نجکاری… اقتصادی دہشت گردی ہے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

نجکاری… اقتصادی دہشت گردی ہے
نجکاری… اقتصادی دہشت گردی ہے

آئی ایم ایف کے حکم پر میاں نواز شریف کی مسلم لیگی حکومت نے قومی اثاثوں کی نیلامی کا رکا ہوا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ہے۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کی خوں آشامی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس نظام نے کیپٹلزم کی جگہ اپنا نام گلوبلائزیشن رکھ لیا ہے۔ خوبصورت نام کے پردے میں اقوام عالم کو عالمی سامراجیت کا غلام بنایا جارہا ہے۔ نجکاری اسی غلامی کا خوبصورت نام ہے۔ یہ کام عالم اسلام اور تیسری دنیا میں جمہوریت اور لبرلزم کے پردے میں جاری ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے امریکہ قوموں کو آئی ایم ایف کی اقتصادی زنجیروں میں جکڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی برسراقتدار آنے کے بعد آئی ایم ایف سے ایسا معاہدہ کرلیا ہے جس کے تباہ کن نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو ایک خط تحریر کیا گیا ہے جس میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ رواں سال کے دوران میں نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے گا، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا، جنوری سے ملک بھر میں بجلی کی فراہمی بلوں کی وصولی سے منسلک ہوگی۔ تین لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا اور ٹیکس چوری کو منی لانڈرنگ کا جرم تسلیم کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کو تحریر کیا جانے والا یہ خط وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ انتخابات سے قبل نگراں حکومت کے دور میں وزارت خزانہ کے معاشی منتظمین نے نئے قرضے اور ان کے ساتھ منسلک سخت شرائط کے لیے بات چیت مکمل کرلی تھی اور مستقبل میں قائم ہونے والی حکومت کے نمائندے اور وزیر خزانہ کی حیثیت سے اسحاق ڈار مشاورت میں شامل تھے اور مسلم لیگ ن نے اپنے انتخابی منشور اور پاکستان کے عوام کے مفادات کے برعکس وہ معاہدہ کیا جس کے تباہ کن اثرات 6 ماہ کے اندر ہی ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پاکستان ایشیا کے مہنگے ترین ملکوں میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے تقریباً 40 فیصد آبادی کے لیے روزانہ دو وقت کھانا بھی عذاب بن گیا ہے۔ حکومت نے درجہ بہ درجہ تمام بنیادی ضروریات کے نرخوں میں اضافہ شروع کردیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے نے ہر شے کی قیمت اور زرعی، صنعتی اور تجارتی پیداواری لاگت میں اضافہ کردیا ہے اور اب اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کے حکم پر قومی اداروں کی لوٹ سیل لگا دی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آئندہ تین برسوں میں 32 قومی اداروں کو فروخت کردے گی، میاں نواز شریف بھی اپنے پیش روآصف علی زرداری کی طرح عالمی طاقتوں کویقین دہانیاں کراکے برسراقتدار آئے ہیں۔ یہ لوگ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور خونخوار سرمایہ دارانہ ذہن کے مطابق ہی سوچتی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اقتصادی امراض کی تشخیص ہی غلط ہے، بلکہ یہی ذہن پاکستان کے اقتصادی امراض کے ذمہ دار ہیں جب سے پاکستان میں معین قریشی جیسے عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں کی حکومت میں آمد شروع ہوئی ہے اس وقت سے معیشت تباہ اور امریکی غلامی کے ساتھ اقتصادی خودمختاری ختم ہوتی جارہی ہے۔ غربت اور امارت میں فرق بڑھتا جارہا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے تشکیل دی جانے والی اقتصادی پالیسیوں کا ہدف پاکستان کی خودمختاری اور آزادی کا خاتمہ بھی ہے اور اس مقصد کے لیے دفاعی اور تزدیرانی اہمیت رکھنے والے اداروں پر امریکی اور عالمی سرمایہ داری کا براہ راست کنٹرول لازمی ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کی زنجیر میں جکڑ بندی کا دوبارہ آغاز 2008ء کے انتخابات کے بعد آصف علی زرداری کی حکومت میں ہوا ۔ایک بینکار شوکت ترین نے مختصر مدت میں وزارت خزانہ کی سربراہی کے منصب پر فائز ہو کر ملکی معیشت آئی ایم ایف کے سخت شکنجے میں جکڑنے والے معاہدے کیے اب دوسرااور زیادہ سخت ترین اور تباہ کن معاہدہ میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ہوا ہے۔ میاں نواز شریف کو سیاسی عروج اور عوامی مقبولیت، قرض اتارو ملک سنوارو اور میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا جیسے نعروں سے حاصل ہوئی تھی، لیکن وہ ایسے فیصلے کررہے ہیں جن سے بے روزگاری بھی پھیلے گی ‘ مہنگائی کا طوفان بھی آئے گا اور قومی خودمختاری پر بھی منفی اثرات پڑیں گے۔ نجکاری کا عمل برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی غلامی سے بھی بدتر ہے۔ اس لیے کہ اس وقت کم از کم یہ شعور اور احساس تو تھا کہ ہم غیروں کے غلام ہوگئے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی مدد کرنے والے میر جعفر اور میر صادق غدار قرار دیے گئے۔ پلاسی سے لے کر 1857 کی ناکام جنگ آزادی تک مزاحمت کی تاریخ رقم کی گئی لیکن اب قوم کے غدار ہیرو بن کر سامنے آرہے ہیں۔ قومی اداروں کی نجکاری کے حوالے سے یہ امر بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کی منظوری بھی ضروری ہے۔ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں قومی اداروں بالخصوص پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس لیے نجکاری کمیشن کی منظوری کے بعد اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ گئی ہے۔ یہ تاثر غلط ہے۔ اس کے باوجود اصل مسئلہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے نعروں اور دعووں کے باوجود قومی فیصلہ سازی میں پارلیمنٹ کا کوئی حقیقی کردار نہیں ہے۔ عالمی شہرت یافتہ خاتون دانشور ارون دھتی رائے کے مطابق مغربی جمہوریت سرمایہ داروں کی لونڈی بن گئی ہے۔ پاکستان میں منتخب نمائندوں کی پارلیمنٹ اس رائے کی تصدیق کررہی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں ‘شخصیات اور خاندانوں کی جاگیر بن چکی ہیں۔ ارکان پارلیمان کی نصف سے زیادہ تعداد اپنے علاقوں پر قابض وڈیروں پر مشتمل ہے جنہیں عوام کی فلاح اور قومی مفادات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جبکہ خاکی اور سول بیورو کریسی کی جگہ ملٹی نیشنل بیوروکریسی لے رہی ہے ۔ اس طبقے نے بدعنوانی کو حکمرانی کا رائج الوقت سکہ بنا دیا ہے۔ نجکاری جیسے اہم اور کلیدی مسئلے پر احتجاج اور مزاحمت کی آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز بنی ہوئی ہے۔ سارے سابقہ سوشلسٹ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے نئی سرمایہ داری کی فوج کے سپاہی بن گئے ہیں۔ نجکاری کے خلاف مزدور تحریکیں کمزور سی جدوجہد کررہی ہیں لیکن یہ مسئلہ صرف مزدور تنظیموں کا نہیں ہے بلکہ قومی مسئلہ ہے۔ قومی مسائل پر کردار ادا کرنا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے، لیکن بیشتر سیاسی جماعتیں اس بصیرت سے بھی محروم ہیں جس کی روشنی میں خطرات کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔

Comment on this post