فتح علی ٹیپو عرف ٹیپو سلطان........سپاہی سے حکمرانی تک

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

فتح علی ٹیپو عرف ٹیپو سلطان........سپاہی سے حکمرانی تک
فتح علی ٹیپو عرف ٹیپو سلطان........سپاہی سے حکمرانی تک

سپاہی سے حکمرانی تک
اورنگزیب عالمگیر کی وفا ت کے بعد سلطنتِ مغلیہ تیزی سے روبہ زوال تھی۔ ملک طوائف الملوکی کا شکار تھا۔ چھوٹی بڑی متعدد ریاستیں اور رجواڑے وجود میں آچکے تھے، جن میں ایک معروف ترین نام میسور کی مملکتِ خداداد کا بھی تھا جس کا بانی حیدر علی تھا، جس نے1861ء میں اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت اتنی بڑی سلطنت کو وجود بخشا جس کی سرحدیں اگر ایک جانب دریائے کرشنا تو دوسری جانب مالابار کے ساحل تک تھیں۔ حیدر علی نے امورِ سلطنت کو جدید خطوط پر استوار کیا، اسی کے ساتھ اپنے دشمنوں کو کئی بار عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔
حیدر علی نے کئی بار مسلم ریاست حیدرآباد دکن کے نظم کو انگریزوں اور مرہٹوں کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کیا اور اسے ان سازشوں کے خلاف مل کر جدوجہد کرنے کی پیشکش کی، مگر نظام حیدرآباد نے حیدر علی کی پیشکش کا جواب انگریزوں اور مرہٹوں سے اتحاد کی صورت میں دیا۔ انگریزوں کی نظریں میسور پر ابتداء ہی سے لگی ہوئی تھیں اور وہ اس زرخیز ترین خطے کو ہمیشہ سے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے تھے۔ ایک انگریز افسر نے میسور کے بارے میں لکھا ہے:
’’میسور ہندوستان کا سب سے سرسبز علاقہ ہے۔ یہاں کے باشندے ہندوستان میں سب سے زیادہ خوشحال ہیں۔ اس کے برعکس انگریزی مقبوضات صفحہ عالم پر بدنما دھبوں کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں رعایا قانونی شکنجوں میں جکڑی ہوئی اور بدحال ہے‘‘۔
میسور کی پہلی جنگ
میسور کی پہلی جنگ انگریزوں‘ نظام الملک اور مرہٹوں کی مشترکہ فوج اور حیدر علی کے مابین 1767ئ۔1769ء کے دوران ہوئی‘ جس میں حیدر علی کی افواج نے مدراس کے معرکے میں انگریزوں‘ مرہٹوں اور نظام دکن کو ناکوں چنے چبوائے۔ 1761ء سے 1782ء تک یہ تینوں قوتیں حیدر علی کا کچھ نہ بگاڑ سکیں اور یہ بہادر اور جری مسلمان حکمراں 7 دسمبر 1782ء میں ارکاٹ کے قریب انتقال کرگیا۔
ٹیپو سلطان
حیدر علی کی موت سے انگریزوں کے اکھڑتے قدم دوبارہ جمنے شروع ہوگئے۔ ٹیپو سلطان 20 نومبر 1752ء کو پیدا ہوا اور پندرہ سال کی عمر سے اپنے والد حیدر علی کے ساتھ معرکوں اور جنگوں میں شریک ہوتا رہا۔ حیدر علی کی تربیت نے ٹیپو کو فنونِ جنگ میں پورے طور پر طاق کردیا تھا۔ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں سے ایک بڑا سپاہی اور لائق جنرل بن گیا۔اس نے 1774ء میںاپنے والد اور والدہ دونوں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ایک ہی دن دو شادیاں کیں۔
