مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ



ایک رپورٹ کے مطابق جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز جو 11 ستمبر 2001ء کو جی ایچ کیو کا حصہ تھے اور اُن کا شمار پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا، حال ہی میں ان کی شائع ہونے والی ایک کتاب کو ارباب دانش و بینش کے ہاں پذیرائی مل رہی ہے۔ کتاب میں انہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے غیر جمہوری اقدامات اور 2001ء میں امریکی جنگ میں اتحادی بننے کے غیر حکیمانہ فیصلے کا بھرپور محاکمہ کیا ہے۔
جنرل (ر) شاہد عزیز نے پاکستان کے جید اور مستند مذہبی سکالر ریٹائرڈ جسٹس مفتی تقی عثمانی کے نام لکھے گئے خط میں 4 سوالات پوچھے۔مفتی تقی عثمانی کا شمار عالم اسلام کے جید اور ثقہ علماء میں ہوتا ہے۔ ان کے خانوادے کی قیام پاکستان کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ جدید و قدیم علوم پر گہری نگاہ اور تبحر رکھتے ہیں۔ خط میں جنرل عزیز نے سوالات سے قبل صورت حال کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے: ’’امریکہ کی حکومت نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان پر جبراً اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے، اس تسلط کے قائم کرنے میں پاکستان کی حکومت پوری طرح امریکہ کا ساتھ دے رہی ہے، افغانستان کے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے قتل و غارت میں پاکستان کی شمولیت کے نتیجے میں، پاکستان میں پچھلے دس سالوں سے دہشت گردی ہے اور اس کے انسداد کیلئے کی گئی کارروائیوں میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کا خون ہوچکا ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے‘‘۔ اس وضاحت کے بعد، لیفٹیننٹ جنرل عزیز نے مفتی تقی عثمانی سے مندرجہ ذیل چار سوالات پوچھے۔ سوالات اور ان کے جوابات ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:
سوال اول: کیا شرعی نقطہ نظر سے حکومت پاکستان اس امر کی مجاز ہے کہ ایک پڑوسی مسلمان ملک پر غیر مسلمانوں کے قبضے کو مستحکم کرنے میں ان کی مدد کرے؟
جواب: ہرگز نہیں۔
واضح رہے کہ اس جنگ میں اتحادی بننے کافیصلہ سابق فوجی آمرپرویز مشرف نے کیاتھا۔ آمرپرویز مشرف نے ہی امریکہ کی کمال اطاعت گزاری کے ساتھ حملہ آور نیٹو افواج کو وہ مراعات اور سہولتیں بھی فراہم کیں جن کا بظاہر پاکستان سے مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔ شمسی ائیربیس سمیت جنگی طیاروں کی پرواز کی اجازت اسی نے دی ۔ افغانستان پر امریکی قبضہ اسلامی تعلیمات اور بین الاقوامی قوانین کے کلیتاً منافی ہے۔ آمر نے اپنی ناجائز حکومت بچانے اور اقتدار کو طول دینے کی خاطر امریکیوں کے ظالمانہ، جارحانہ اور غاصبانہ اقدام میں معاون بننے کا لائق نفریں فیصلہ کیا۔
سوال دوم: کیاتنگدستی کا خدشہ حکومت پاکستان کی اس مفاد پرست پالیسی کیلئے شرعی حجت فراہم کرتا ہے؟
جواب: نہیں۔
