پاکستان جسٹس پارٹی.........جاوید چودھری

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ



 یہ ایک مکمل ملاقات تھی‘ میں نے آدھا حوالہ 27 اپریل 2010ء کے کالم میں دیا اور آدھا آج اس وقت دے رہا ہوں جب چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اپنے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں‘ میری چیف جسٹس سے ان کے چیمبر میں 24 اپریل 2010ء کو طویل ملاقات ہوئی‘ سپریم کورٹ میں صدر آصف علی زرداری‘ یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر وزراء کے خلاف مقدمے کھلے تھے اور ہمارے اینکرز بھائی روز دعویٰ کرتے تھے‘ یہ سسٹم ڈی ریل ہو جائے گا اور یہ حکومت کسی بھی وقت رخصت ہو جائے گی لیکن میں چیف جسٹس کے چیمبر میں داخل ہوا تو وہاں کا درجہ حرارت بالکل مختلف تھا‘ چیف جسٹس نے واضح الفاظ میں فرمایا ’’ میں چاہتا ہوں یہ حکومت بھی پانچ سال پورے کرے اور مستقبل کی جمہوری حکومتیں بھی اپنی اپنی مدت پوری کر کے رخصت ہوں‘‘ افتخار محمد چوہدری نے فرمایا ’’ پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں‘ اگر کسی نے شب خون مارنے کی کوشش کی تو عدلیہ اس کے راستے کی رکاوٹ ثابت ہوگی‘‘ مجھے چیف جسٹس کا یہ دعویٰ اس وقت عجیب لگا کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت‘ میاں نواز شریف کی پارٹی اور میڈیا کے زیادہ تر ٹائیکونز کا خیال تھا کھ سپریم کورٹ کسی بھی وقت اس حکومت کو غیر قانونی قرار دے کر فارغ کر دے گی لیکن چیف جسٹس پاکستان پیپلز پارٹی کی پرفارمنس سے مایوس ہونے کے باوجود جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں خوش فہم بھی تھے اور سپورٹر بھی تاہم وہ بار بار یہ ضرور کہہ رہے تھے‘ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو ان معزول ججوں کا احسان مند رہنا چاہیے‘ یہ جن کی وجہ سے آج ملک میں بھی ہیں اور اقتدار میں بھی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا ’’اگر میں جنرل پرویز مشرف کے سامنے کھڑا نہ ہوتا تو آصف علی زرداری واپس آتے اور نہ ہی میاں نواز شریف‘ یہ آج بھی لندن یا سعودی عرب میں بیٹھ کر پاکستانی سیاست پر تبصرہ کر رہے ہوتے‘‘۔ یہ کالم 27 اپریل 2010ء کو شایع ہوا اور اس کی وجہ سے خاصی کنٹروورسی پیدا ہو گئی‘ اس ملاقات کے خلاف کالم بھی لکھے گئے اور ٹیلی ویژن پروگرام بھی ہوئے‘ چیف جسٹس صاحب بھی اس کنٹروورسی کی وجہ سے پریشان ہوئے۔