اس نے میر صادق کو دیوان (وزیراعظم) اور پورنیا کو وزیر مالیات مقرر کیا۔ ٹیپو نے ہر معرکے میں دادِ شجاعت دی اور دشمنوں کے دانت کھٹے کردیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ٹیپو سلطان کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے کندہ ہے۔ اس کا ایک اہم کارنامہ وہ تھا جب حیدر نگر کے باغیوں کے خلاف ایک سخت مقابلے کے بعد اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ دشمن کے 80 ہزار غیر مسلم قیدی بنالیے گئے جو کہ بعد میں اپنی خوشی سے مسلمان ہوگئے۔
ٹیپو سلطان کی تخت نشینی
ٹیپوسلطان 1782ء کو 30 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ اس موقع پر اس نے امرائے سلطنت سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
’’میں ایک حقیر انسان ہوں، میری حکومت اور وجاہت بھی مٹنے والی ہے، میری زندگی بھی ناقابلِ اعتبار ہے، تاہم میرا فرض ہے کہ جب تک زندہ ہوں وطن کی حفاظت اور آزادی کے لیے جہاد کرتا رہوں۔ ہزاروں آدمی وطن کے لیے موت کے گھاٹ اتر سکتے ہیں مگر حُبِّ وطن کا جذبہ کبھی نہیں مٹ سکتا۔‘‘
ٹیپو سلطان نے اپنے دور میں کامل مذہبی رواداری سے کام لیا۔ اس کی سلطنت کی سالانہ آمدن میں سے1/12 فیصد مساجد پر خرچ کیا جاتا تھا، جب کہ بے شمار پروہت‘ پنڈت اور پانڈے سالانہ 20 ہزار پگوڈا (میسوری سکہ) امداد پاتے تھے۔ ہندوؤں کے مذہبی تہواروں پر دی جانے والی امداد اس کے علاوہ ہے۔ 1999ء میں ٹیپو سلطان کی دو سو سالہ یوم شہادت کی تقریبات کے موقع پر ٹیپو سلطان کی اعلیٰ ظرفی کا جواب ہندو انتہا پسند جماعت نے تنگ دلی اور تعصب سے اس طرح دیا کہ ان تقریبات کا بائیکاٹ کیا اور ٹیپو سلطان کی مذہبی رواداری پر جب تعصب کا پردہ ڈالنے کے لیے ایک ہندو تاریخ دان ہری پرشاد شاستری نے الزام لگایا کہ ٹیپو سلطان تین ہزار برہمنوں کو جبراً مسلمان کرنا چاہتا تھا جس پر ان برہمنوں نے خودکشی کرلی تو اس الزام کا جواب کسی مسلمان نے نہیں بلکہ ایک معروف ہندو تاریخ دان بشمبر ناتھ پانڈے نے دیا اور یہ ثابت کیا کہ ٹیپو پر لگایا جانے والا یہ الزام سراسر من گھڑت ہے، اس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
ٹیپو نے اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سلطنت کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ انگریزوں‘ مرہٹوں اور نظام کی مشترکہ افواج کے مقابلے کے لیے اس نے فرانس سے حربی ماہرین میسور بلوائے جنھوں نے ٹیپو کی افوا ج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کردیا اور انھیں جدید ترین حربی اسکیموں سے بھی آگاہ کیا۔
میسور کی دوسری جنگ
یہ جنگ سلطان ٹیپو اور انگریزوں اور مرہٹوں کے درمیان لڑی گئی، جس میں ٹیپو کو فتح ہوئی۔ سلطان اور انگریزوں کے درمیان صلح نامہ بنگلور ہوا۔ سلطان کو میسور کا نواب تسلیم کیا گیا، لیکن عیاری اور مکاری سے کام لیتے ہوئے سلطان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف ہوکر انگریزوں نے نظام دکن اور مرہٹوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور سلطان پر تیسری جنگ مسلط کردی۔
میسور کی تیسری جنگ
