا بندوبست کیا۔ لیکن اس واقعہ کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ حضرت موسیٰؑ نبی ہونے کے باوجود بچے ہی تھے اور ان کا عمل بچے کی فطرت کے عین مطابق تھا۔ انگارا ہیرے سے زیادہ متوجہ کرنے والا تھا چنانچہ حضرت موسیٰؑ اسی کی طرف راغب ہوئے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیلؑ کو پورے افق پر چھائے ہوئے دیکھا اور خوف محسوس کیا، اور گھر تشریف لاکر حضرت خدیجہؓ سے کہا کہ مجھے چادر اوڑھا دو۔ اس موقع پر حضرت خدیجہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح تالیف ِقلب کی جس طرح کوئی بڑا بچے کی تالیف ِقلب کرتا ہے۔

ایک بہت کمتر درجے پر صوفی کا معاملہ بھی یہی ہوتا ہے۔ اگر صوفی کے بارے میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ صوفی ایک اعتبار سے ایک بڑا سا بچہ ہوتا ہے۔

بچوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مجسم طلب ہوتے ہیں، وہ غبارہ مانگتے ہیں تو اس طرح جیسے غبارہ نہ مانگ رہے ہوں پوری کائنات مانگ رہے ہوں۔

بڑوں کا مسئلہ اس کے برعکس یہ ہوتا ہے کہ وہ کائنات بھی اتنی بے دلی سے مانگتے ہیں جیسے غبارہ طلب کررہے ہوں۔ بچوں کی طلب میں ان کا دل، ان کا ذہن، ان کی روح، ان کا جذبہ، ان کا احساس غرضیکہ ان کا پورا وجود شریک ہوجاتا ہے۔ لوگ اکثر اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ بچے اپنی ہر خواہش پوری کرالیتے ہیں، لیکن وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سراپا تمنا بن جاتے ہیں، اور ان کے سراپا تمنا بن جانے سے ان کی طلب میں غیر معمولی اثر پیدا ہوجاتا ہے۔

بڑے کسی چیز کی خواہش کرتے ہیں تو مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا دل اس چیز کی طرف مائل ہوتا ہے مگر ان کا ذہن ان کی طلب میں شریک نہیں ہوتا۔ بچوں کی عرضِ تمنا سے بڑے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

مثلاً یہ بات کہ دعا کس طرح مانگی جاتی ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ مانگنے والا کتنے خلوص، کتنی گہرائی، کتنی شدت اور کتنے تواتر کے ساتھ کوئی شے مانگ رہا ہے۔

اکثر بڑوں کی بیشتر دعائیں اس طرح ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ دے دے تو ٹھیک، نہ دے تو بھی ٹھیک۔ لیکن بچے اپنی طلب کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنادیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ غبارہ مل گیا تو پوری کائنات مل گئی اور غبارہ نہ ملا تو گویا پوری کائنات ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ بچوں کے لیے ان کی طلب کسی قیمت سے نہیں، ان کے دل کے تقاضے سے متعلق ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک غبارہ بھی ان کی تمنا کی شدت سے کھربوں روپے کی چیز نظر آنے لگتا ہے۔

بچوں اور بڑوں کا ایک فرق یہ ہے کہ بچے کھیل کو زندگی بنا دیتے ہیں اور بڑے زندگی کو بھی کھیل میں تبدیل کردیتے ہیں۔ اکثر بڑے اس بات پر ناراض ہوتے ہیں کہ بچے کھیلتے بہت ہیں، یہاں تک کہ وہ صبح سے شام تک بھی کھیلتے رہیں تو تھکتے نہیں۔ مگر لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

