الوداع ! افتخار محمد چودھری ، چیف جسٹس آف پاکستان

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

جن سے دلداری جاناں کے قرینے یاد آئیں
ایسے تیور بھی مرے لہجہ بیباک میں تھے
شہر بے رنگ ! ترے لوگ گواہی دیں گے
ہم سےخوش رنگ بھی تیرے خس و خاشاک میں تھے

الوداع ! افتخار محمد چودھری ، چیف جسٹس آف پاکستان
سر ! آپ نے عدلیہ کا وقار بلند کیا، ...یقیناً آپ بھی اسی معاشرے کے ایک انسان ہیں، آپ سے غلطیاں بھی ہوئی ہونگی ، آپ میں کچھ شخصی کمزوریاں بھی ہونگی ، لیکن جس طرح آپ نے وردی پوشوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور جس طرح عوام کو انصاف فراہم کرنے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کیے اس نے 18 کروڑ عوام میں ایک نیا عزم ، نیا حوصلہ پیدا کیا - قوم آپ کو ہمیشہ یاد رکھے گی ، ایک ہیرو کی طرح !!!
 
پاکستان کے عدالتی نظام سے میں کبھی بھی متفق نہ ھو سکا ، کیوں کہ اس "ملغوبہ" نظام کا کوئی سر پیر نہیں ،لیکن اسکے باوجود افتخار محمد چوھدری یاد رھیں گے ،چیف جسٹس کی عدالت میں خود کو فرعون کی "روحانی " اولاد سمجھنے والے سول ملڑی اور بیورکریسی کے اعلی افسران کے ماتھے پہ پسینہ ،زیر لب دعا ،اور گھگھیائے افسران کی حلق میں پھنسی آواز یں بتاتی تھیں کہ عوام پر حکمرانی کرنے والے کتنے اسوقت تک ھی بہادر ھیں ،جب تک سوا سیر سے پالا نہ پڑ جائے تمام پھنے خانوں... کو چیف جسٹس نے اکڑ فوں سمیت وقتی طور پر ھی سہی لیکن "سیدھا" ضرور کر دیا تھا ،مجھے تو و٥ افسر بھی نہیں بھولتے جو پروموشنز کے حصول کیلئے پیروں کے پاس جاتے تھے اور"چیف جسٹس" کے "غضب" سے بچنے کے وظیفہ لاتے تھے ،کتنے ھی اعلی افسران کو "سماعت سے قبل "اسپتال" میں داخل ھونا پڑتا تھا ،باوجود کوشش کے چیف جسٹس صاحب لاپتہ افراد کے معاملے پر ملک کے "اصل حاکموں" کو "آئین" کے تابع تو نہ کر سکے البتہ انہیں عدالتی ریکارڈ کی حد تک "ایکسپوز" ضرور کردیا

قاضی القضاء صاحب ،آپ یاد رھیں گے

 


 

Enhanced by Zemanta

Comment on this post