بھوک بطور ہتھیار

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ




عبدالستار ہاشمی

شام میں جاری خانہ جنگی میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور 3 ملین سے زائد اپنی جانیں بچانے کے لیے داخلی یا بیرون ملک ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شامی اپوزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس خانہ جنگی میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ایک اندازے کے مطابق اب تک شام میں ہر ماہ اوسطً کم از کم 5 ہزار افراد ہلاک ہو رہے ہیںجن میں80 فیصد مرد اور10 سال سے کم عمر کے 1700 بچے شامل ہیں۔خانہ جنگی کے دوران فوجی دستے باغیوں کو گرفتار کرنے کے لیے علاقوں کی ناکہ بندی کا طریقہ اپنا رہے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل روک لیتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کا فقدان تھا تاہم اب صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔ شام میں سلامتی کے ادارے کے ایک اہلکار کے بقول شامی افواج کی جانب سے ناکہ بندی کی وجہ سے محصور علاقوں میں بھوک بڑھ رہی ہے اور افواج نے جن علاقوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے وہاں اشیائے خوراک اور ادویات کی رسائی تقریباً ملفوج ہو کر رہ گئی ہے۔حالیہ دنوں کے دوران دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں کی ناکہ بندی کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بھوک بڑھتی جا رہی ہے۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ بھوک کی وجہ سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔دارالحکومت دمشق کے مرکزی اور مشرقی حصے کے درمیان فوج کی ایک چوکی قائم ہے۔

 گزشتہ دنوں اس چوکی پر تعینات ایک فوجی سے ایک بچہ منتیں کرتا رہا کہ وہ روٹی خریدنے کے لیے اسے دوسری جانب جانے کی اجازت دے لیکن اس فوجی نے اس کی درخواست مسترد کر دی۔اقوام متحدہ کے مطابق شام میں10 لاکھ سے زائد شہری ایسے علاقوں میں محصور ہیںجہاں امدادی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔ دمشق کے نواحی علاقوں اور تقریباً 3 لاکھ افراد حلب میں محصور ہیں۔شامی حکومت کی جانب بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات پر ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سرکاری فوج یہ کہتی ہے کہ علاقے کے رہائشی دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں،جبکہ امدادی کارکنوں کو محصور علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ دمشق کے جنوبی، مشرقی اور مغربی نواحی علاقے باغیوں کے زیر اثر ہیں اور اسی وجہ سے ان علاقوں کی ناکہ بندی بھی انتہائی سخت ہے۔ ان علاقوں میں پھل اور سبزیاں تو مشکل سے دستیاب ہیں لیکن روٹی کہیں بھی خریدی نہیں جا سکتی۔ مسلسل بمباری کی وجہ سے بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے خاص طور پر پیٹ کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 مارچ 2011ء کو شروع ہونے والے شام کے خونریز تنازع کو ٹھیک ایک ہزار دن ہو گئے ہیں لیکن یہ ہلاکت خیز خانہ جنگ ابھی بھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی طرف سے اس تنازع کے حل کے لیے فریقین کے مابین ثالثی کی اب تک کی تمام تر کوششیں اس حد تک بے نتیجہ رہی ہیں کہ شام کی داخلی تباہی کا سفر ابھی تک جاری ہے اور ملک کے بہت سے شہر اور علاقے بھی تاحال محاذ جنگ بنے ہوئے ہیں۔دمشق حکومت اور شامی باغیوں کے مابین امن مذاکرات کے آغاز کے لیے بین الاقوامی برادری کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں شام سے متعلق’ ’جنیوا ٹو‘‘ کہلانے والی امن کانفرنس کا انعقاد 22 جنوری کو ہو گا۔ اس کانفرنس میں ٹھوس نتائج پر پہنچنے کی کوشش کی جائے گی لیکن بہت سے ماہرین کے بقول حقیقت پسندانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو ایسے نتائج کا امکان کم ہے۔ ایک اور تکلیف دہ پہلو بھی ہے جس پر لکھتے ہوئے انسانیت کانپ اُٹھے گی۔ شام میں جاری خانہ جنگی میں مسلح فریقین بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس خونریز لڑائی سے20 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔’’سیو دی چلڈرن‘‘کی رپورٹ کے مطابق شامی بچوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اور ساتھ ہی ان کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔

جنسی تشدد سے تحفظ کے لیے لڑکیوں کو جلد شادیاں کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بچوں کو بار برداری، محافظوں کے طور پر، معلومات جمع کرنے اور لڑائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کئی بچے اور ان کے خاندان اس بات کو باعث فخر سمجھتے ہیں لیکن بعض بچوں کو زبردستی عسکری سرگرمیوں کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ شام میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر بچے پارکس اور دیگر جگہوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ وہ مخدوش حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ان کے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جانے کے خطرات بھی قدرے زیادہ ہیں۔اس تنازع کی وجہ سے وہاں بچوں کی ایک پوری نسل انسانی خطرے میں ہے۔ ٭…٭…٭

Enhanced by Zemanta

Comment on this post