دہشت گردی کی روک تھام کانیا قانون: ایک جائزہ....پروفیسر خورشید احمد

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


دہشت گردی کی روک تھام کانیا قانون: ایک جائزہ....پروفیسر خورشید احمد
’دہشت گردی‘ کی جس آگ میں ملک گزشتہ 12سال سے جل رہا ہے، اس سے نجات ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ بدقسمتی سے یہ مسئلہ مختلف وجوہ سے پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خود ’دہشت گردی‘ کی نوعیت کو سمجھنے میں بڑا ذہنی انتشار ہے جسے بیرونی طاقتوں اور خصوصیت سے امریکہ کے کردار اور مفادات نے اور بھی اُلجھا دیا ہے۔ ملک میں برپا دہشت گردی کے ایک بڑے حصے کا تعلق امریکہ کی افغانستان میں برپا نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس میں پاکستان کی جونیئر پارٹنر کے طور پر شرکت سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا اور مسئلے کے سیاسی حل کے بغیر عسکریت کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اس میں کچھ دوسرے عناصر اور قوتیں بھی شریک ہیں اور ان میں بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے تخریب کاروں اور پیشہ ور مجرموں، سب کا کردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ہمہ جہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کی چھتری تلے ہرہرنوعیت کی دہشت گردی کا اس انداز میں مقابلہ کیا جاسکے جس کا وہ تقاضا کرتی ہے۔
ان حالات میں 9ستمبر 2013ء کی کُل جماعتی کانفرنس نے متفقہ طور پر جو رہنمائی فراہم کی ہے، وہ بڑی حقیقت پسندانہ ہے مگر حکومت نے اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے آج تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی ہے، جب کہ مخالف قوتیں اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی سبوتاژ کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے گماشتوں کا کردار ہے جو فکری اور عملی، دونوں محاذوں پر سیاسی عمل کو پٹڑی سے اُتارنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف کچھ عسکریت پسند گروہ بھی حالات کو بگاڑنے کے لئے بڑی چابک دستی کے ساتھ تباہ کاریوں اور خون خرابے میں سرگرم ہیں۔ ادھر حکومت کا یہ حال ہے کہ وہ اس خطرناک کھیل کا مقابلہ کرنے کے لئے پورے شعور اور زمینی حالات کے ادراک کے ساتھ ایک فعال پالیسی اختیار کرنے کے بجائے گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہے۔
ان حالات میں ایک طرف وزیراعظم صاحب امریکہ تشریف لے گئے۔ دوسری طرف ان کی حکومت نے 15دن کے اندر دو آرڈیننس نافذ فرمائے ہیں۔ جن میں سے ایک کے ذریعے 1979ء کے دہشت گردی کے خلاف قانون میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ دوسرے نئے آرڈیننس کا عنوان ہے’’تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013ء‘‘۔ اس کا ہدف حکومت کی رٹ قائم کرنا اور ان عناصر کی سرکوبی کرنا ہے جن کو ملک دشمن تصور کیا جائے۔دہشت گردی کے حوالے سے جو بھی قوانین ملک میں رائج ہیں، ان پر ضرورت کے مطابق نظرثانی کوئی معیوب شے نہیں لیکن تین چیزیں ایسی ہیں جو تشویش کا باعث ہیں اور بڑے بڑے سوالیہ نشان اُٹھا رہی ہیں:
1۔ان قوانین کے نفاذ کا وقت ۔
