اردو کی دس بہترین سوانح عمریاں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

اردو کی دس بہترین سوانح عمریاں
اردو کی دس بہترین سوانح عمریاں

تیسرے صدر تھامس جیفرسن (1826-1743)کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 'عظیم اور بہترین کتابوں' کی متعدد فہرستیں ترتیب دی تھیں۔

اس زمانے سے ہی مغربی ثقافتوں میں 'سو عظیم کتابوں' یا پھر 'ہزار عظیم کتابوں' کی فہرستوں کا خیال مشہور ہے۔

اس حوالے سے کئی لوگوں نے اپنی پسندیدہ کتابوں کی فہرستیں بنائی ہیں۔

ایسی فہرستوں کی بھی کمی نہیں جنہیں دانشوروں کی ٹیم نے مل کر بنایا۔

کچھ نے تو ایسی کتابوں کی فہرستیں بھی تیار کیں جو وہ موت سے پہلے پڑھنے کی خواہش رکھتے تھے۔

گزشتہ ہفتے میری ایک دوست نے مجھ سے اردو میں اس طرح کی فہرستوں کے متعلق پوچھا تو میں نے انہیں بتایا کہ 'جہاں تک مجھے یاد پڑھتا ہے ایسی فہرستیں موجود نہیں اور ایسی کسی فہرست کا بھی ملنا بہت مشکل ہے جس پر تمام متفق ہوں'۔

اس پر انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اردو کی بہترین کتابوں کی فہرست بنانا شروع کر دوں، جس کے بعد دوسرے لوگ بھی میرا ہاتھ بٹانے لگیں گے۔

میرے ذہن میں مختلف اقسام کی بنیاد پر بہترین کتابوں کی فہرست تیار کرنے کا خیال آیا۔

اس لیے میں نے اردو میں لکھی گئی دس بہترین خود نوشت سوانح عمریوں کی فہرست بنائی ہے۔

واضح رہے کہ اس فہرست میں درجہ بندی ترجیحی بنیادوں کے بجائے ان کتابوں کی اشاعت کی تاریخ پر مبنی ہے ۔

یہ فہرست بناتے ہوئے میں نے ان کتابوں کی اہمیت، مطابقت، پڑھنے میں آسانی اور ثقافتی اقدار کو سامنے رکھا۔

ضروری نہیں کہ اچھی کتاب کو سب ہی پسند کریں اور وہ بڑی تعداد میں فروخت ہونے والی بھی ہو۔

مشہور فرانسسی مصنف آندرے ماؤروس کا کہنا تھا: محبت کی طرح ادب میں بھی دوسروں کے انتخاب اور پسندیدگی ہمارے لیے حیران کن ہوتی ہے۔

آپ کے پاس اپنی فہرست بنانے یا اسے تبدیل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔

کالا پانی سن 1884 میں پہلی مرتبہ شائع ہونے والی اس کتاب کا پورا نام 'تواریخِ عجیب المعروف بہ کالا پانی' ہے۔

برطانیہ کے خلاف 'غداری' کے الزامات کے تحت بیس سال تک انڈمان جزائر میں قید رہنے کے بعد جنوری، 1866 میں واپس لوٹنے والے جعفر تھانیساری (1905-1838) نے اسے تحریر کیا تھا۔

حقیقی معنوں میں آپ اسے ایک مکمل خود نوشت سوانح عمری تو نہیں قرار دے سکتے، لیکن یہ ان جزائر پر زندگی گزارنے کے بارے میں پہلا ذاتی تجربہ تھا، جس کی مدد سے 1857 کی جنگ آزادی کا سیاسی و تاریخی پس منظر معلوم ہوتا ہے۔

یہ اردو زبان کی ابتدائی خود نوشت سوانح عمریوں میں سے ایک ہے، اور پڑھنے میں انتہائی دلچسپ۔ حال ہی میں لاہور کی سنگ میل پبلیکیشنز نے اسے دوبارہ شائع کیا۔

اعمال نامہ بہترین ادبی انداز اور زبان کے استمعال کی وجہ سے مشہور اس کتاب میں انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں درپیش سیاسی ، سماجی اور ادبی مسائل پر کھل کر بحث کی گئی ہے۔

اس کتاب کے مصنف سید رضا علی (1849-1880) ہیں، جنہوں نے ہندوستانی قانون ساز کونسل اور جنوبی افریقہ میں ایجنٹ جنرل جیسے اہم عہدوں پر فرائض سر انجام دیے۔

انیس سو تینتالیس میں شائع ہونے والی اس کتاب میں رضا علی نے اپنی زندگی کا تفصیل سے ذکر اتنے ہلکے پھلکے اور کھلے انداز میں کیا کہ اردو میں شاید ہی کچھ اور خود نوشت سوانح عمریاں اس پائے کی ہوں۔

یہ کتاب اپنی پہلی اشاعت کے بعد کئی دہائیوں تک دستیاب نہیں تھی لیکن 1992 میں پٹنا کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری نے اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا۔

مشاہدات نواب ہوش یار ہوش بلگرامی (1955-1894)کی اس خود نوشت سوانح عمری کا شمار ان اردو کتابوں میں ہوتا ہے جنہیں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

انیس سو پچپن میں شائع ہونے والی اس کتاب میں دوسری چیزوں کے علاوہ حیدر آباد دکن اور رام پور کی ریاستوں میں شاہی زندگیوں اور شاہی عدالتوں کا تفصیل سے ذکر موجود ہے۔

اس کتاب میں چند اہم شخصیات کی نجی زندگیوں کے انکشافات شامل ہیں جن کی وجہ سے اسے پڑھنے والے مشتعل ہو گئے۔

سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد کتاب سے متعدد صفحات کو نکال دیا گیا، جبکہ کئی لائنوں کو چھپانے کے لیے ان پر سٹیکر لگا دیے گئے۔1

Published on Urdu, Urdu Poetry, Urdu Books

Comment on this post