سیاست میں طبقاتی فکر کی ناکامی، نظریاتی فکر کی ضرورت

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 

(شاھنواز فاروقی) 


پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور نظریۂ پاکستان طبقاتی فکر کیا تاریخ اور تہذیب سے بھی بلند تھا، اس لیے کہ ہماری تاریخ اور تہذیب خود اس نظریے کا حاصل تھیں۔

تاہم ایک نظریاتی ریاست کی سیاست قائداعظم اور لیاقت علی خان کے فوراً بعد طبقاتی فکر کی گرفت میں آگئی۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو اس فکر کے اظہار کا آغاز قائداعظم کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا۔

قائداعظم کی زندگی کا مشہور واقعہ ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد انہیں فوجی میس میں عشائیے پر مدعو کیا گیا۔ قائداعظم میس پہنچے تو کھانے سے قبل غیر رسمی تبادلہ خیال کی محفل برپا ہوگئی۔

محفل میں موجود فوج کے ایک سینئر اہلکار نے قائداعظم سے کہا کہ آپ نے جنرل گریسی کو فوج کا سپہ سالار مقرر کردیا ہے، آپ اس سلسلے میں ہم سے مشورہ کرلیتے تو کوئی مقامی شخص بھی اس عہدے پر فائز ہوسکتا تھا۔ راویانِ روایت کا کہنا ہے کہ یہ سنتے ہی قائداعظم کا "Mood" تبدیل ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی معاملات کو دیکھنا اور فیصلے کرنا سول قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اگر آپ کے خیالات کی نوعیت یہ ہے تو آپ ازراہِ کرم برٹش آرمی سے پاکستان کی فوج میں منتقل ہونے کی کوشش نہ کریں۔

قائداعظم نے یہ کہا اور رات کا کھانا تناول کیے بغیر فوجی میس سے رخصت ہوگئے۔ اس واقعے میں پاکستان کے مستقبل کی جھلک دیکھی جاسکتی تھی۔ بدقسمتی سے قائداعظم کے انتقال کے بعد وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔

جنرل ایوب نے اگرچہ 1958ء میں مارشل لا لگایا مگر امریکہ کی عام ہوجانے والی خفیہ دستاویزات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ جنرل ایوب 1954ء سے امریکہ کے رابطے میں تھے اور وہ امریکہ کی اعلیٰ قیادت کو تواتر کے ساتھ یہ باور کرا رہے تھے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت نااہل ہے اور پاکستان کا اصل ادارہ فوج ہے، اور فوج کی اعلیٰ قیادت سیاست دانوں کو ملک تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

جنرل ایوب کے ان خیالات سے ظاہر تھا کہ وہ فوج کو ایک ادارے کے بجائے ایک طبقے کے طور پردیکھ رہے تھے۔ یہ تاریخی اعتبار سے ایک غیر تاریخی اور غیر تہذیبی بات تھی۔ کیونکہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں فوج کا کوئی کردار ہی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود جنرل ایوب بہ زعم خود پاکستانی قوم پرستی کی علامت بن کر سامنے آرہے تھے۔

فوج ملک کا سب سے منظم، تعلیم یافتہ اور پُرقوت ادارہ تھی اور اس بات کو پاکستان کی طاقت ہونا چاہیے تھا، لیکن پاکستان کے جرنیلوں نے فوج کی طاقت کو قوم کی سب سے بڑی کمزوری بنادیا۔

جنرل ایوب نے 1958ء میں مارشل لا لگایا تو انہوں نے سیاست دانوں کی نااہلی اور عدم استحکام کو مارشل لا کی بنیاد بتایا، لیکن جنرل ایوب تقریباً دس سال ملک پر حکمرانی کے بعد رخصت ہوئے تو پاکستان کا حکمران طبقہ پہلے سے زیادہ نااہل نظر آرہا تھا اور ملک کا سیاسی عدم استحکام پہلے سے بڑھا ہوا تھا۔

جنرل ایوب کے پیدا کردہ سیاسی خلا کا یہ عالم تھا کہ وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو کوئی سیاسی یا آئینی ادارہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے موجود نہ تھا۔ چنانچہ جنرل ایوب ایک اور جرنیل یحییٰ خان کو ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا کر گئے۔

لیکن نئی فوجی قیادت پرانی فوجی قیادت سے زیادہ نااہل ثابت ہوئی اور اس نے صرف تین برس میں ملک کو دو ٹکڑے کردیا۔

لیکن فوج کی طبقاتی سوچ پر اس سانحے کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور قوم نے جنرل یحییٰ کے بعد جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف کے مارشل لا بھی بھگتے۔

