ملالہ بغیر دستاویزات کے برطانیہ کیسے پہنچی؟

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 

 


ملالہ والا واقعہ ہوا ہے اس دن سے ہر طرف شور سا مچا ہوا ہے۔ کچھ مغربی ممالک کے گماشتے اس کی حمایت میں اور محب وطن حلقے اس کی مخالفت میں ہیں۔ وہ کون ہے اور کیا چاہتی ہے یہ تو زمینی حقائق سے معلوم ہو رہے ہیں۔ مغربی ممالک میں اس کی اتنی پذیرائی کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ یہود و نصاریٰ بھی کسی مسلمان کو اس طرح سپورٹ نہیں کرتے۔ ملالہ نے کرسٹینا لیمب سے کتاب لکھوائی جس کا نام ’’آئی ایم ملالہ‘‘ ہے۔ اس کتاب کو مغرب میں اتنی پذیرائی کیوں مل رہی ہے وہ آپ کو کتاب پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا۔ ابھی اس کا صرف ایک اقتباس پیش خدمت ہے ۔ پڑھ کر فیصلہ کر لیں کہ ملالہ کی حمایت کرنے والے حق پر ہیں یا اس کی مخالفت کرنے والے۔

یہ کتاب کے دو پیروں کا سادہ سا ترجمہ ہے۔ الفاظ کے انتخاب اور انداز بیاں ہی سے آپ کو انداز ہو جائے گا کہ ملالہ مغرب کی آنکھ کا تارہ کیوں بنی ہوئی ہے۔ اقتباس پڑھئے اور اس کے بعد مغربی ممالک کی امداد پر پاکستان میں پرورش پانے والے کئی سفیر اس کے بعد کیا کہتے ہیں۔ ’’ یہ کتاب سلمان رشدی کی شیطانی ہفوات تھی جسے بمبئی میں دکھایا گیا تھا، مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر اس کتاب کو گستاخانہ سمجھا اور اتنا ہنگامہ کھڑا کیا کہ لوگ کسی اور چیز پر کم ہی بات کرتے۔ عجیب بات یہ تھی کہ کسی نے کتاب کے بارے میں اس جانب توجہ ہی نہیں دی کہ یہ حقیقتاً پاکستان میں فروخت کے لئے تھی ہی نہیں لیکن اردو اخبارات میں ایک مولوی جو انٹیلی جنس سروس سے قریبی تعلق رکھتا تھا کی جانب سے متعدد مضامین میں کتاب کو نبی (بغیر صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھا) کی شان میں گستاخانہ قرار دیا گیا اور کہا گیاکہ مظاہرہ کرنا اچھے مسلمانوں پر فرض ہے۔ جلد ہی پاکستان بھر کے علماء نے کتاب کی مذمت شروع کر دی اور اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرنے لگے اور اشتعال انگیز مظاہرے کئے۔

سب سے پر تشدد مظاہرہ 12فروری 1989ء کو اسلام آباد میں ہوا۔ جہاں امریکن سنیٹر کے سامنے امریکی جھنڈے نذرِ آتش کئے گئے۔ حالانکہ رشدی اور اس کی کتاب کا ناشر برطانوی تھے۔ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی اور پانچ افراد مارے گئے۔ اس کتاب پر غصہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دیگر ملکوں میں بھی تھا۔ دو دن بعد ایران کے رہنما آیت اللہ خمینی نے رشدی کے قتل کا ایک فتویٰ صادر کیا۔ میرے والد کے کالج میں اس معاملے پر ایک زبردست مباحثہ ہوا۔ کئی طلبہ نے مطالبہ کیا کہ کتاب پر پابندی عائد کر دینی چاہیے اور اسے جلا دینا چاہیے اور فتویٰ درست ہے۔ میرے والد نے بھی کتاب کو اسلام کے حوالہ سے ناپسندیدہ قرار دیا۔ لیکن وہ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے کتاب پڑھیں اور پھر اس کا جواب کتاب سے کیوں نہ دیں۔ انہوں نے رائے دی۔ انہوں نے گرج دار آواز میں سوال کیا۔ ایسی آواز جس پر میرے دادا کو فخر ہو گا کہ کیا اسلام اتنا کمزور مذہب ہے کہ وہ اپنے خلاف لکھی گئی ایک کتاب کو بھی برداشت نہیں کر سکتا؟ تو یہ میرا اسلام نہیں‘‘۔

