Overblog Follow this blog
Edit post Administration Create my blog

Dr.Shahid Hassan - نئی حکومت کیا کرے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

Dr.Shahid Hassan - نئی حکومت کیا کرے
Dr.Shahid Hassan - نئی حکومت کیا کرے

اس امر میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ نومنتخب حکومت کو تباہ حال معیشت ورثے میں ملے گی۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ خالق کائنات نے پاکستان کو جو مادی و انسانی وسائل عطا فرمائے ہیں اگر ان کا دیانتدارانہ استعمال کیا جائے اور جون 2013ء میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جانے والا بجٹ پاکستان مسلم لیگ ن کے 2013ء کے منشور کی روح کے مطابق بنایا جائے تو 2013-14ء میں ہی معیشت میں بہتری نظر آئے گی اور عوام کی تکالیف میں بھی کمی ہو گی۔ فروری 1997ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اور اس کے اگلے برس وزیراعظم کی حیثیت سے نواز شریف نے جو درد مندانہ اور بصیرت افروز کلمات کہے تھے ان میں سے چند یہ ہیں۔

(1) آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے ”ہمارے پاس اپنا بجٹ بنانے کی آزادی بھی نہ رہی، ہم اپنے عوام کو مہنگائی سے بچانے کے قابل بھی نہ رہ گئے“۔ (2) ہمیں کہا جاتا ہے کہ آٹا مہنگا کر کے بھوکے اہل وطن کے منہ سے نوالا چھین لو تو ہم یہ بے رحمی کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں۔ (3) وقت نے خود ہی (جوہری دھماکے کرنے کی پاداش میں لگنے والی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے) قرضوں کے راستے تنگ کر کے ہمیں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع دیا ہے۔ ہم غیروں کے سامنے دست سوال دراز کر کے اپنی عزت نفس کو مجروح نہیں کریں گے۔ (4) قومی ایجنڈے کے بنیادی ستون خود کفالت، خودانحصاری، عوام کی فلاح و بہبود اور کفایت شعاری ہیں۔ ضرورت پڑنے پر پیٹ پر پتھر باندھنے کے لئے بھی تیار ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں معیشت کے شعبے میں تمام تر تباہ کاریوں کے باوجود آج نہ تو پیٹ پر پتھر باندھنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی سے قربانی مانگنے کی۔ اگر مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور 2013ء پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو نہ صرف معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ 2013-14ء میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے گی اور بغیر داخلی قرضہ لئے سرکلر ڈیٹ بھی ختم ہو جائے گا۔ اگر انتخابی منشور اور مندرجہ بالا رہنما اصولوں کو نظر انداز کیاگیا، امریکی ایجنڈے کے مطابق امریکہ کی عسکری اور آئی ایم ایف کی کڑی معاشی شرائط پر آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا اور اگلا وفاقی بجٹ ان شرائط کی روشنی میں بنایا گیا تو یہ قومی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ امید کی جانی چاہئے کہ اگلا وفاقی اور کم از کم صوبہ پنجاب کا بجٹ اس منشور کی روشنی میں ہی بنایا جائے گا اگر ایسا ہوا تو ہماری مندرجہ ذیل تجاویز جو گزشتہ کئی برسوں سے ہم انہی کالموں میں وقتاً فوقتاً پیش کرتے رہے ہیں بجٹ تجاویز میں لازماً شامل ہوں گی۔

(1)ایک مقررہ حد سے زائد ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس منصفانہ شرح سے نافذ اور وصول کیا جائے۔ اس طرح 2013-14ء میں ہی ٹیکس اور مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب کو16فیصد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ ٹیکس حکام سے خفیہ رکھی ہوئی آمدنی سے ملک کے اندر بنائے ہوئے کئی ہزار ارب روپے کے اثاثوں کی تفصیلات مع شناختی کارڈ نمبر ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اگر ان تفصیلات کا موازنہ سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں میں بتائے گئے اثاثوں سے کیا جائے تو کئی ہزار ارب روپے کے ایسے اثاثے معلوم ہو جائیں گے جو ایسی آمدنی سے بنائے گئے ہیں جن پر انکم ٹیکس ادا ہی نہیں کیا گیا تھا۔ اگر ان اثاثوں پر مروجہ قوانین کے تحت انکم ٹیکس وصول کیا جائے تو 2013-14ء میں ہی 2000/ارب روپے سے زائد کی وصولی ممکن ہے جس سے ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب مزید بڑھ جائے گا اور معیشت بھی بڑی حد تک دستاویزی ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اشیائے صرف پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 16فیصد سے کم کرنا اور پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنا ممکن ہوگا۔ گزشتہ کئی برسوں سے پیش کی جانے والی ہماری یہ تجویز مسلم لیگ ن کے منشور کے مندرجہ ذیل نکات کے مطابق ہے۔