وہ ایک ادھورا کالم تھا‘ اس کالم کا ایک حصہ باقی تھا‘ میں نے باقی حصے کو آج کے دن کے لیے سنبھال رکھا تھا‘ میں نے اس ملاقات میں چیف جسٹس سے پوچھا ’’آپ سیاست میں کیوں نہیں آ جاتے‘‘ انھوں نے ہنس کر جواب دیا ’’یہ بڑے لوگوں کا کام ہے‘ میں قانون کا معمولی سا ورکر ہوں‘ میں صرف فائلیں پڑھ سکتا ہوں اور ان فائلوں پر احکامات جاری کر سکتا ہوں‘‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’ کیا آپ اپنے کام سے مطمئن ہیں‘‘ چیف جسٹس نے جواب دیا ’’ میں اگر نظام کو دیکھوں تو میں بہت کچھ کر رہا ہوں‘ ہمارے ملک میں پٹواری اور کانسٹیبل تک فرعون ہوتے ہیں‘ ہمارا نظام ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن ہم لوگ وزیراعظم اور صدر تک کے غیر قانونی احکامات کا نوٹس لے لیتے ہیں‘ ہم چیف سیکریٹری‘ آئی جی اور وفاقی سیکریٹریوں تک کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں‘ میں اگر خود کو اس اینگل سے دیکھوں تو میں سمجھتا ہوں میں ملک میں کچھ کر رہا ہوں لیکن اگر لوگوں کے مسائل دیکھے جائیں‘ لوگوں کی پریشانیاں دیکھی جائیں‘ قانون اور انصاف کے نظام کو دیکھا جائے‘ تعلیم‘ صحت اور روزگار کے سسٹم کو دیکھا جائے‘ ریاستی اداروں کی بدمعاشی دیکھی جائے اور سیاستدانوں کی ہوس اقتدار کو دیکھا جائے تو میں خود کو ناکام سمجھتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں میں اگر سو سال تک کام کرتا رہوں تو بھی کم ہو گا‘‘۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا ’’ملک میں صرف ایک افتخار چوہدری اور اس کے سولہ ساتھی ہیں‘ ہمیں تعداد میں زیادہ ہونا چاہیے تھا‘ ہم اگر سولہ لاکھ ہوتے تو پھر شاید ہم ملک کے عام لوگوں کے لیے تھوڑا سا سویرا طلوع کر پاتے‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’ اس ملک کا اصل مسئلہ کیا ہے؟‘‘ چیف جسٹس نے جواب دیا ’’ پاکستان کے چار بڑے ایشوز ہیں‘ ہمارا سرکاری نظام بوسیدہ اور غیر فعال ہو چکا ہے‘ یہ اب عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتا‘ ہمیں اس پورے سسٹم کو بدلنا ہو گا… دو، ہمارے سیاستدان نااہل ہیں‘ یہ نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اقتدار میں آ جاتے ہیں مگر یہ ڈیلیور کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں‘ ہمیں ان میں صلاحیت اور اہلیت پیدا کرنی ہو گی… تین‘ ہمارے بیورو کریٹس‘ ہماری افسر شاہی اور ہمارے جرنیل خود کو عوام کا خادم ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ یہ آج بھی پاکستان کو برطانوی کالونی اور خود کو ہر میجسٹی کا نمایندہ سمجھتے ہیں‘ یہ کرسی پر فرعونوں کی طرح بی ہیو کرتے ہیں‘ ہمیں ان کی انا کا ہیلمٹ توڑنا ہو گا‘ انھیں وائسرائے سے عوام کا خادم بنانا ہو گا اور چوتھا ہمارے عوام نے آج تک خود کو آزاد اور خود مختار نہیں سمجھا‘ یہ آج بھی کسی نہ کسی آقا کے سامنے درخواست گزار ہیں‘ انھوں نے خود کو درخواستوں‘ عرضیوں اور اپیلوں تک محدود کر رکھا ہے‘ یہ آج تک خود کو قوم نہیں سمجھتے‘ ہم نے انھیں بھی قوم ہونے کا احساس دلانا ہے‘‘۔

میں نے چیف جسٹس سے عرض کیا ’’ لیکن سر یہ طویل سیاسی جدوجہد اور لیڈر شپ کے بغیر ممکن نہیں‘ ہمارے ملک کو کسی ایسے سیلف لیس لیڈر کی ضرورت ہے جس کا مقصد اقتدار نہ ہو‘ جو وزیراعظم یا صدر نہ بننا چاہتا ہو‘ جو صرف اور صرف قوم کی کردار سازی کرے اور جو ملک کو نیا نظام دے‘‘ چیف جسٹس نے غور سے میرے چہرے کی طرف دیکھا‘ میں نے سوچا‘ یہ میرے احساسات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ جاننا چاہتے ہیں‘ یہ میٹنگ کسی ایجنڈے کا حصہ تو نہیں‘ وہ تھوڑی دیر تک میرے چہرے کی طرف دیکھتے رہے‘ پھر ایک طویل آہ بھری اور اس کے بعد فرمایا ’’ لیکن میں وہ لیڈر نہیں ہوں‘ میں ایک جج ہوں اور صرف جج کی حیثیت سے مرنا چاہتا ہوں‘ میری خواہش ہے لوگ مجھے قانون دان یا زیادہ سے زیادہ اچھے قانون دان کی حیثیت سے یاد رکھیں‘ میں اپنے ہاتھوں پر سیاست کی کالک لے کر دنیا سے نہیں جانا چاہتا‘‘ میں نے عرض کیا ’’ سر سیاست بری چیز نہیں ہوتی‘ برے سیاستدان اسے برا بناتے ہیں‘ آپ کو اللہ تعالیٰ نے عزت بھی دی اور توانائی بھی‘ آپ ڈرتے نہیں‘ گھبراتے نہیں‘ آپ عام آدمی کے دکھ کو بھی سمجھتے ہیں‘ آپ اگر سیاست میں آئیں‘ آپ لوگوں کو جمع کریں‘ آپ انھیں موبلائز کریں تو ملک میں تبدیلی آ سکتی ہے‘‘۔

