Overblog Follow this blog
Edit post Administration Create my blog

اور اب ’’فافین‘‘ رپورٹ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

اور اب ’’فافین‘‘ رپورٹ
اور اب ’’فافین‘‘ رپورٹ

گیارہ مئی 2013ء کے عام انتخابات پاکستان کی تاریخ میں ممکنہ حد تک سب سے زیادہ صاف ،شفاف اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات تھے۔ جمہوری ملکوں میں عام انتخابات کے لئے غیر جانبدار نگران حکومتیں تشکیل نہیں پاتیں بلکہ سٹنگ گورنمنٹ کی موجودگی میں ہی انتخابات ہوتے ہیں لیکن وہاں الیکشن کمیشن اتنا طاقتور اور الیکشن پراسیس ایسا صاف شفاف ہوتا ہے کہ حکومتی پارٹی کسی دھاندلی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ اپنے پڑوس (انڈیا) میں بھی یہی ہوتا ہے البتہ بنگلہ دیش میں الیکشن کے لئے نگران حکومت کا تجربہ کیا گیا جسے حسینہ واجد کی حکومت نے آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کردیا، اس پر خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے حالیہ انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔

پاکستان میں 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے وجود میں آنے والی جونیجو حکومت سے لے کر 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی کارروائی کے ذریعے ختم کی جانے والی نواز شریف کی دوسری حکومت تک کوئی بھی حکومت پانچ سال کی آئینی مدت پوری نہ کرسکی، اس لئے ان حکومتوں کی قبل از وقت رخصتی کے بعد نئے انتخابات نگران حکومتوں کے ذریعے ہوئے۔ ظاہر ہے کہ یہ نگران حکومتیں ایوان صدر اور اسٹیبلشمنٹ کی نامزد کردہ تھیں، ایوان صدر اور اسٹیبلشمنٹ ان نگران حکومتوں اور کمزور و لاچار الیکشن کے باوجود انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے میں کس حد تک کامیاب یا ناکام رہے۔ وہ ایک الگ کہانی ہے جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ کہ شکست خوردگان اپنے ساتھ دھاندلی کا الزام لگاتے رہے۔ اس میں کبھی کبھار دلچسپ مناظر بھی سامنے آئے۔ مثلاً اگست 1990ء میں محترمہ کی پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد عام انتخابات غلام مصطفیٰ جتوئی کی نگران وزارت عظمیٰ نے کرائے۔

انتخابات کے بعد منتخب وزیر اعظم کے طور پر بھی جتوئی صاحب ہی ایوان صدر اور اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے تھے لیکن عام انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ نواز شریف کے لئے تھا اس لئے وزارت عظمیٰ کے لئے ان کا راستہ روکا نہ جاسکا۔ آئی جے آئی کے مقابلے میں پیپلز پارٹی چار جماعتی اتحاد (پیپلز ڈیموکرٹیک الائنس) کا حصہ تھی، دیگر جماعتوں میں اصغر خاں کی تحریک استقلال، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور مسلم لیگ (ملک قاسم) شامل تھیں۔ انتخابی نتائج کے مطابق آئی جے آئی نے 106 اور پی ڈی اے نے 44 نشستیں حاصل کیں تو پی ڈی اے کے سیکرٹری جنرل خورشید قصوری نے ’’انتخابی دھاندلیوں‘‘ پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کیا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں قصوری صاحب نے نواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی اور1993ء اور1997ء کا الیکشن مسلم لیگ کے ٹکٹ پر لڑا۔ دسمبر 1992ء میں نواز شریف حکومت کے خلاف ٹرین مارچ میں محترمہ لاہور پہنچیں تو خورشید قصوری کی رہائش گاہ (مین بلیوارڈ گلبرگ) پر عشائیہ میں اخبار نویسوں سے گفتگو میں محترمہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ مارچ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف کررہی ہیں، اس پر ہمارے ایک منہ پھٹ دوست نے محترمہ کے دائیں جانب تشریف فرما جناب غلام مصطفیٰ جتوئی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، اس صورت میں آپ کو لانگ مارچ ان کے خلاف کرنا چاہئے کہ انتخابات ان ہی کی نگرانی میں ہوئے تھے۔

1993ء کے عام انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوئے تو نواز شریف کی مسلم لیگ آگے نظر آرہی تھی، تب رات گئے بی بی سے انٹرویو میں محترمہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا رہی تھیں لیکن صبح تک منظر بدل چکا تھا۔ مسلم لیگ کی 73 نشستوں کے مقابلے میں پیپلز پارٹی نے89 نشستوں کے ساتھ سنگل لارجسٹ پارٹی کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔

نومبر 1996ء میں محترمہ کی دوسری حکومت کی برطرفی کے بعد ایوان صدر احتساب کے نام پر دو، ڈھائی سال کے لئے انتخابات کو ملتوی رکھنا چاہتا تھا۔ ہدف نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو الیکشن سے باہر رکھنا تھا لیکن یہ کھیل نہ کھیلا جاسکتا۔ لغاری صاحب کو آئین کے مطابق90 روز کے اندر الیکشن کرانا پڑے اور نواز شریف کی دوسری حکومت کا راستہ نہ روکا جاسکا۔

