پاکستان سے وفاداری کا اقراری مجرم...

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


پاکستان کا ساتھ دینا شیخ مجیب الرحمن کی سپتری حسینہ واجد کے بنگلہ دیش میں لائق تعزیر ہے مگر کیا قائداعظم اور اس کے پیروکار میاں نوازشریف کے پاکستان میں بھی جرم قرار پا چکا ہے؟ ورنہ پاکستان سے وفاداری کے اقراری مجرم اکیانوے سالہ بزرگ مولانا غلام اعظم کو نوے سال قید کی سزا ملنے پر کوئی تو بولتا۔ وزیراعظم نوازشریف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، طارق کاظمی، وزارت خارجہ کا ترجمان اور حکمران مسلم لیگ کا کوئی عہدیدار؟ راجہ ظفر الحق، اقبال ظفر جھگڑا اور مشاہد اللہ خان میں سے کوئی ایک۔

لاڑکانہ میں کامیاب جلسے کے بعد جدید اور خودکار اسلحہ برداروں کے گھیرے میں پہلا انٹرویو دیتے ہوئے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے میرے اس سوال کے جواب میں کہ ”جئے سندھ سے آپ کے اتحاد کا سبب کیا ہے؟“ کہا تھا ”ہم نے بہاریوں کے انجام سے سبق سیکھا ہے جو 1971ء میں بنگال قوم پرستوں کے بجائے پاکستان کا ساتھ دیکر کیمپوں میں اذیت ناک زندگی بسر کررہے ہیں“۔
مولانا غلام اعظم اور ان کے ساتھیوں عبدالقادرملا، دلاور حسین سعیدی، علی احسن مجاہد، محمد قمرالزمان، مطیع الرحمان نظامی، عبدالسبحان، اے کے ایم یوسف کا قصور بھی یہی ہے کہ جب بھارت کے مالی ، سیاسی، سفارتی اور فوجی تعاون سے مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریر برپا ہوئی، پاکستان سے وفا داری جرم ٹھہری اور آزادی و خودمختاری کا دفاع پاکستانی نوازی قرار پایا تو ان سرفروشوں نے اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن سے وفاداری کے تقاضے نبھائے۔ غیر ملکی مداخلت کاروں اور ان کے پروردہ ایجنٹوں کا ساتھ دینے سے انکار کیا اور مادر وطن پر بھارتی ٹینکوں کا استقبال کرنے پر آمادہ نہ ہوئے کہ یہ ان کی حمیت، غیرت اور عقیدہ و نظریہ کے خلاف تھا۔