چیف جسٹس نے قہقہہ لگایا اور پوچھا ’’ کیا لوگ میری پارٹی کو ووٹ دیں گے‘ کیا یہ میرے گرد جمع ہو جائیں گے‘‘ میں نے عرض کیا ’’ لوگ شاید شروع میں آپ کا ساتھ نہ دیں لیکن آپ اگر 2007ء کی طرح ثابت قدم رہے‘ آپ نے کسی ایک علاقے یا مسئلے کو فوکس کر کے عوام کو موبلائز کر لیا تو آپ سات آٹھ برسوں میں ملک کی بڑی سیاسی طاقت ہوں گے لیکن آپ کو ایک کام کرنا ہوگا؟‘‘ وہ مسکرا کر میری طرف دیکھتے رہے۔ ’’ آپ کو شروع میں اعلان کرنا ہو گا‘ میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں لوں گا‘ میں صدر بنوں گا اور نہ ہی وزیراعظم‘ میں صرف ٹیم بنائوں گا اور عوام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کروں گا‘‘ چیف جسٹس نے قہقہہ لگایا‘ مجھے اس قہقہے میں مذاق‘ طنز‘ بے یقینی اور شکوک کے رنگ نظر آئے‘ مجھے محسوس ہوا چیف جسٹس ان باتوں کو ایک صحافتی تکنیک سمجھ رہے ہیں‘ میں یہ باتیں کر کے ان کے مستقبل کا لائحہ عمل معلوم کرنا چاہتا ہوں‘ چیف جسٹس کا شک بڑی حد تک جائز تھا‘ ہم صحافیوں کے بارے میں لوگوں کی رائے اچھی نہیں ہوتی‘ ہمیں پولیس کی طرح کسی کا دوست نہیں سمجھا جاتا‘ ہم سے ہر شخص وفاداری کا تقاضا کرتا ہے لیکن کوئی ہماری وفاداری پر یقین نہیں کرتا‘ لوگ سمجھتے ہیں‘ ہم سیدھا جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ الٹی بات کرتے ہیں اور الٹا جواب لینے کے لیے سیدھی بات کا سہارا لیتے ہیں اوریہ خیالات زیادہ غلط بھی نہیں ہیں۔

ہم اپنی پیشہ ورانہ ذمے داری نبھانے کے لیے عموماً یہ تکنیکس استعمال کرتے ہیں لیکن اس دن ایسا نہیں تھا‘ میں یہ سمجھتا ہوں چیف جسٹس جیسے لوگوں کو عوام کو متحرک کرنا چاہیے‘ یہ لوگ پاکستان کے انا ہزارے بن سکتے ہیں‘ یہ ملک کے لیے ایسے عمل انگیز ثابت ہو سکتے ہیں جو ملک کا سیاسی گند صاف کر دیں گے‘ یہ فوج کو بھی سیاست سے روکیں گے اور سیاستدانوں کو بھی آمر بننے سے باز رکھیں گے مگر چیف جسٹس کو میری نیت پر شک تھا‘ ان کا خیال تھا‘ میں کسی ایجنڈے کے تحت ان کے پاس آیا ہوں اور میں باہر جا کر لوگوں کو بتائوں گا افتخار محمد چوہدری مستقبل کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں‘ چیف جسٹس نے اس کے بعد رانا بھگوان داس کا ذکر چھیڑ دیا‘ رانا بھگوان داس ان دنوں چیف جسٹس سے خوش نہیں تھے‘ میں نے ان کی ناراضی چیف جسٹس تک پہنچائی‘ چیف جسٹس نے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا’’ میں رانا صاحب کا دل سے احترام کرتا ہوں‘ یہ حیران کن کردار کے مالک ہیں‘ مسلمان ہم ہیں لیکن یقین رانا صاحب کا مضبوط ہے اور یہ اگر 2007ء میں کردار کا مظاہرہ نہ کرتے تو شاید آج میں اس کرسی پر نہ ہوتا‘‘۔میٹنگ ختم ہوئی‘ میں اٹھا تو چیف جسٹس بھی کرسی سے اٹھے‘ ہاتھ ملایا اور مجھ سے پوچھا ’’ میں اگر اپنی سیاسی جماعت بنائوں تو اس کا نام کیا ہونا چاہیے‘‘ میں نے عرض کیا ’’ پاکستان جسٹس پارٹی‘‘ انھوں نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور پوچھا ’’ کیا آپ میری پارٹی جوائن کریں گے‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’ شروع میں نہیں لیکن آپ نے اگر اس پارٹی کو عدلیہ بحالی جیسی تحریک بنا لیا تو میں کیا پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا‘‘ انھوں نے گرمجوشی سے میرا ہاتھ دبایا اور میں باہر آ گیا۔

آج چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ کا پہلا دن ہے ‘میرا خیال ہے ‘یہ پاکستان جسٹس پارٹی کا بھی پہلا دن ہے کیونکہ افتخار محمد چوہدری عدلیہ سے ریٹائر ہوئے ہیں‘ زندگی سے نہیں۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

Comment on this post