بچے کھیل کو زندگی بنانے اور تھکن سے دور رہنے میں اس لیے کامیاب رہتے ہیں کہ وہ کھیل جیسی چیز میں بھی معنی پیدا کرلیتے ہیں۔ انسان کی ساخت ایسی ہے کہ وہ جس چیز میں معنی پیدا کرلیتا ہے اس سے نہ کبھی اکتاتا ہے نہ کبھی تھکتا ہے۔ بڑے بظاہر بہت بامعنی کام سے بھی اس لیے تھک جاتے ہیں کہ ان کے لیے اس کام میں کوئی معنی باتی نہیں رہتے۔

بچوں کے کھیل سے نہ تھکنے کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ کھیل جذبے کے ساتھ کھیلتے ہیں، اور بڑے اکثر کام جذبے کے بجائے عقل کے زیراثر کرتے ہیں۔ بچے کھیل میں اس لیے بھی دلچسپی لیتے ہیں اور اس سے اس لیے نہیں تھکتے کہ وہ کھیل لطف اندوز ہونے یا Enjoy کرنے کے لیے کھیلتے ہیں، اور بڑے زندگی سے بھی اس لیے تھک جاتے ہیں کہ وہ زندگی سے لطف اندوز ہونے کی اہلیت کھو دیتے ہیں یا اس اہلیت میں ہولناک حد تک کمی واقعی ہوجاتی ہے۔

انسان کی سب سے بڑی متاع اور قوت محبت کرنے کی صلاحیت ہے، اور انسان اُس وقت تک سچی محبت نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ معاف کرنے کی اہلیت کا حامل نہ ہو… اور حقیقی معافی وہ ہے جو انسانی تعلق کو وہیں سے استوار کرے جہاں سے اس میںرخنہ پڑا تھا۔

اکثر بڑوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ معاف کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں اور وہ معاف بھی کرتے ہیں تو تعلق میں ایک کمی بہرحال در آتی ہے۔

بچوں کا کمال یہ ہے کہ وہ دل سے معاف کرنے والے ہوتے ہیں، اور وہ جھگڑے کے بعد تعلق کو اسی سطح پر دوبارہ بحال کرلیتے ہیں جس سطح پر وہ جھگڑے سے پہلے تھا۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچوں کی لڑائی بڑوں کو باہم متصادم کردیتی ہے۔ بڑے لڑ پڑتے ہیں لیکن بچے ایک لمحے میں لڑائی بھول کر ایک ساتھ کھیلنے لگتے ہیں۔ بچوں کی یہ محبت اور معاف کرنے کی اہلیت ان کی شخصیت کے انا مرکز یا Ego-centric نہ ہونے سے برآمد ہوتی ہے۔

ہماری چھوٹی بیٹی نے ایک دن ہم سے کہا کہ آپ نے ہمیں بچپن میں انبیاء کے قصے سنائے۔ ان قصوں میں طرح طرح کے معجزے تھے اور معجزے محیرالعقول ہوتے ہیں، مگر ہم نے کبھی آپ سے یہ نہیں پوچھا کہ ایسا کیونکر ہوا۔ آپ نے ہمیں جو بتادیا ہم نے اس پر سو فیصد یقین کر لیا۔

اکثر بچوں میں یقین کی یہ صلاحیت ہوتی ہے اور ان کا یقین ان کی تفہیم کی صلاحیت کو بہت بڑھا دیتا ہے۔ لیکن ہمارے زمانے تک آتے آتے بچوں میں یقین کی اہلیت کمزور پڑی ہے، مگر اس کے ذمے دار بچے نہیں بڑے ہیں۔ بڑوں نے بچوں کے مجموعی ماحول میں تذبذب، بے یقینی اور شک کو داخل کردیا ہے۔

چنانچہ پروین شاکر نے کہا ہے ؎
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

بہت سے لوگ ’’چالاک‘‘ اور ’’ذہین‘‘ کو ہم معنی سمجھتے ہیں، مگر چالاکی ذہن کی نارسائی اور ذہانت ذہن کی رسائی کا نام ہے۔ جو جتنا بچہ ہے وہ اتنا ذہین ہے، اور جو جتنا بڑا ہے اتنا چالاک ہے۔
Enhanced by Zemanta

Comment on this post