بجا کہ بنگلہ دیش کے قیام میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کی کوتاہ بینی اور عاقبت نااندیشی کا دخل تھا خواجہ ناظم الدین کی ناروا معزولی سے لے کر سینئر بنگالی جج کو وفاقی عدالت کا چیف جج نہ بنانے اور یہ منصب جسٹس منیر کو سونپنے تک غلطیوں کی طویل داستان ہے۔ بھٹو سے مل کر مجیب الرحمن کو اقتدار منتقل نہ کرنے کی یحییٰ خان حماقت اور فوجی آپریشن پر کلمہ شکر ادا کرنے کی بھٹوانہ روش نے بنگالیوں کو مشتعل کیا مگر مشرقی پاکستان میں غیر انسانی مظالم کی داستان بھارت کی تربیت یافتہ مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے خونخوار درندہ صفت کارکنوں نے رقم کی جن کے ہاتھ سے مجیب وطن بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کی جان محفوظ رہی نہ مال نہ عزت و آبرو ۔ شرمیلا لاس، شریف الحق والیم اور پروفیسر سجاد حسین کی تحقیقی کتابوں میں ظلم کی یہ داستانیں رقم ہیں اور یہ پاک فوج کا پروپیگنڈہ نہیں۔ بنگلہ دیش کا قیام بھی بھارت کی باالواسطہ اور براہ را ست فوجی مداخلت اور سوویت یونین کے ساتھ مل کر تیار کردہ سازش کا نتیجہ تھا کبھی سب پروپیگنڈا ہے۔
مولانا غلام اعظم اور ان کے ساتھیوں نے 1971ء میں ایک غیرت مند پاکستانی شہری کی طرح اپنے وطن کو متحد رکھنے کے لئے جو جدوجہد کی وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جرم تھی نہ معیوب، عالمی برادری اور سعودی عرب جسے برادر اسلامی ممالک کے مشورے پر پاکستان نے بنگلہ دیش کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا تو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے شیخ مجیب الرحمن کا یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا کہ کچھ سرکردہ بنگالی رہنماؤں اور پاکستانی فوجی افسروں پر جنگی جرائم میں مقدمہ چلایا جائے۔ بعد میں بھی کسی بنگلہ دیشی حکومت نے گڑے مردے اکھاڑنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ مگر باسی کڑھی میں ابال اس وقت آیا جب حسینہ واجد حکومت اپنی بھارت نوازی، نااہلی اور ناقص طرز حکمرانی کی وجہ سے عوامی نفرت کا شکار ہوئی اور اپنے سیاسی مخالفین کے انتقام کو عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے میں عافیت نظر آئی جس ٹربیونل کو جنگی جرائم میں مقدمہ چلانے کا اختیار ملا اس پر عالمی برادری معترض ہے اور سزاؤں پر پوری دنیا میں تنقید ہورہی ہے البتہ پاکستان میں جماعت اسلامی کے سوا سب شانت ہیں کیونکہ حب الوطنی کی سزا بھگتنے والے ان رہنماؤں کا تعلق اتفاقاً جماعت اسلامی سے ہے اور سیاسی تعصب نے دیگر قائدین کو گنگ کردیا ہے۔
پاکستان اس وقت 1971ء کی صورتحال سے دوچار ہے فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں چن چن کر وہ لوگ عسکریت پسندوں، علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں، تخریب کاروں کی گولیوں، بموں اور اذیت پسندانہ کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں جنہیں اپنے وطن سے پیار ہے اور جو پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی مفاد پر سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ فاٹا سے کراچی اور بلوچستان تک دشمنوں کا ہدف پاکستانیت ہے اور اس میں سول و فوجی کی کوئی تفریق نہیں۔ پاکستان کے حکمران، سیاستدان اور فوجی عہدیدار روزانہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹ جائیں۔ جذباتی عوام اب تک ڈٹے ہوئے ہیں مگر اندر سے خوفزدہ بھی کہ کہیں کل کلاں کو انہیں بھی بہاریوں اورجنگی جرائم کے ٹریبونل کے سامنے پاکستان کا ساتھ دینے پر موت اور عمر قید کی سزا پانے والوں کے انجام سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ عالمی سامراج کے آلہ کار انہیں اس انجام سے ڈراتے بھی رہتے ہیں۔
مولانا غلام اعظم کو نوے سال کی سزا ملنے پر حکمرانوں کی خاموشی قابل فہم ہے تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو، کی پٹی پڑھانے والے حاشیہ نشینوں نے قائداعظم کے وارثوں اور پیروکاروں پر جادو کردیا ہے مگرباقی سیاستدان، دانشور، انسانی حقوق کے علمبردار اور حب الوطنی کے ٹھیکیدار کہاں ہیں؟ پاکستان سے وفاداری بنگلہ دیش میں جرم ہے اور سزا موت یا عمر قید مگر پاکستان میں مجرمانہ خاموشی اور سنگدلانہ لاتعلقی سے نوجوان نسل، پاکستان کے لئے جان لٹانے پر آمادہ سرفروشوں کو کیا پیغام دیا جارہا ہے؟ یہی کہ خدانخواستہ کل کلاں کو بھارت ساختہ، امریکہ پرداختہ علیحدگی پسند، پاکستان دشمن اور دہشت گرد ٹولہ حملہ ٓاور ہوتو مزاحمت کے بجائے فاتحین کا استقبال کرو، گلے میں ہار ڈالو اور اپنی حریت فکر کے ترانے گاؤ تاکہ مولانا غلام اعظم اور ان کے ساتھیوں کے انجام سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

بنگلہ دیش کا قیام عظیم المیہ تھا۔ پرویز مشرف اور آصف علی زرداری نے معافی مانگ کر 1971ء کے زخم مندمل کرنے کی کوشش کی مگر حسینہ واجد کا دل نہ پسیجا اب پاکستان سے وفا موجب سزا و تعزیر نہیں ہے تو ہماری خاموشی نیا ستم ڈھا رہی ہے۔ پاکستانی اشرافیہ خواہ وہ سیاسی ہو یا فوجی حال مست ہے یا مال مست، پاکستانیت پر ضرب بنگلہ دیش میں لگے یا فاٹا، کراچی اور بلوچستان میں اسے کوئی خاص پروا نہیں ورنہ اب تک بیانات کا طوفان فروری برپا ہوتا۔
ارشاد احمد عارف

Comment on this post