محض تنگدستی اور افلاس کے خوف سے اصولی مؤقف سے انحراف کی اجازت نہ تو اسلام دیتا ہے اور نہ ہی اعلیٰ انسانی تہذیبی اقدار۔ نائن الیون کے فوری بعد امریکیوں نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ اس جنگ میں اُن کے معاون نہ بنے تو پاکستان پر مالیاتی اور معاشی پابندیاں عائد کی جائیں گی نتیجتاً پاکستانی معیشت کی ریزہ کاری ہو جائے گی۔ اس دھمکی کو جواز بنا کر پرویز مشرف نے پاکستان کے جملہ وسائل، ذرائع اور توانائیاں امریکیوں کے لیے وقف کر دیں۔ وہ قوم سے جھوٹ بولتے رہے کہ اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا تو پاکستان میں ڈالروں کی بارش ہو گی اور پاکستان کی قومی معیشت مستحکم ہو گی جبکہ حقائق پرویز مشرف کے بیانات اور اقدامات کی نفی کرتے ہیں۔ پاکستان میں ڈالروں کی بارش تو نہ ہوئی البتہ 2004ء سے امریکی ڈورنز کی پاکستان پر میزائلوں کی بارش جاری ہے۔ اس جنگ میں امریکہ کا اتحادی بننے کی وجہ سے پاکستان کی داخلی معیشت کو تقریباً 100 ارب ڈالر کا دھچکا پہنچا۔ محض معاشی مفادات کی خاطر قومی سلامتی، داخلی خود مختاری اور ریاست کی حاکمیت اعلیٰ سے دستبردار ہو جانے کا فیصلہ معاشی لحاظ سے بھی تباہ کن ثابت ہوا۔
سوال سوم: ان حالات میں حکومت پاکستان کیلئے کیا شرعی حکم ہے؟
جواب: یہ کہ وہ اپنے اس اقدام سے باز آئے۔
صائب الرائے دانشور اور تجزیہ کار اس پر متفق ہیں کہ مئی 1950ء سے تادم تحریر پاکستان نے امریکہ کا تیسری بار اتحادی بننے کا تلخ تجربہ کیا۔ پاکستان جب بھی امریکہ کا اتحادی بنا، اسے ہر بار اتحادی بننے کی کوئی نہ کوئی نئی سزا بھگتنا پڑی۔ سرد جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا انعام پاکستان کو کلاشنکوف کلچر اور منشیات کے فروغ کی شکل میں ملا اور اکتوبر 2001ء سے تاحال جاری امریکی مسلط کردہ جنگ میں امریکیوں کی فرنٹ لائن بننے کا تحفہ پاکستان کو آئے روز ڈرون حملوں، سی آئی اے اور بلیک واٹر کے خود کش حملہ آوروں اور اجرتی قاتلوں کی تخریب کارانہ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی شکل میں مل رہا ہے۔ ان اجرتی قاتلوں اور دہشت گردوں نے حساس تنصیبات تو ایک طرف رہیں، اولیائے کرام کے پر انوار مزارات کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنانے سے اسی طرح دریغ نہیں کیا جس طرح انہوں نے عراق میں صحابہ کرامؓ ، امام حسینؓ، حضرت علیؓ اور دیگر فقہائے عظام کے مزارات پر میزائل باری اور بمباری کر نے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ ان کی کارروائیوں کی وجہ سے جسدِ پاکستان کی شریانوں میں ایسے زہریلے اثرات سرایت کر چکے ہیں جن کا تریاق شاید عشروں تک تلاش نہ کیا جا سکے۔ ناقابلِ اندمال زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے امریکا الٹا آئے روز پاکستان کیلئے نئے مسائل پیدا کر رہا ہے۔
سوال چہارم: اگر شرعی حکم کا اقتضا امریکی جنگ سے نکلنے کا ہو لیکن حکومت پاکستان افغان مسلمانوں کے قتل و غارت میں شمولیت سے باہر نہ آئے تو پاکستان کے مسلمانوں کیلئے شرعی طور پر کیا راستہ کھلا ہے؟
جواب: مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ حکومت پر اس اقدام سے باز آنے کیلئے خانہ جنگی اور تخریب کاری سے بچتے ہوئے دباؤ ڈالنے کا جو طریقہ میسر ہو، اسے استعمال کریں۔
یہ جواب کسی تبصرہ کا محتاج نہیں۔ حکومت کو راہ راست پر لانے کے لیے پر امن احتجاج مؤثر ترین ہتھیار ہے۔ مربوط انداز میں ذہن سازی کے لیے میڈیا پر منظم مہم بھی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کارگر اور ثمر آفریں ثابت ہو سکتی ہے۔ اسلام کسی بھی مسلم ریاست میں شہریوں کو متشددانہ روش اپنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن حکیم نے تو فتنے کو قتل سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی کے مختصر مگر جامع و قاطع جوابات نے تمام اشکالات کو بتمام و کمال رفع کر دیا ہے۔

Pakistan Mufti Taqi Usmani 

Comment on this post