جنرل یحییٰ نے مشرقی پاکستان کو الگ کیا، جنرل ضیاء الحق کے فوجی آپریشن نے دیہی سندھ کو علیحدگی کی طرف دھکیل دیا تھا، اور جنرل پرویزمشرف نے بلوچستان کو آتش فشاں بنادیا۔ یہ منظرنامہ جرنیلوں کی طبقاتی سوچ کی مکمل ناکامی کی تصویر ہے۔

سوشلزم 20 ویں صدی کا ایک سیاسی اور معاشی رومانس تھا اور بھٹو صاحب کی شخصیت اس رومانس کی علامت تھی۔ اس علامت میں بائیں بازو کے خیالات کی جھلک تھی، معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی آرزوئوں کے رنگ تھے۔

عام خیال تھا کہ بھٹو صاحب کی طبقاتی فکر کا زاویۂ نگاہ ملک و قوم کی تقدیر بدل دے گا۔ لیکن بھٹو صاحب نے سوشلزم کو سوشلزم نہ رہنے دیا۔ انہوں نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ ایجاد کیا۔ حالانکہ اسلام سوشلزم اور سوشلزم اسلام کی ضد تھا۔

تیسرا تضاد خود بھٹو صاحب کی شخصیت کا جاگیردارانہ پس منظر تھا۔ چنانچہ بھٹو صاحب کی سیاست چوں چوں کا مربہ بن کر رہ گئی۔ اس سیاست سے بھٹو صاحب، ان کے خاندان اور پیپلزپارٹی کو بہت فائدہ ہوا لیکن اس سے نہ معاشرے کے کمزور طبقات کی کوئی خاص مدد ہوئی اور نہ ملک اور معاشرے کو کوئی فائدہ پہنچا۔ چنانچہ بھٹو صاحب کی طبقاتی سیاست اُن کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔

بھٹو صاحب کے بعد پیپلزپارٹی نے جو سیاست کی اُس کا طبقاتی زاویۂ نگاہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس کی سیاست کا لب لباب کسی نہ کسی طرح اقتدار میں آنا اور اقتدار میں رہنا تھا۔ اس سیاست نے پیپلزپارٹی کو سیاسی اعتبار سے لب ِگور پہنچا دیا ہے۔

پاکستان کی سیاست میں 1970ء کے بعد اس خیال کو بڑی توجہ حاصل ہوئی کہ پاکستان کی سیاست کو جرنیلوں اور جاگیرداروں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی مسائل کا واحد حل متوسط طبقے کی سیاست اور قیادت ہے۔

بلاشبہ اس خیال میں بڑی صداقت تھی کہ پاکستان کی سیاست کو جرنیلوں اور جاگیرداروں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے، لیکن متوسط طبقہ سیاست سے یکسر باہر نہ تھا۔ ملک کی مذہبی جماعتوں کی قیادت متوسط طبقے کے ہاتھ میں تھی اور دوسری جماعتوں میں بھی اس کی کچھ نہ کچھ نمائندگی تھی۔

لیکن ملک کے مخصوص حالات کی وجہ سے متوسط طبقے کی قیادت کا نعرہ فضا میں بلند ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کے ظہور اور عروج کا تجربہ سامنے آگیا۔ ایم کیو ایم کی ساری قیادت شہری علاقوں سے تعلق رکھتی تھی اور اس قیادت کے اکثر لوگ معروف معنوں میں متوسط طبقے سے متعلق تھے۔ لیکن ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں شہری علاقوں کے سب سے بڑے سیاسی جاگیردار بن کر سامنے آگئے۔

جاگیردار کوئی اصطلاح نہیں ہے بلکہ یہ ایک تصور ہے، اور اپنی طاقت، جبر اور مخصوص ہتھکنڈوں کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے۔ لیکن یہ صورتِ حال بھی غنیمت تھی۔ اس لیے کہ اس کے بعد ایم کیو ایم ایک سیاسی مافیا میں تبدیل ہوگئی اور الطاف حسین مافیا کے چیف نظر آنے لگے۔ یہاں تک کہ ایم کیو ایم نے اُن نعروں کو بھی ترک کردیا جن کی بنیاد پر وہ وجود میں آئی تھی اور جن کے سبب اسے شہری سندھ میں غیرمعمولی انتخابی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

