سستی اور کاہلی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

سستی اور کاہلی
سستی اور کاہلی

بہت سی سٹڈیز سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جسمانی ورزش انسانی دماغ میں بہت سی تبدیلیوں کی وجہ بنتی ہے۔جس میں نئے دماغی خلیوں (Brain cells)کے بننے کے علاوہ دیگر تبدیلیاں بھی شامل ہیں ۔لیکن اب ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فارغ بیٹھنا بھی دماغ کی ہیئت پر اثر انداز ہوتا ہے۔تحقیق کاروں کے مطابق بیٹھے رہنے سے یا کوئی کام نہ کرنے سے دماغ میں ایک خاص قسم کے نیورانز کی تبدیلی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔جس سے نہ صرف دماغ میں تبدیلی آتی ہے بلکہ اس سے دل بھی متاثر ہو تا ہے۔چوہوں پر کی گئی یہ تحقیق بتاتی ہے کہ کسطرح فراغت سے بھرپور لائف سٹائل ہماری زندگی کیلئے خطرناک ہے۔

تقریبا 20سال پہلے تک زیادہ تر سائنسدان اس بات پر متفق تھے کہ دماغ کی تکمیل کا عمل سن بلوغت تک مکمل ہو جاتا ہے۔یعنی اسکے بعد نئے دماغی خلیے پہلے سے موجود خلیوں کا متبادل نہیں بن سکتے یا اسکے علاوہ کسی قسم کی دماغی تبدیلی بلوغت کے بعد نہیں آسکتی۔ لیکن اس کے بعد آنیوالے سالوں میں نیورولوجیکل سٹڈیز سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ انسانی دماغ میں عمر کے کسی بھی حصے میں کسی بھی صورت میں ڈھل جانے یا ری شیپ ہو نے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔جسمانی ورزش کے عمل میں تو خاص طورپر یہ بات یہ بات پائی گئی ہے کہ اس سے دماغ کی ری ماڈلنگ ہوجاتی ہے یعنی بہت سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ہرلحاظ سے ہمارے لیے فائدہ مند ہیں ۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بے عملی(inactivity) بھی ا سی طرح دماغی سٹرکچر پر اثر انداز ہوتی ہے جس طرح متحرک ہونا۔ حال ہی میں کمپیریٹو نیورولوجی کے جرنل میں شائع شدہ ایک تحقیق کے مطابق وائن سٹیٹ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن اور دیگر اداروں کے سائنسدانوں نے مل کر تقریبا ایک درجن چوہوں پر تجربات کیے۔انھوں نے آدھے چوہوں کے نیچے پہیئے لگا کر ان کے پیچھے شکاری جانور چھوڑ دیئے۔اس طرح یہ چوہے ایک دن میں کم و بیش تین میل طے کرتے تھے جبکہ باقی کے آدھے چوہوں کو بیٹھی ہوئی حالت (sendatry) میں قید رکھا۔ تین مہینوں بعد تمام درجن بھر چوہوں کو ایک خاص قسم کا انجیکشن لگایا گیاجس سے چوہوں کے خاص قسم کے دماغی خلیے رنگین ہو نمایاں ہو گئے۔اس انجیکشن سے سائنسدان ان جانوروں کے نیورانز کو مارک کرنا چاہتے تھے تا کہ ان کی پہچان میں آسانی رہے۔یہ مارکنگ دماغ کے ایک خاص حصے میں کی گئی جو دل خون کی شریانیں ،سوزش اور دوسرے بہت سے جسمانی فنکشنز کو کنٹرول کرتا ہے۔سائنسدان اس حصے کو Rostral ventrolateral Medulla یا RVMکہتے ہیں ۔عام طور پر سائنسدان اس حصے کو جانوروں سے ریلیٹ کرتے ہیں لیکن سٹڈیز یہ بتاتی ہیں کہ انسانی دماغ میں بھی یہ خاص حصہ اسی طرح کے افعال سرانجام دیتا ہے۔ اس ضمن میں سستی یا کاہلی کے مقابلے میں بہت زیادہ کام یا اوور ورک کرنے کی بھی ضرورت نہیں ۔کسی بھی کام کی زیادتی نقصان کا باعث بنتی ہے۔اگر ایکسرسائز یا تحرک میں بھی حد سے زیادہ اضافہ کیا جائے گا تو یہ بھی ہمارے نروس سسٹم کیلئے نقصان کا سندیس لائے گا۔آج کل کی سائنس یہ کہتی ہے کہ سمپتھٹک نروس سسٹم کا حد سے زیادہ کام کرنا بھی دل اور خون کی وریدوں کیلئے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ آخر کا ربارہ ہفتوں بعد سائنسدانوں نے ان چوہوں کے دماغ کا مشاہدہ کیا تو ان دونوں گروپس کے چوہوں کے دماغوں میں نیورونز کا واضح فرق دیکھنے کو ملا۔ سائنسدانوں نے کمپیوٹرائزڈ ڈیجیٹل پروگرام کے ذریعے چوہوں کے دماغ میں جھانکا تو واضح ہو گیا کہ جو چوہے بھاگتی پوزیشن میں تھے ان کے نیورونز پہلے کی طرح ہی اپنی حالت میں بر قرار تھے اور نارمل طریقے سے فنگشن کررہے تھے لیکن بیٹھے ہوئے چوہوں کے دماغ میں بہت سی برانچز پیدا ہو گئی تھیں ،جو دماغٰ کے افعال کی انجام دہی میں دقت کا باعث بن رہی تھیں اور نروس سسٹم کو بے شمار میسجز بھیج رہی تھیں جسکی وجہ سے یہ نیورانز نروس سسٹم کیلئے ہنگامی حالات پیدا کررہے تھے۔اس قسم کے حالات میں بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے اور دل کی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں ۔ اس تجربے سے ہماری معلومات میں اضافہ ہو تا ہے کہ کسطرح بے عملی یا سستی اور کاہلی خلیاتی سطح پر ہمارے دماغ کو نقصان کا پہنچاتی ہے اور بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔وائن یونیورسٹی کے ڈاکٹر مولن کیمطابق چوہوں پر کیے گئے ان تجربات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بے عملی ہمارے دماغ کے سٹرکچر اور افعال پر اثر انداز ہوتی ہے۔بالکل اسی طرح جسطرح ایکسرسائز ہوتی ہے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ چوہے انسان نہیں ہوتے اور یہ ایک شارٹ ٹرم سٹڈی ہے لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ بے حرکتی یا Inactivityایک وسیع تر فزیولوجیکل اثر رکھتی ہے اس لئے ہمیں ایک متوازن اور بہتر لائف سٹائل اپنانے کی ضرورت ہے جس میں مناسب ایکسرسائز اور مناسب آرام دونوں موجود ہوں ۔بہت زیادہ کام سے بھی پرہیز کیا جائے اور بہت زیادہ آرام سے بھی۔تب ہی ایک صحت مند زندگی کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

Published on Health, Self Growth, Negligence

Comment on this post