جدا ہونے کے صدمے کو

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

جدا ہونے کے صدمے کو
اگرچہ ہنس کے سہنا تھا
اسے رسمی ہی سہی لیکن
خدا حافظ تو کہنا تھا
زبان میں اتنی طاقت تھی
لیکن صحرا کی وحشت تھی
میری بچپن سے عادت تھی
مجھے خاموش رہنا تھا
وہ کچا گھر وہ بارش میں
ہماری جاگتی آنکھیں
ہمیں جاتی ہوئی برکھا سے
کچھ بہ کچھ تو کہنا تھا
ہم رسم وفا اس سے
نبھاتے بھی کہاں تک
ہمارے خواب کے گھر تھے
ہمیں تو ان میں ہی رہنا تھا

Enhanced by Zemanta

Published on Urdu Peotry, Urdu, Pakistan, Karachi

Comment on this post