Growing World Poverty and Industrialized world

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

صرف ایک بین الاقوامی موبائل کمپنی کے عہدیداروں کے زیراستعمال گاڑیاں فروخت کرنے سے جو رقم حاصل ہوگی، اُس سے روانڈا، برونڈی اور ایتھوپیا کا قحط دُور ہوسکتا ہے۔

دنیا کی دس بڑی کمپنیاں اپنے دفتروں میں سالانہ جتنی اسٹیشنری استعمال کرتی ہیں اس کی مالیت دنیا کے پندرہ غریب ملکوں کے تعلیمی بجٹ کے برابر ہے۔

جاپان میں ہر سال 35 ارب ڈالر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مہمانوں کی خاطر تواضع پر خرچ کیے جاتے ہیں، یہ دنیا کی صحت کے کل بجٹ کی ایک چوتھائی رقم ہے۔
...

شراب بنانے والی محض چار کمپنیاں اپنے منافع سے دنیا کے تمام نشئی افراد کا علاج کرسکتی ہیں۔ صرف ایک ملٹی نیشنل کمپنی چاہے تو دنیا بھر کی بارودی سرنگیں صاف کی جاسکتی ہیں۔

صرف ایک کمپنی پوری دنیا کے معذوروں کو مصنوعی اعضاء بنا کر دے سکتی ہے۔ ایک کمپنی اگر اپنا ایک سال کا منافع دنیا بھر میں تقسیم کردے تو ہر شخص کو ایک کار مفت فراہم ہوسکے گی!

اس طرز کی معلومات کا سمجھیے کہ ایک دفتر موجود ہے، جس میں سے ہم نے آپ کے سامنے صرف ایک جھلک ہی پیش کی ہے!

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملٹی نیشنل کمپنیز ایسا کریں گی؟

کیا وہ دنیا سے غربت، بھوک، افلاس اور بیماریوں کے خاتمے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوں گی؟

اور دنیا کیا واقعی جنت کا ایک نمونہ بن جائے گی؟

جی نہیں!

ایسا ہرگز نہیں ہوگا!

اس لیے کہ سرمایہ پرستوں کی طرزِ فکر تو یہ ہے کہ غریبوں کے ہاتھ سے لقمہ بھی چھین لیا جائے!

دنیا کو عالمی گاؤں کے طور پر متعارف کرانا اور WTO کے قوانین کا نفاذ کا مقصد یہی ہے کہ وسائل پر عالمی سطح کے سرمایہ داروں کی مکمل اجارہ داری قائم ہوجائے، مزید یہ کہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے تہذیبی تصادم کا شوشہ بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔ درحقیقت تہذیبی تصادم ملٹی نیشنلزکا اسپانسرڈ پروگرام ہے، جو بہت باریک بینی کے ساتھ اور برسوں کی سوچ بچار کے بعد تشکیل دیا گیا۔

جمییل خان
 
Growing World Poverty and Industrialized world
 
Enhanced by Zemanta

Comment on this post