محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ




محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے
زمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے

ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں
کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے...

انہیں اپنا نہیں سکتا، مگر اتنا بھی کیا کم ہے
کہ کچھ مدت حسیں خوابوں میں کھو کر جی لیا میں نے

بس اب تو دامنِ دل چھوڑ دو بیکار امیدو!
بہت دکھ سہہ لیے میں نے بہت دن جی لیا میں نے

Enhanced by Zemanta

Comment on this post