2۔دستور اور جمہوری روایات کے مطابق پارلیمینٹ کے ذریعے قانون سازی کا راستہ ترک کرکے 15 دن میں تابڑتوڑ دو آرڈیننسوں کے ذریعے ان کا نفاذ۔
3۔ ان قوانین میں دستور میں طے کردہ اصولوں اور حدود کی نزاکتوں کو نظرانداز کرکے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے افراد اور اداروں کے لئے ایسے بے قید اختیارات کا حصول جو بنیادی حقوق اور دستور کی دفعہ 10 (الف) میں ضمانت دیئے ہوئے due process of law (ضروری قانونی عمل) کے حق سے ہم آہنگ نہیں۔ ان تینوں نکات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ 10؍اکتوبر اور 20؍اکتوبر 2013ء کو نافذ کئے جانے والے دونوں آرڈیننسوں میں جو اختیارات حاصل کئے گئے ہیں اور نظامِ عدل اور قانون کا جو نقشہ ان کے تحت بنتا ہے، اسے سمجھ لیا جائے۔
’تحفظ پاکستان آرڈیننس‘ کے تحت رنگ، نسل، قومیت یا مذہب سے قطع نظر خوف و ہراس پھیلانے اور دہشت گردی کے مرتکب یا اس کا قصد کرنے والے افراد کو ریاست کا دشمن قرار دیا گیا ہے۔ایسے افراد کو محض سرکاری اطلاعات کی بنیاد پر گرفتار کیا جاسکتا ہے اور تین مہینے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات میں سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے تعاون کر سکیں گے اور گمان غالب کی بنیاد پر بھی کارروائی ہوسکے گی، نیز قانون نافذ کرنے والے افراد کو وارنٹ کے بغیر تلاشی اور ہرمقام تک رسائی کا اختیار حاصل ہو گا اور مزاحمت کی شکل میں یا اس کے خدشے کی صورت میں بھی قوت کے استعمال کا استحقاق ہو گا پھر جن پر جرم ثابت ہو، ان کو کڑی سزا دی جاسکے گی جو کم از کم 10سال قید پر مشتمل ہوگی۔ سنگین مجرموں کے لئے خصوصی جیلیں بنیں گی۔ مخصوص جرائم کے مقدمات کے جلد اندراج اور فوری تحقیقات کے لئے الگ تھانے ہوں گے اور آرڈیننس کی دفعہ 37 کے تحت ان مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی وفاقی عدالتیں تک قائم کی جائیں گی۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ سول اور فوجی اہل کاروں کو اپنے فرائض کی بجاآوری میں آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہو گا اور احتساب اور نگرانی کا کوئی نظام اس نئے قانون کا حصہ نہیں ہے۔’تحفظ پاکستان آرڈیننس‘ سے 10 دن پہلے جو آرڈیننس’ اینٹی ٹیررزم ایکٹ‘ میں بنیادی ترامیم کے لئے نافذ کیا گیا تھا اس کے تحت گواہوں کو اور عدلیہ کو خصوصی تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور نئی ٹیکنالوجی کو تفتیش کے لئے استعمال کرنے کا دروازہ کھول دیا گیا ہے جس میں وڈیو ٹیپس اور فرانزک شواہد کو بطور شہادت استعمال کرنا شامل ہے۔ اسی طرح وڈیو لنکس کے ذریعے مقدمات کی سماعت کی گنجائش پیدا کردی گئی ہے اور حکومت کو یہ اختیار بھی دے دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے کسی بھی علاقے میں درج دہشت گردی کے کسی بھی مقدمے کو ملک کی کسی بھی عدالت میں منتقل کرسکتی ہے۔