ہمارے پاؤں میں‌جو رستہ تھا...سلیم کوثر

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


ہمارے پاؤں میں‌جو رستہ تھا

رستے میں پیڑ تھے

پیڑوں پر جتنی طائروں کی ٹولیاں ہم سے ملا کرتی تھیں

اب وہ اڑٹے اڑتے تھک گئی ہیں

وہ گھنی شاخیں جو ہم پے سایہ کرتی تھیں

وہ سب مرجھا گئی ہیں

اسے کہنا

لبوں پر لفظ ہیں

لفظوں پر کوئی دستاں قصہ کہانی جو اسے اکثر سناتے تھے

کسے جا کر سنایئں گے

بتایئں گے کہ ہم محراب ابرو میں ستارے ٹانکنے والے

درلب بوسہء اظہار کی دستک سے اکثر کھولنے والے

کبھی بکھری ہوئی زلفوں میں‌ہم

مہتاب کے گجرے بنا کر باندھنے والے

چراغ اور آیئنے کے درمیاں کب سے سر ساحل

کھڑے موجوں‌کو تکتے ہیں

اسے کہنا

اسے ہم یاد کرتے ہیں

اسے کہنا ہم آکر خود اسے ملتے مگر مستقل بدلتے

موسموں کے خون میں رنگین ہیں ہم

ایسے بہت سے موسموں‌کے درمیاں تنہا کھڑے ہیں

جانے کب بلاوا ہو! ہم میں آج بھی اک عمر کی

ورافتگی اور وحشتوں کا رقص جاری ہے ،وہ بازی جو

بساط دل پہ کھیلی تھی ابھی ہم نے جیتی ہے

نہ ہاری ہے


اسے کہنا


کبھی ملنے چلا آئے


اسے ہم یاد کرتے ہیں


سلیم کوثر

Comment on this post