طارق کی دعا...( اندلس کے میدانِ جنگ میں )

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


طارق کی دعا

( اندلس کے میدانِ جنگ میں )
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم انکی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ انکی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہئیے اس کو خونِ عرب سے

کیا تو تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں،نظر میں،اذانِ سحر میں
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں
کشادِ درِدل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت انکی نظر میں
دلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کردے
وہ بجلی کہ تھی نعرہ لا تذر میں
عزائم کو سینے میں بیدار کردے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کردے !

Comment on this post