17 ویں ترمیم کے ذریعے عام انتخابات نگران حکومتوں کے ذریعے کرانے کا آئینی اہتمام کیا گیا ، 18ویں اور 19 ویں ترامیم کے ذریعے نگران حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو حقیقی معنوں میں آزاد و غیر جانبدار بنانے کا اہتمام ہوا۔ وفاق اور صوبوں میں نگران وزیر اعظم اور نگران وزراء اعلیٰ کے تقرر کے لئے اپوزیشن سے ’’بامعنی مشاورت‘‘ لازم قرار پائی۔ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر کو بھی شفاف بنانے کے علاوہ ان کی مدت کو پانچ سال کا آئینی تحفظ بھی دیدیا گیا، چنانچہ 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات پاکستان کی تاریخ کے ممکنہ حد تک شفاف ترین انتخابات تھے جس میں پہلی بار باتصویر کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹیں تھیں۔ وفاق اور صوبوں میں حزب اختلاف کی تائید کے ساتھ قائم ہونے والی نگران حکومتیں تھیں، مستعد میڈیا تھا، متحرک سول سوسائٹی تھی، طاقتور عدلیہ تھی اور سب سے بڑھ کر پرجوش عوام تھے۔

ان انتخابات میں ووٹرز ٹرن آئوٹ بھی شاید پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تھا۔ (55 فیصد) لیکن دلچسپ المیہ یہ کہ ان انتخابات کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان لگانے سے گریز نہ کیا گیا۔ انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں ہوں یہ اپوزیشن کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے اصرار اور سیاسی جماعتوں کے مطالبے پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی خدمات ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسروں کے طور پر مہیا کردی تھیں۔ انہوں نے ریٹرننگ افسروں سے خطاب میں انہیں اپنے فرائض ایمانداری کے ساتھ انجام دینے کی تلقین کی کہ وہ اس حوالے سے تاریخ اور اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہیں (الیکشن ہارنے والوں نے چیف جسٹس کے اس خطاب کو نواز شریف کی حمایت کا رنگ دیدیا) ۔11 مئی کی شب، گیارہ بجے جب پولنگ ختم ہوئے 6 گھنٹے گزر گئے تھےاور انتخابی نتائج ہوا کے رخ کا پتہ دے رہے تھے، نواز شریف نے ماڈل ٹائون میں جمع ہونے والے کارکنوں سے خطاب کیا، شکست خوردگان نے اسے بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز کرنے کی کوشش قرار دیدیا۔

گزشتہ دنوں میاں صاحب کے نام نجم سیٹھی کی ٹیلی فون کال کا افسانہ سامنے آگیا جس میں نگران وزیر اعلیٰ میاں صاحب کو پنجاب میں35 پنکچرز کی نوید دے رہے تھے۔ (اس حوالے سے عمران خان کو سیٹھی صاحب کے چیلنج کا جواب اب تک سامنے نہیں آیا) اور اب ’’فافین‘‘ کی رپورٹ آگئی ہے۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (FAFEN) نامی اس این جی او نے الیکشن کے بعد بھی ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق بعض حلقوں میں ووٹرز کی اصل تعداد سے زیادہ ووٹ کاسٹ کئے جانے کا’’انکشاف‘‘ تھا۔ بعد میں فافین کو یہ رپورٹ معذرت کے ساتھ واپس لینا پڑی کہ کاسٹ کئے گئے جن ووٹوں کو اصل ووٹوں سے زیادہ قرار دیا گیا تھا وہ دراصل قومی و صوبائی اسمبلی کے لئے ڈالے گئے ووٹوں کا مجموعہ تھا۔

فافین کی تازہ رپورٹ میں قومی اسمبلی کے ان 35 حلقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں مستردشدہ ووٹوں کی تعداد جیتنے والوں کی برتری سے زیادہ ہے۔ (گویا اگر یہ ووٹ مسترد نہ ہوتے تو ان حلقوں کے نتائج مختلف ہوتے) لیکن اس حوالے سے شائع ہونے والی خبروں سے یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ اس بات کا تعین کیسے ہوا کہ مسترد شدہ ووٹ کس کے تھے؟ کیا ہزاروں کی تعداد میں مسترد شدہ ووٹ صرف دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں ہی کے تھے۔ ظاہر ہے، اس میں کچھ حصہ جیتنے والے امیدوار سمیت دوسرے امیدواروں کا بھی ہوگا۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران ایک ایک ووٹ امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کو دکھایا جاتا ہے اور وہی ووٹ مسترد کئے جاتے ہیں جن کے متعلق یہ طے نہ ہوسکے کہ یہ کس کے حق میں ہیں۔ یہ پریذائڈنگ افسر کا صوابدیدی اختیار نہیں ہوتا کہ جس ووٹ کو چاہے درست قرار دیدے اور جسے چاہے مسترد کردے۔ عمران خان تو اب تک ریٹرننگ افسروں پر دھاندلی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔’’فافین‘‘ نے پریذائڈنگ افسروں کو ملوث کردیا اور اس پر آئو دیکھا نہ تائو، بزرگ کالم نویس، ایڈیٹر نے کالم تک لکھ مارا، جیسے مسترد شدہ تمام ووٹ صرف دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے تھے جس کا فائدہ جیتنے والوں کو پہنچا۔

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

بشکریہ روزنامہ ' جنگ

'

Comment on this post