بلاشبہ دہشت گردی اور اس کی مختلف شکلوں سے نمٹنے کے لئے قانون کا مؤثر ہونا اور قانون نافذ کرنے والوں، گواہی دینے والوں اور عدلیہ کو معقول اور قرار واقعی تحفظ حاصل ہونا چاہئے لیکن جتنا یہ پہلو اہم ہے اتنا ہی اہم یہ پہلو بھی ہے کہ تمام انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور قانون کے تحت مکمل انصاف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور قانون کے غلط استعمال کے ہر دروازے کو بند کردیا جائے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ایک گھنائونا جرم ہے لیکن دہشت گردی اور خوف و ہراس پھیلانے کے نام پر ایک بھی معصوم انسان کا نشانہ بنایا جانا بھی اتنا ہی گھنائونا جرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مناسب تادیب و توازن کے بغیر اور ہر کسی کے لئے قانون کے اندر جواب دہی کے مؤثر نظام کے بغیر معاشرے میں نہ عدل قائم ہوسکتا ہے۔
یہ ضرورت اس وجہ سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہمارے ملک میں مسلسل بگاڑ کے باعث جس طرح عوام کے ایک حصے میں جرم کے رجحانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن افراد اور اداروں پر قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ہے، ان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو شتربے مہار بن گئے ہیں ۔ یہ ایک تکلیف دہ امر ہے کہ عوام دونوں طرف سے پس رہے ہیں، مجرموں کا بھی وہ نشانہ ہیں اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے افراد میں ایسے لوگ خاصی تعداد میں موجود ہیں جو آلۂ ظلم بن گئے ہیں اور عملاً اپنے کو قانون سے بالا تصور کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جس قسم کے غیر معمولی وسیع اختیارات ان آرڈیننسوں میں سرکاری اہل کاروں کو دیئے گئے ہیں، ان پر بہت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح خصوصی وفاقی عدالتوں کے قیام کا جو تصور ان میں دیا گیا ہے اور وفاقی نظام میں نئے پولیس اسٹیشنوں اور خصوصی جیلوں کے قیام کی بات کی گئی ہے، وہ اپنے اندر بڑے دُوررس مضمرات رکھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دو متوازی نظام ہاے عدل کے قائم ہونے کا خطرہ ہے جو دستور کے واضح ڈھانچے سے متصادم ہوگا۔
ان دونوں آرڈیننسوں کو دستور کی متعلقہ دفعات اور عدل و انصاف اور ہرفرد کے بنیادی حقوق اور حق دفاع کی دستوری ضمانتوں کی میزان پر پرکھنا ہوگا۔ نیز فیڈریشن کے مسلّمہ اصولوں اور خصوصیت سے اٹھارہویں ترمیم کے بعد جو نقشہ مرکز اور صوبوں کے اختیارات کا بنا ہے، اس کسوٹی پر بھی ان کو پرکھنا ہوگا۔ جلدبازی میں اور دہشت گردی کا ہوّا دکھا کر ایسی قانون سازی جو بنیادی حقوق سے متصادم ہو، جمہوریت اور اسلام دونوں کے مقاصد اور مزاج سے متصادم ہوگی۔’تحفظ پاکستان آرڈیننس‘ میں دہشت گردی کو قانون کے ذریعے ختم کرنے اور فوجداری قانون کے ذریعے اس کا مقابلہ کرکے معروف راستے سے ہٹ کر جارج بش اور امریکی انتظامیہ کے وضع کردہ War Paradigm (بہ مثل جنگ)کو بھی پہلی مرتبہ پاکستان کی کتابِ قانون میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جسے کسی شکل میں بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گردی ایک جرم ہے اور ایک جرم ہی کی حیثیت سے اس کا قلع قمع کیا جانا چاہئے۔ اسے جنگ قرار دے کر انتظامیہ کے لئے شتربے مہار بن جانے کے مواقع فراہم کرنا بے حد خطرناک ہے۔
