مائوزے تنگ …میڈ ان چائینہ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

مائوزے تنگ …میڈ ان چائینہ

چین کے بانی ماؤزے تنگ کا ایک ہی بیٹا تھا ،کوریا کے ساتھ ہوئی جنگ میں اپنے اس اکلوتے بیٹے کو سب سے پہلے جنگ پر روانہ کر دیا، جب اس کی لاش واپس آتی ہے تو یہ کہہ کر رونے سے انکار کر دیتے ہیں کہ ’’اس جنگ میں ایک میرا ہی بیٹا کام نہیں آیا ،بے شمار والدین اپنے اپنے بچوں کی لاشیں وصول کر رہے ہیں پہلے ان کا غم ہے پھر میرا،میں پہلے ان کے آنسو پونچھ لوں ‘‘۔یہ تھی برداشت جس نے چین جیسے ملک کو ایک قوم بنا دیا۔اتنی بڑی عمر میں سردی اپنی انتہا پر ہے ،ماؤنے اعلان کر دیا کہ میں آج رات کو اتنی سخت سردی میں دریائے شنگھائی تیر کر پار کروں گا۔جما دینے والی سردی ہے سارا شہرماؤ کو دیکھنے کے لیے امڈ پڑتا ہے ،عوام کا اتنا رش ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو دھکے مار کر آگے آنے کی کوشش کر رہے ہیں،وہ آئے ،کپڑے اتارے اور یخ بستہ رات میں دریائے شنگھائی کے یخ بستہ پانی میں چھلانگ لگا دی ،سارا دریائے شنگھائی تیر کر پار کیا اور پھر واپس تیر کرجہاں سے چھلانگ لگائی تھی وہیں پر آ گئے۔

ماؤ زے تنگ انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھتے تھے۔اتنی انگریزی کتابیں پڑھ رکھی تھیں جتنی انگریزادیبوں نے بھی نہیں پڑھی ہوں گی،یورپ میں شائع ہونے والی ہر انگریزی کتاب خاص طور پر منگوا کر پڑھتے تھے۔جب رچرڈ نکسن چین کے دورے پر آیا تو ماؤزے تنگ نے اسے اس کی لکھی ہوئی ساری کتابیں دکھائیں تو رچرڈ نکسن بہت حیران ہوا،اسے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ماؤزے تنگ انگریزی بھی جانتے ہیں ،اس کے علاوہ نکسن کے لیے یہ بھی حیرانی کا باعث تھا کہ ماؤزے تنگ انگریزی جاننے کے باوجود اس کے ساتھ مترجم کے ذریعے بات کرتے تھے۔ ماؤزے تنگ نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کے سامنے انگریزی کا ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا تھا۔اس کیوجہ وہ یہ بتاتے تھے کہ ایک تو میں چین اور چینی زبان سے محبت بہت کرتا ہوں دوسرا میں دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ’’چین کوئی گونگا نہیں ہے‘‘ چین کی ایک زبان ہے جس کو ہم سے بات کرنی ہے یا ہماری بات سمجھنی ہے وہ ہماری زبان سیکھے۔ ماؤزے تنگ کی برداشت اگر آپ نے دیکھنی ہے تو آپ کے لیے یہی کافی ہے کہ ماؤزے تنگ کو جب کبھی انگریزی زبان میں کوئی لطیفہ سنایا جاتا تو ان کے چہرے کے تاثرات اور ان کی آنکھوں کے رنگ میں ذرہ بھر بھی کمی یا زیادتی نہیں ہوتی تھی حالانکہ وہ انگریزی کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے۔

مگر جب اسی لطیفے کا چینی زبان میں ترجمہ کیا جاتا تو ماؤزے تنگ کھلکھلا کر ہنستے اور ان کا قہقہہ سب سے اونچا ہوتا۔ ماؤزے تنگ کی ایک اور بھی خوبی ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کسی بھی دوسرے ملک کا دورہ نہیں کیا،انہوں نے کبھی کسی دوسری سر زمین پر قدم نہیں رکھا۔ان کا کہنا تھا کہ میں چینی لیڈر ہوں اور چین میں ہی رہوں گا ،اسی وجہ سے چو این لائی ان کی جگہ دوسرے ملکوں کے دورے کرتے تھے۔ یہ تھی اس لیڈر شپ کی خوبیاں ،جس لیڈر شپ نے چین کو کسی اسلحہ اور فوج کے بغیر ہی دنیا کا اگلا سپر پاور بننے کی راہ ہموار کی۔جس نے اپنے ازلی دشمنوں کو بھی ’’ میڈ ان چائینہ‘ چیزیں استعمال کر نے پر مجبور کر دیا۔ ٭…٭…٭ 

Published on China, Mao Zedong, Made in China

Comment on this post