پاکستان میں تحقیق تنزل کا شکار

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ



کسی بھی معاشرے میں سائنسی رسائل اور جرائد نہ صرف تحقیق و ترقی کے ہراول دستے کا کام کرتے ہیں، بلکہ ان میں شائع ہونے والی تحقیق سے معاشی ترقی کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔
لیکن پاکستان میں گذشتہ پانچ برسوں میں تحقیق کے معیار میں اس حد تک کمی واقع ہوئی ہے کہ ملک بیس سال پیچھے چلا گیا ہے۔
اسی بارے میں یہ بات ممتاز محقق پروفیسر سلطان ایوب میو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی۔
پروفیسر سلطان یورپیئن ریویو فار میڈیکل اینڈ فارماکولاجیکل سائنسز کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے شریک مصنف ہیں۔ اس مقالے میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں شائع ہونے والے مقالہ جات کا معیار 2008 کے بعد سے تنزل کا شکار ہے۔
مقالے کے مصنفین کے مطابق کسی بھی ملک میں ہونے والی تحقیق کی صحت کا اندازہ اس ملک میں شائع ہونے والی تحقیقی جرائد سے لگایا جا سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ تحقیق کاروں مطابق سائنسی تحقیق کا کسی بھی ملک کی مجموعی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔
امریکہ اگر ترقی کے میدان میں سب سے آگے ہے تو تحقیق کے میدان میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔ سائنسی رسائل کی درجہ بندی کرنے والی ویب سائٹ ایس جے آر کے مطابق امریکہ میں گذشتہ 16 برسوں میں 70 لاکھ تحقیقی مقالہ جات شائع ہوئے،
جن اس کے بعد آنے والے چار ممالک چین، برطانیہ، جرمنی اور جاپان کے مجموعے سے بھی زیادہ ہیں

پچھلے 16 برسوں میں مقالہ جات کی تعداد کے لحاظ سے قائداعظم یونیورسٹی پاکستان میں پہلے نمبر پر ہے
بین الاقوامی سائنس اور علمی جرائد پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ایس جے آر کے مطابق پاکستان میں 1996 سے 2012 کے دوران 16 برس کے عرصے میں کل 58 ہزار تحقیقی مقالہ جات شائع ہوئے۔ اس کے مقابلے پر بھارت میں اسی دوران ساڑھے سات لاکھ تحقیقات منظرِ عام پر آئیں۔
اسی دورانیے میں چین میں 26 لاکھ مقالہ جات شائع ہوئے۔
چین نے حالیہ برسوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں قابلِ رشک حد تک ترقی کی ہے۔ چین میں سائنسی تحقیق کی اشاعت پر توجہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی اکیڈمی آف سائنسز ملک کے تحقیق کاروں کو نمایاں بین الاقوامی سائنسی جرائد میں کسی مضمون کی اشاعت پر 30 ہزار ڈالر انعام دیتی ہے۔
تاہم مقدار ہی سب کچھ نہیں ہوتی، بلکہ تحقیق کا معیار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ ٹامسن آئی ایس آئی رسائل کے معیار کی درجہ بندی بھی کرتی ہے، جسے ایچ انڈیکس کہا جاتا ہے۔
اس درجہ بندی کے مطابق پاکستانی رسالوں میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق کی رینکنگ 111 ہے، جب کہ ملک کا سب سے عمدہ سائنسی جریدہ جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہے، جس کی رینکنگ 23 ہے۔ اس کے بعد جرنل آف کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کا نمبر آتا ہے۔
اس گراف میں دکھایا گیا ہے کہ 2008 کے بعد سے ان مقالہ جات کی تعداد میں 
تیزی سے کمی آئی ہے جن کا کسی اور مقالے نے حوالہ دیا ہو۔
ظفر سید

Enhanced by Zemanta

Comment on this post