Is Karachi still city of Lights? Unfortunate Realities

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

کراچی…  امریکی اخبار”لاس اینجلس ٹائمز “ لکھتا ہے کہ کراچی ملک کی سب سے بڑی جرائم کی آماج گا ہ ہے، اس شہر کے چند خاندان ہوں گے جو جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ ہوں، مقامی سیاسی قائدین اور ان کے الحاق جرائم پیشہ گروہوں پر سخت ہاتھ ڈالا جائے تو بہتری کی امید ممکن ہے،ایک اندازے کے مطابق 10 ہزار پولیس افسران اس وقت ڈیوٹیوں پر حاضر ہیں جن میں سے نصف وی آئی پیز کی حفاظت پر مامور ہیں۔

کراچی میں تقریباً تمام افراد ہی لوٹ مار کا شکار ہوئے۔ درمیانہ طبقہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، زیادہ تر لوگ گھروں میں ٹھہرنے کو ترجیح دیتے ہیں، شہری پبلک مقامات پراپنے موبائل فون اور جیولری چھپا کر چلتے ہیں۔ سیکورٹی گارڈ بھی اپنے رسک پر رکھے جاتے ہیں ،کئی رپورٹس کے مطابق وہ اغوا کاروں کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ مالکان اپنی املاک خالی چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ جرائم پیشہ عناصر ان پر قبضہ کر لیں گے۔ حتیٰ کہ پوش علاقوں کے رہائشی بھی اپنی غیر روشن گلیوں میں جانے سے ڈرتے ہیں۔ کراچی میں بڑھتا یہ سماجی تناوٴ معاشی تقسیم میں اضافہ کر رہا ہے،امریکی میگزین فارن پالیسی نے حال ہی میں اسے دنیا کا خطرنا ک شہر قرار دیا اور اسے دنیا کے خطرناک شہروں بگوٹا، کولمبیا ،لاگوس، نائجیریا اور میکسیکو میں سرفہرست رکھا۔

اخبار نے کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر کے حوالے سے لکھا کہ کراچی میں امن پیناڈول سے ممکن نہیں اس کی انتڑیوں تک علاج کی ضرورت ہے۔ اغوا کاری روپے اکھٹے کرنے کا بہترین دھندہ بن چکا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، اقتصادی انجن اور مالیاتی مرکز ہے،جہاں کی پورٹ پر روزانہ ہزاروں شپنگ کنٹینرز جاتے اور آتے ہیں،جہاں نو منزلہ اسٹیل مل اور دنیا کی بہترین اسٹاک ایکس چینج ہے جہاں تاجر لاکھوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں لیکن یہ شہر ملک کی سب سے بڑی جرائم کی آماج گاہ بھی ہے یہاں تک کہ درمیانے طبقے کے لوگوں کو بھی ذاتی محافظ رکھنے پڑتے ہیں، ایک دوسرے کے علاقوں میں حریف گروہوں کے درمیان گولیوں کی گھن گرج بھڑک اٹھتی ہے وزیر اعظم نواز شریف سمیت پاکستانی رہنماوٴں کی طویل فہرست ہے جنہوں نے اس شہر کو صاف کرنے کا عزم دکھایا۔2009کی امریکی سفارت خانے کی کیبل کے مطابق ایک سیاسی جماعت کے 25ہزار مسلح ملیشیا ہیں۔مارچ میں پولیس افسر نیاز کھوسو نے کہا تھا کہ شہر کا نصف حصہ پولیس کے لئے نو گو ایریا ہے۔2002میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے اغوا اور سرقلم کئے جانے والے شہر کراچی کا کوئی باشندہ ہوگا جنہیں ان جرائم پیشہ عناصر کا ہاتھ نہ لگا ہو۔ کئی افراد نے اپنے دوستوں یا خاندان کے افراد کے اغوا ہونے کا بتایا۔ ڈرون سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے بھی کراچی کا رخ کرلیا ہے۔

حالیہ سالوں میں کراچی کی آبادی میں80فی صد پھیلاوٴ ہوا جو نیویارک شہر میں ایک دہائی میں ممکن ہوا۔ کراچی میں امن لانے کے لئے سیکورٹی اداروں کو بغیر کسی مقدمے میں مشتبہ افراد کو نوے دن رکھنے کی تجویز دی گئی، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشات کا اظہار کیا۔
Is Karachi still city of Lights? Unfortunate Realities

Enhanced by Zemanta

Comment on this post