Overblog Follow this blog
Edit post Administration Create my blog

قدرت ابھی انسانوں سے مایوس نہیں ہوئی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

عالمی ملکوں کی 125 رکنی برادری میں پاکستان اور ہندوستان کے عوام کا غذائی معیار 97 نمبر پر ہے جب کہ ہالینڈ (نیدرلینڈ) پہلے نمبر پر ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور جاپان جیسے ملک خوش خوراکی کے شمار میں پہلے 20 بیس ملکوں میں شمار نہیں کئے گئے۔ نیدر لینڈ کے عوام کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کی خوراک کی بہتات اور فراوانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ شائد دنیا کے کچھ لوگوں کو اس پر حیرت بھی ہوگی کہ نیدر لینڈ یا ہالینڈ کے شہروں کے ریستورانوں میں کھانے کی میزوں پر چرس کے سگریٹوں کی مفت فراہمی کا انتظام بھی ہوتا ہے یعنی ایسے سگریٹوں کو بھی اعلیٰ خوراک کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے جس کی مفت فراہمی لازمی ہے مگر نشے کی حالت میں غل غپاڑہ کرنے یا گرنے پڑنے کی پاداش میں پولیس کے قابو میں آنے والوں میں 80 فیصدی سے زیادہ لوگ ہالینڈ کے رہائشی نہیں ہوتے غیر ملکی ہوتے ہیں۔ جس طرح ہالینڈ یا نیدر لینڈ کے لوگوں کی خوش خوراکی میں چرس بھرے سگریٹ شامل کئے جاتے ہیں ویسے ہی جاپان کی خوش خوراکی میں سانپوں کا حصہ بھی ہے۔ جو وہاں کی سب سے قیمتی ڈش میں موجود ہوتے ہیں۔

بتانے کی ضرورت نہیں اور بہت سے لوگ جانتے ہوں گے کہ لاہور سے راولپنڈی اسلام آباد تک ڈائیو کمپنی کے تحت ’’موٹر وے‘‘ کی تعمیر کے دوران اس بیچ آنے والے بہت سے شہروں اور آبادیوں کے آوارہ کتے غائب ہوگئے تھے۔ یہ کتوں، سانپوں اور چرس کے سگریٹوں کا ذکر ویسے ہی پیچ میں آ گیا۔ بات دنیا کے 125 ملکوں کے لوگوں کی خوراک کے معیار کی ہو رہی تھی جس میں پاکستان اور ہندوستان دونوں 97 نمبر پر ہیں یعنی یہ سب سے زیادہ گھٹیا اور غیر صحت مند خوراک کے ذریعے بھوک مٹانے والے لوگوں کے ممالک ہیں اور یہ بھی سب لوگ جانتے ہوں گے کہ ہندوستان پاکستان سے پانچ گنا بڑا ملک ہے اور ایشیا کی ’’سپر پاور‘‘ بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اس سے یہ بھی یاد آیا کہ ہمارے کسی صحافی نے لکھا تھا کہ ہندوستان ہر پانچ سال بعد عام انتخابات کرانے کے بعد چھیاسٹھ سالوں میں وہاں تک ہی پہنچ پایا ہے جہاں تک پاکستان نے فوجی ٹینکوں پر سوار ہو کر رسائی حاصل کی ہے۔ دنیا کے سوا سو ملکوں کے لوگوں کے غذائی معیار کا اندازہ لگانے والوں نے ان ملکوں میں بچوں کی عمروں اور ان کے وزن کے باہمی تعلق کو پرکھا ہے۔

خواتین کی جسمانی مدافعت کا اندازہ لگایا ہے اور اس اندازے سے ان کی خوراک کا رشتہ جوڑا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ ان سوا سو غریب ملکوں کے لوگوں کی پینے کے صاف پانی تک رسائی کس حد تک ممکن ہے؟ ان لوگوں میں سے ذیابیطس یا شوگر اور موٹاپے کی بیماری کتنے فیصد لوگوں کو لاحق ہے؟بہت سے معاملات میں پاکستان سے آگے نکل جانے والا بنگلہ دیش غذائی معیار کے معاملے میں پاکستان اور ہندوستان سے بہت پیچھے ایک سو دو نمبر پر ہے۔ لائوس کا نمبر ایک سو بارہ ہے۔

دنیا کے تیس 30 ممالک بدترین غذائی معیار کی زد میں آتے ہیں جن میں چاڈ سب سے نیچے اور اس کے ساتھ برونڈی، یمن، مڈغاسکر، ایتھوپیا اور انگولا موجود ہیں۔ امریکہ اس معاملے میں دنیا کے بارہ ملکوں سے نیچے تیرھویں نمبر پر ہے۔ امریکہ کو اس درجے پر لانے میں وہاں کی اشیائے خوردنی کی مہنگائی کا بھی ہاتھ ہے۔ امریکہ سے بہتر غذائی معیار سوئٹزرلینڈ کا فرانس اور جاپان کا ہے۔ یورپ کے ملکوں میں آسٹریلیا اس میدان میں سب سے اوپر بتایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ آئرلینڈ، اٹلی، پرتگال اور لیکسمبرگ موجود ہیں۔اس معاملے کا دردناک پہلو یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے سات ارب لوگوں میں سے 84 کروڑ لوگ روزانہ بھوک کے عذاب کو برداشت کرتے ہیں جب کہ عالمی سطح پر ہر انسان کی ضرورت کی خوراک موجود ہے مگر قدرت کی اس فیاضی پر عالمی سرمایہ داری نظام کا قبضہ غاصبانہ ہے۔ حقیقت بلکہ صداقت یہ ہے کہ قدرت کسی بچے کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی ضرورت کی خوراک اس بچے کی ماں کے سینے میں پیدا کر دیتی ہے۔ اگر قدرت انسان کے مستقبل سے مایوس ہو چکی ہوتی تو بچوں کی پیدائش کا سلسلہ ختم ہو جاتا چنانچہ کہا جاتا ہےاور صحیح کہا جاتا ہے کہ ہر بچے کی پیدائش سے پتہ چلتا ہے کہ قدرت ابھی انسان سے مایوس نہیں ہوئی۔ ہر پیدا ہونے والے بچے کی ضرورت کی خوراک، اناج، پھل اورسانس لینے کی جگہ اورگنجائش موجود ہے اور اس جگہ اور گنجائش پر غاصبانہ قبضے واگزار کرانے کی انسانی صلاحیت بھی موجود ہے جس کو بروئے کار لانے کی ضرورت بھی موجود ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

قدرت ابھی انسانوں سے مایوس نہیں ہوئی
قدرت ابھی انسانوں سے مایوس نہیں ہوئی

Comment on this post