(i) ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ براہ راست ٹیکسوں میں اضافہ کر کے ٹیکسوں کے نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے گا۔(ii) انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل شدہ مواد (ڈیٹا بیس) کو زیادہ سے زیادہ استعمال کر کے ٹیکس دہندگان کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
(iii) ٹیکس چوری میں کمی کی جائے گی۔

(2) بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے سے پہلے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا جائے جس میں وفاق اور صوبے 2013-14ء کے لئے ٹیکسوں کی وصولی، بجٹ خسارے، تعلیم، صحت اور ترقیاتی اخراجات کے تخمینوں پر اتفاق رائے کیا جائے۔ یہ تجویز بھی بنیادی طور پر مسلم لیگ ن کے منشور سے ہم آہنگ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں سے کہا جائے گا کہ وہ ٹیکسوں کی مد میں وصولی میں اضافہ کریں۔ (3) بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات، کالے دھن اور لوٹی ہوئی دولت کو سفید کرنے کا ذریعہ بن گئی ہیں چنانچہ انکم ٹیکس آرڈی ننس کی شق 111(4) پر نظرثانی کی جائے جس کے تحت ان ترسیلات کے ضمن میں ”کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا“ کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ پرائز بانڈز اسکیم کو ختم کر دیا جائے یہ تجاویز بھی مسلم لیگ ن کے منشور سے مطابقت رکھتی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کالے دھن کو سفید بنانے کے عمل کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

دہشت گردی کی جنگ سے پاکستانی معیشت کو97/ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے ہم تجویز دیں گے کہ جون 2013ء کی بجٹ تقریر میں نہ صرف معیشت کی صحیح صورتحال سے قوم کو مطلع کیا جائے بلکہ یہ بھی بتایا جائے کہ (i) دہشت گردی کی جنگ سے30جون 2013ء تک معیشت کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ کیا ہے۔ (ii) امریکہ نے نائن الیون کے بعد سے مختلف مدوں میں پاکستان کو کتنی امداد دی ہے۔ (iii) اتحادی امدادی فنڈ کی مد میں کتنی رقوم کے بل امریکہ کو ادائیگی کے لئے پیش کئے گئے ہیں اور امریکہ نے کتنی رقوم کی ادائیگی کی ہے۔

خیبرپختونخوا میں عمران خان کی تحریک انصاف حکومت بنائے گی۔ انہوں نے اس صوبے کو مثالی صوبے بنانے کا عزم کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جون 2013ء کو پیش کئے جانے والے صوبائی بجٹ میں زرعی اور جائیداد کے شعبے کو موثر طور پر ٹیکس کے دائرے میں لا کر صوبائی ٹیکسوں کی مد میں کتنی وصولی بڑھائی جاتی ہے۔ انسانی وسائل کی ترقی و عوام کی فلاح و بہبود کی مد میں کتنی اضافی رقوم مختص کی جاتی ہیں اور کرپشن پر قابو پا کر کتنے اضافی وسائل حاصل کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح امن و امان کی حالت بہتر بنانے، ملکی و بیرونی سرمایہ کاری کے لئے ماحول کو سازگار بنانے، صوبے کے مادی وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اور بینک آف خیبر کے ذریعے زکوٰة کے نظام کو مائیکرو فنانس سے منسلک کرنے کے لئے اگر مربوط حکمت عملی کے ذریعے موثر اقدامات اٹھائے جائیں تو ان سے صوبے کی معیشت میں زبردست بہتری آ سکتی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

Comment on this post