اقتباس آپ نے پڑھ لیا۔ اب فیصلہ بھی آپ ہی نے کرنا ہے۔ اقتباس کو پڑھنے کے بعد آپ ملالہ کے بارے میں رائے آسانی سے قائم کر سکتے ہیں۔

اب آپ کے سامنے ملالہ کا ایک دوسرا رخ بھی پیش کر رہاہوں۔ ملالہ کی کتاب میں پاکستان ، قائداعظمؒ اور اسلامی شعائر کے خلاف باتیں لکھنے پر قومی سوچ رکھنے والی تنظیموں نے ملالہ اور اس کے ساتھ حکومتِ برطانیہ ، حکومت امریکہ کو خود انہی کی عدالتوں میں طلب کرانے پر کام شروع کر دیا ہے۔ ملالہ کے معاملہ پر ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ملالہ کو امریکہ اور برطانیہ میں داخل کر کے ان حکومتوں نے خود اپنے امیگریشن قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے جس سے اس شبہ کو تقویت مل جاتی ہے کہ یہ ممالک ملالہ سے کوئی خاص کام کرانے کا اِرادہ رکھتے ہیں ، ورنہ تو یہ ممالک پاکستان کی کئی شخصیات کو بھی ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا کرتے ہیں۔

ان تنظیموں کے سربراہوں نے بتایا ہے کہ جب ملالہ پر گولی چلی تو وہ 12سال کی تھی اس عمر میں شناختی کارڈ نہیں بنتا ، پاسپورٹ تو دور کی بات ہے جو بیرون ملک جانے کے لئے ضروری ہے ۔ علاوہ ازیں پاسپورٹ کے فارم پر دستخط، انگوٹھے، ملالہ کی بے ہوشی میں کیسے لگائے گئے۔ علاوہ ازیں پاسپورٹ موجود ہو تو بھی ویزا لگنے میں وقت لگتا ہے۔ مگر ملالہ کو جس طرح ہنگامی بنیادوں پر خصوصی طیارے میں برطانیہ لے جایا گیا اس دوران معمولی کاغذات بھی تیار نہیں ہو سکتے تھے۔ پاسپورٹ وغیرہ کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ہزاروں پاکستانی کئی کئی ماہ سفارت خانوں کے باہر لائنوں میں لگے رہتے ہیں۔ مگر انہیں ویزہ نہیں ملتا۔ اس طرح ملالہ دنیا کی واحد شخصیت بن گئی ہے جو بغیر کاغذات کے برطانیہ جا پہنچی اور شہری بھی بن گئی جس کو امریکہ نے بھی تسلیم کر لیا۔ اور اپنے ہاں بلا لیا۔ قانونی ماہرین اس نقطے کو لے کر برطانیہ اور امریکہ میں قانونی ماہرین مشاورت میں مصروف ہیں اور جلد ہی اس معاملہ کو دونوں ملکوں کی عدالتوں میں اٹھانے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔

ملالہ کے بارے میں یہ بھی انکشاف ہو رہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی صوبہ خیبر پختونخوا کا بڑا حصہ اور افغانستان کے قریبی صوبے کو یکجا کر کے ایک بفر سٹیٹ بنانے کا اِرادہ رکھتا ہے اور اس نام نہاد بفر سٹیٹ کا وزیراعظم بنانے کے لئے ملالہ کو بین الاقوامی طور پر سپورٹ کیا جارہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کی بے خبری پر افسوس ہے کہ بلاول زرداری سمیت عمران خان، نواز شریف، اعتزاز احسن اور ہمارا میڈیا ہاؤس اس نادان لڑکی کو اتنے بڑے مقام پر پہنچانے کے لئے بین الاقوامی ایجنڈے کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔

کنور محمد دلشاد
بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

Enhanced by Zemanta

Comment on this post