میاں نوازشریف قومی سیاست میں داخل ہوئے تو اُن کے حامیوں نے اُن کے بارے میں جس خیال کو تواتر کے ساتھ آگے بڑھایا وہ یہ تھا کہ میاں صاحب مذہبی بھی ہیں اور تاجر پیشہ بھی، چنانچہ وہ ایک نیا پاکستان تخلیق کرکے دکھا سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں یہ مثال بھی دی جاتی کہ تجارت میں ان کے خاندان کی غیرمعمولی کامیابی ملک کے لیے ایک اچھا شگون ہے، میاں صاحب کو اقتدار ملے گا تو وہ ملک کو بھی اتفاق فائونڈری کی طرح ترقی یافتہ بناکر دکھا دیں گے۔

لیکن میاں صاحب بے پناہ سیاسی کامیابی کے باوجود کچھ نہ کرسکے۔ جب جنرل پرویز مشرف نے میاں صاحب کا تختہ الٹا تو ان کے پاس مشہورِ زمانہ ’’بھاری مینڈیٹ‘‘ تھا، لیکن یہ بھاری مینڈیٹ ’’ہلکا مینڈیٹ‘‘ بھی ثابت نہ ہوسکا اور میاں صاحب ایک سمجھوتے کے تحت جان بچاکر ملک سے فرار ہوگئے۔

میاں صاحب کو تین بار اقتدار ملا مگر ایک بار بھی وہ تاجر طبقے کے زاویۂ نگاہ کے نمائندے بن کر سامنے نہ آسکے، اور نہ ان کے دور میں صنعت و تجارت کو کوئی خاص فروغ حاصل ہوسکا۔

یعنی طبقاتی فکر اس دائرے میں بھی بری طرح ناکام ہوئی۔ تجزیہ کیا جائے تو اصل بات یہ ہے کہ ملک کا مسئلہ حکمرانوں کا فوجی یا سول ہونا نہیں، ان کا کمزور طبقات یا تاجروں کا نمائندہ ہونا نہیں، اور نہ ہی اس بات کی کوئی خاص اہمیت ہے کہ قیادت کے منصب پر متوسط طبقے کا کوئی فرد فائز ہے یا نہیں۔

بلکہ ملک و قوم کی اصل ضرورت نظریاتی زاویۂ نگاہ یا اخلاقی نقطہ نظر ہے۔ یہ زاویۂ نگاہ بتاتا ہے کہ زندگی میں اصل چیز خدا خوفی، کردار اور صلاحیت ہے۔ علم و فضل ہے۔ قیادت میں یہ خوبیاں ہوں تو اس کا تعلق کسی بھی نسل، کسی بھی زبان اور کسی بھی صوبے سے ہوسکتا ہے۔

قائداعظم کے پاس سب سے بڑی طاقت ان کے کردار اور علم و ذہانت کی تھی۔ ان صلاحیتوں نے کبھی ان کے خاندانی پس منظر، ان کے لباس، مسلک اور بودوباش کو مسئلہ نہیں بننے دیا۔ قائداعظم میں یہ خوبیاں نہ ہوتیں تو ان کی ہر چیز پر تنازع برپا ہوتا اور شاید وہ برصغیر کی ملت ِاسلامیہ کے قائد ہی نہ بنتے۔

نظریاتی اور اخلاقی زاویہ نگاہ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کو اختیار کرتے ہی آپ اپنی پوری مذہبی روایت سے منسلک ہوجاتے ہیں، اپنی تہذیب اوراپنی تاریخ سے متعلق ہوجاتے ہیں اور ان کی کمک آپ کو فراہم ہونے لگتی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ قائداعظم کی آواز میں ہمیں اپنی پوری مذہبی روایت، تاریخ اور تہذیب کی گونج سنائی دیتی تھی۔

نظریاتی اور اخلاقی تناظر کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ آپ کو آپ کے تمام تعصبات سے بلند ہوکر سوچنے اور عمل کرنے پر مائل کرسکتا ہے۔

نظریاتی اور اخلاقی تناظر کی ایک قوت اور اس کا ایک جمالیاتی پہلو یہ ہے کہ یہ زاویۂ نگاہ انسانوں کو دوسروں کے گریبانوں کے بجائے اپنے گریبانوں میں جھانکے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ طرزفکر انسانوں کو اپنے محاسبے کی طرف مائل کرتا ہے اور دوسرے انسانوں کے لیے رعایتیں فراہم کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔

غور کیا جائے تو اس وقت ہمارے معاشرے کی عمومی صورت حال اس کے برعکس یہ ہے کہ ہم اپنے سوا سب کا محاسبہ کررہے ہیں اور معاشرے کے ہر طبقے کا خیال ہے کہ وہ تو ٹھیک ہے، خرابی معاشرے کے دوسرے طبقات میں ہے۔

Comment on this post