اس آرڈیننس میں جس طرح دہشت گردی کو Waging of War against Pakistan کے انداز میں پیش کیا گیا ہے، وہ اپنے اندر بہت دُوررس مضمرات رکھتا ہے۔ اسی طرح قوت کے استعمال کے لیے ہونے والے جرم کے معقول خدشےکو کافی قرار دے دیا گیا ہے۔ قوت کے استعمال کا یہ اختیار بھی ماضی کے تجربات کی روشنی میں اپنے اندر بڑے خدشات لئے ہوئے ہے۔ بلاشبہ خاطر خواہ تنبیہ کی بات بھی کہی گئی ہے لیکن محض خدشے کی بنیاد پر قوت کا ایسا استعمال جس میں جان ضائع ہو جائے، ایک ایسا اختیار ہے جس کے غلط استعمال کا بڑا خطرہ ہے اور جو ظلم و زیادتی کا راستہ کھولنے کا باعث ہو سکتا ہے جیساکہ ’مقابلہ میں مارے جانے‘ کے نام پر ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح جہاں جرم کے ثبوت کے لئے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال مفید ہوسکتا ہے، وہیں یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ سرکاری اداروں کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ معاشرے کے تمام افراد کی نجی زندگی کو مجروح کرنے کے حربے استعمال کریں اور ٹیلی فون اور ای میل میں مداخلت کریں جس کے نتیجے میں ایک مہذب معاشرہ ایک پولیس اسٹیٹ بن جاتا ہے۔ فرد کی آزادی ایک سراب بن جاتی ہے۔اس سلسلے میں گذشتہ 12برسوں میں امریکہ نے جس طرح خود اپنے شہریوں اور دنیا کے دوسرے انسانوں، اداروں اور حکومتوں کے ڈھکے اور چھپے سب ہی معاملات تک پر جاسوسی کے ذرائع سے رسائی حاصل کی ہے اس نے خود مغربی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ ان دونوں آرڈیننسوں میں شہادت کے لئے جن چیزوں کو معتبر کہا گیا ہے اس سے یہاں بھی ایک غلامانہ ریاست کے قیام کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اُٹھانا ضروری ہے لیکن اس باب میں صحیح حدود کا تعین بھی ضروری ہے جس کا کوئی اشارہ ان قوانین میں نظر نہیں آتا۔ہم حکومت، پارلیمینٹ کے ارکان، وکلابرادری اور خصوصیت سے انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو دعوت دیتے ہیں کہ ان قوانین پر انسانی حقوق اور عدل اور قانون کی حکمرانی کے مسلّمہ اصولوں کی روشنی میں غور کریں اور محض طالبان دشمنی کے جذبے میں قانون میں ایسی چیزوں کو دَر آنے کا موقع نہ دیں جو معاشرے کی بنیادوں کو ہلا دیں اور جو ریاست کے اداروں کو حقوق کی پامالی کے لئے کھلی چھٹی دے دیں۔ یاد رہے کہ آج نشانہ جو بھی ہو، کل ہم میں سے ہر ایک بھی نشانے پر آسکتا ہے۔ اس وقت تو ہمارے وہ دوست جو اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں بڑے جوش سے کہہ رہے ہیں کہ ’’طالبان کو مارو اور بھسم کردو‘‘ لیکن ریاست کو مضبوط کرنے کے نام پر جو اختیارات ان اداروں کو آج آپ دے رہے ہیں، کل وہ کس کس کے خلاف اور کہاں کہاں استعمال ہوسکتے ہیں، اس سے خدارا صرفِ نظر نہ کریں۔ہم یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان دونوں قوانین کو آرڈیننس کے ذریعے ملک پر مسلط کرنے کی کیا ضرورت تھی۔توقع ہے کہ ایک ہفتے میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہونے والا ہے۔ ایسی کیا عجلت تھی کہ دو ہفتے کے عرصے میں دو آرڈیننس جاری کردیئے گئے اور ایک ہفتہ مزید انتظار نہیں کیا گیا کہ اسمبلی ان قوانین پر پوری طرح غوروخوض کرلیتی، کمیٹیوں میں ان پر تفصیلی بحث ہوسکتی۔ پریس اور پبلک دونوں ہی کے لوگ ان قوانین کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور اس طرح افہام و تفہیم اور بحث و مشاورت کے نتیجے میں پارلیمینٹ اور سول سوسائٹی کے تعاون سے مناسب قانون سازی کی جاسکتی

Enhanced by Zemanta

Comment on this post