پروفیسر عبدالغفور احمد‘ دیانت داری کی اعلیٰ مثال

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 پروفیسر عبدالغفور احمد‘ دیانت داری کی اعلیٰ مثال
 پروفیسر عبدالغفور احمد‘ دیانت داری کی اعلیٰ مثال

روفیسر عبدالغفور احمدؒ ایک زمانے میں اوکاڑہ برلا کاٹن ملز میں اکائونٹس کے شعبے میں بہت اہم ذمہ داری پر فائز ہوئے تھے۔ سیٹھ برلا برصغیر میں تقسیم ہند سے قبل بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بہت مشہور کارخانہ دار تھے۔ پاکستان میں ان کی طرف سے سیٹھ ڈالمیا لقب کے ایک آدمی اس ملز کے ایک طرح سے خودمختار منتظم تھے، جنہیں اپنے کاروبار کی ترقی سے واسطہ تھا۔ پاکستان میں پورا ٹیکس ادا کرکے یہاں کی معاشی حالت سدھارنے میں اپنا حصہ ادا کرنے سے انہیں ہرگز کوئی دلچسپی نہ تھی، بلکہ اس ضمن میں بچائو کے لیے وہ مختلف لوگوں کو مکھن لگادیا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں وزراء تک میری جیب میں ہیں۔
ایسے کارخانہ کے حسابات میں پروفیسر عبدالغفور احمدؒ نے ایک مختصر مدت کے بعد یہ معلوم کرلیا کہ اس ملز میں پاکستان کو ہر ماہ لاکھوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ وہ اس بارے میں سیاسی اور انتظامی شعبے کی طرف سے چھوٹ دینے کی واردات سے بھی آگاہ ہونے لگے، لیکن انہیں جل بھن کر کڑھتے رہنے کے سوا کوئی طریقہ نہ سوجھا کہ جس سے وہ قوم کے اس نقصان کا ازالہ کراسکتے۔ ایک راستہ یہ تھا کہ وہ وہاں سے استعفیٰ دے کر چلے جاتے۔ لیکن اس طرح بدعنوانی قوی اور وسیع تر ہوتی رہتی اور قومی مفاد حاصل نہ ہوتا۔
1958ء میں صدرِ پاکستان اسکندر مرزا اور پھر جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد حکمرانوں کی توجہ ملک میں کرپشن پر مرکوز ہوئی اور چند ماہ بعد برلا کی ٹیکس چوری بھی مارشل لاء حکام کی نگاہ میں آگئی۔ واضح رہے کہ اس ملز کو اپنے قیام کے بعد جلد ہی ستلج کاٹن ملز اوکاڑہ کا نام دے دیا گیا تھا۔ جب پڑتال شروع ہوئی تو سیٹھ ڈالمیا گھبراگئے اور ملز میں موجود مزدور اور یونین کے صدر کامریڈ عبدالسلام کا تعاون ان کے کچھ کام نہ آیا۔ اگرچہ اکائونٹس کے شعبے کے کچھ اہلکار اندر ہی اندر اپنے سیٹھ کی خوشنودی کو ملکی مفاد پر ترجیح دیتے تھے، لیکن اوپر پروفیسر صاحب بھی تو تھے۔ وہ ریکارڈ میں کسی تبدیلی میں شریک نہ ہوسکتے تھے جس سے ملکی نقصان جاری رہتا اور صرف ہندوستان کی معیشت مضبوط ہوتی رہتی۔ اس صورت حال سے بمبئی میں سیٹھ برلا کو مطلع کیا گیا۔ اس نے معمول کے مطابق اپنے جنرل منیجر کو کچھ رقم خرچ کرکے پروفیسر صاحب کو رام کرنے کی ہدایت کی۔ اُس وقت وہاں دو اور افراد بھی مختلف شعبوں میں ملازمت کرتے تھے جن میں ایک رائو قدرت علی خانؒ تھے جو کبھی بھارت میں بلند شہر کے مہنز بھی تھے۔ وہ ایک بڑے زمیندار تھے اور اس علاقے میں ہندوئوں پر انہیں نمایاں برتری حاصل تھی۔ دوسرے صاحب چودھری حشمت علیؒ تھے۔ اس طرح مل کے سادہ دل اور محبّ وطن اسٹاف اور مزدور ان سب حضرات کے حسن اخلاق، فرض شناسی اور دیانت داری کے معترف تھے۔ مزدوروں کو بھی یہ یقین ہوگیا تھا کہ اگر ملز کے منافع کی صحیح رقوم کا تعین ہونے لگے تو ان کے مفادات کا تحفظ ہوگا اور بونس میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہی حالات میں مزدور قیادت یعنی لیبر یونین والے کامریڈ صاحب کے رخ سے مزدور بہبودی کا نقاب سرکنے لگا۔
سیٹھ ڈالمیا اور جنرل منیجر نے پروفیسر صاحبؒ اور ان کے ان دو ساتھیوں پر لکشمی دیوی کے درشن کے لیے کئی جھروکے کھول دیئے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ دانہ و دام کسی اور پر ڈالیے، عنقا کا آشیانہ بلند ہے جو اپنے زورِ بازو سے اپنا رزق حاصل کرتا ہے۔ یہ اطلاعات بمبئی میں برلا صاحب کو بھی پہنچیں۔ بالآخر ملز انتظامیہ کی پیشکش لاکھوں تک پہنچ گئی لیکن پروفیسر عبدالغفور احمدؒ اور ان کے دونوں ساتھی ریکارڈ میں تبدیلی کے لیے ڈالمیا صاحب کی منشا پوری کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو بمبئی سے برلا صاحب نے اپنے اوکاڑہ کے جنرل منیجر سیٹھ ڈالمیا سے کہا کہ ان لوگوں کا کچھ اتا پتا کرو۔ ڈالمیا نے ان کو بتایا کہ یہ جماعت اسلامی پاکستان کے لوگ ہیں۔ اس جواب پر برلا سیٹھ نے کہہ دیا کہ یہ لوگ پوری ستلج کاٹن فیکٹری کی پیشکش بھی قبول کرکے اپنے مؤقف سے ہٹنے پر آمادہ نہ ہوں گے، لہٰذا ٹیکس ادا کرکے جان چھڑالو۔ اس طرح ایک نوجوان بھاری رقم ملنے کے امکانات کے باوجود اپنے اصولی مؤقف سے نہ ٹلا۔ یہاں رائو قدرت خانؒ کا مختصر ذکر بھی مناسب رہے گا۔ پاکستان میں مہاجرین کی آبادی اور بحالی کے شعبے میں بہت زیادہ بدعنوانی راہ پاگئی تھی۔ رائو صاحب نے اپنی زرعی اور شہری جائداد (مکانات اور دکانیں) کے کلیم داخل کیے جنہیں منظور کرانے کے لیے انہوں نے بڑی جدوجہد کی لیکن اس کے لیے رشوت دینے پر ہرگز آمادہ نہ ہوئے۔ ان کی بیوہ بہن کے حصے میں اوکاڑہ شہر میں ایک مکان الاٹ ہوگیا جو انہوں نے اپنے بھانجوں کو دلوایا لیکن خود ساری عمر کرائے کے مکان میں رہے۔ دیپالپور کے ایک گائوں میں ان کو بہت تھوڑا رقبہ اپنے بڑے کلیم کے عوض مل سکا۔ یقینا وہ اپنے رب قدوس و کریم کے ہاں بڑے مرتبے والے ہوں گے۔ ان حالات میں بھی ان کی دیانت داری، شرافت، وسیع النظری کے ہم نے متعدد خوبصورت رنگ دیکھے۔ رائو قدرت علی نے یہاں پاک لیبر یونین قائم کرکے اوکاڑہ سے کمیونسٹوں کی جڑیں اکھاڑ دی تھیں۔ وہ شہر جسے قیام پاکستان کے بعد 1951ء میں کمیونسٹوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے لیے چنا گیا تھا اب ہمیشہ کے لیے غیر اسلامی نظام کے لیے ممنوعہ علاقہ بن چکا تھا۔ مزدوروں میں جماعت اسلامی کے ان تین ارکان کے بلند کردار اور بنی نوع انسان سے مخلصانہ محبت نے یہاں اوکاڑہ میں یہ کامیابی حاصل کی تھی۔
چودھری محمد رفیق وڑائچ

Comment on this post