خلیل جبران کی ایک نظم

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

خلیل جبران کی ایک نظم
خلیل جبران کی ایک نظم

… میرے دوستو! قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں لیکن دل یقین سے خالی ہے۔

قابلِ رحم ہے وہ قوم جو ایسے کپڑے پہنتی ہے جن کو اس نے خود نہیں بُنا۔ جو ایسی روٹی کھاتی ہے جس کے لیے گندم اس نے خود نہیں اُگائی۔  ایسی شراب پیتی ہے جو اس کے اپنے میخانوں میں نہیں ملتی.
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو بڑھکیں لگانے والوں کو اپنا ہیرو بنا لیتی ہے اور چمکتی تلوار لے کر آنے والوں کو اپنا داتا سمجھتی ہے۔
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو بظاہر حالتِ خواب میں بھی ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہے لیکن حالتِ بیداری میں مفاد پرستی کو اپنا شعار بنالیتی ہے۔
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو جنازوں کے جلوس کے علاوہ کہیں اپنی آواز بلند نہیں کرتی۔ اور اپنے ماضی کی یادوں کے سوا اُس کے پاس فخر کرنے کا کوئی اور سامان نہیں۔ اور اُس وقت تک آوازِ احتجاج بلند نہیں کرتی تاآنکہ اس کی گردن تلوار تلے نہ آجائے۔
قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے نام نہاد سیاست دان لومڑیوں کی طرح مکار اور دھوکے باز کے سوا کچھ نہیں ہوتے اور جس کے دانش ور محض شعبدہ باز اور مداری، جن کے فنون کا عالم یہ ہے جیسے مسخروں کی جگت بازیاں اور بھانڈوں کی نقلیں۔
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو اپنے نئے حکمرانوں کے راستے میں ہار لیے کھڑی ہوتی ہے۔ جب وہ اقتدار سے محروم ہوں تو ان پر آوازے کستی اور ان کا تمسخر اڑاتی ہے اور عین اس وقت بھی اس بات کے لیے آمادہ رہتی ہے کہ یہ اقتدار سے جائیں تو رکھے ہوئے بینڈ باجے بجا کر انہیں رخصت کریں۔
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو ٹکڑوں اور قومیتوں میں بٹ چکی ہے اور جس کا ہر طبقہ اپنے آپ کو پوری قوم سمجھتا ہے۔

Comment on this post