ان تینوں اتحادیوں نے ایک بڑی مسلح فوج کے ساتھ سلطنت میسور پر حملہ کیا اور بنگلور پر قبضہ کرلیا جبکہ سرنگاپٹم کے قلعے کا محاصرہ کرلیا‘ جو بہت دنوں تک جاری رہا۔ اس دوران سلطانی فوج نے فرنگی فوج کی رسد بند کرادی اور اس کو محاصرہ چھوڑ کر پسپا ہونا پڑا۔ بعد میں برسات کے موسم کے بعد لارڈ کارنوالس نے دوبارہ مرہٹوں اور نظام کو اپنے ساتھ ملاکر سرنگاپٹم پر حملہ کیا۔ سلطان کو اپنی والدہ کے خط سے قلعہ داروں کی غداریوں کا علم ہوا‘ جس کی وجہ سے اتحادی فوجیں سرنگاپٹم پہنچ گئی تھیں‘ کیونکہ اس کے غدار قلعہ داروں نے اپنے قلعے اتحادیوں کے حوالے کردیے تھے۔ پھر بمبئی سے اتحادیوں کو مزید کمک پہنچ گئی۔ مگر سلطان نے اپنی فوج کی صورت حال دیکھ کر مجبوراً صلح کے لیے ایلچی بھیجے اور 17 فروری 1792ء کو صلح کی کڑی شرائط طے پائیں‘ جن کے تحت سلطان کو اپنے دونوں شہزادوں کو بطور یرغمال انگریزوں کے سپرد کرنا پڑا۔ معاہدے میں کروڑوں روپے تاوان اور 3 کروڑ کا علاقہ اتحادیوں کے لیے خالی کردینا شامل تھا۔
سلطنتِ عثمانیہ کے خلیفہ اور نپولین سے مراسلت
ٹیپو سلطان نے ہندوستان میں انگریز کمپنی کے بڑھتے ہوئے اقتدار کی روک تھام کے لیے اپنے سفیر نہ صرف ہندوستان بھر کی ریاستوں میں بھیجے بلکہ اس کی سفارت جن قابلِ ذکر فرماں رواؤں تک پہنچی ان میں سلطنتِ عثمانیہ کے خلیفہ سلیم ثالث اور فرانس کے جرنیل نپولین بوناپارٹ کے نام قابل ذکر ہیں۔ خلیفہ سلیم ثالث نے جوکہ انگریزوں کے زیراثر تھا، نہ صرف ٹیپو کی مدد سے معذرت کرلی بلکہ اس نے ٹیپو کے سفارت کاروں کا تمسخر بھی اڑایا‘ جبکہ نپولین نے جو اُس وقت مصر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پیش قدمی کررہا تھا، ٹیپو کو پیغام بھجوایا کہ میں بحیرہ احمر کے کنارے تک پہنچ چکا ہوں اور آپ کو انگریزوں کے پنجے سے چھڑانا چاہتا ہوں، آپ کسی معتمد قاصد کو قاہرہ بھجوادیں تاکہ بات کرسکوں، خدا آپ کی طاقت بڑھائے اور دشمنوں کو تباہ کرے‘‘۔
میسور کی چوتھی اور آخری جنگ
لارڈ ولزلی جب ہندوستان کا گورنر جنرل مقرر ہوا تو اس نے ٹیپو سلطان کی سلطنت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ اس نے افغانستان میں بغاوت کرادی تاکہ وہاں کا بادشاہ میسور کی مدد نہ کرسکے۔ ایران سے افغانستان پر حملہ کروادیا۔ اس نے ٹیپو سلطان کے امراء اور وزراء کو خرید لیا۔ جنرل ہیرس کی سرکردگی میں بھاری فوج اور اس کی اتحادی فوجیں دو طرف سے سلطنت میسور پر حملہ آور ہوئیں اور بلاروک ٹوک اپنی منزلِ مقصود سرنگاپٹم تک پہنچ گئیں۔ ٹیپو سلطان کے غدار اور نمک حرام افسران اہم کردار ادا کررہے تھے اور انگریزی فوج کو سلطان ٹیپو کی تمام نقل و حرکت کی پل پل کی خبر دے رہے تھے۔ لیکن ٹیپو نے ہمت نہ ہاری۔ انگریزوں سے دلیرانہ انداز سے صلح کی کوشش ضرور کی‘ لیکن ذلت آمیز شرائط کو نہیں مانا۔
انگریز اور ملت کے غدار
انگریز ٹیپو سلطان اور نپولین کے مابین مراسلت سے آگاہ ہوچکے تھے، لہٰذا انھوں نے نپولین کی امداد پہنچنے سے قبل ہی ٹیپو کا زور توڑنے کے لیے سازشوں کا جال تیزی سے بننا شروع کردیا ۔ انگریزوں نے مرہٹوں اور نظام کو اپنے ساتھ ملانے کے علاوہ مملکتِ خداداد میسور کے وزیراعظم میر صادق اور قابل ذکر سپہ سالاروں سید صاحب‘ پورنیا‘ میر قاسم‘ میرمعین الدین‘ میر قمرالدین‘ بدرالزمان باسط‘ میرغلام علی لنگڑا اور کشن راؤ جیسے ننگِ وطن لوگوں کو بھی غداری پر آمادہ کرلیا۔ جب انگریزوں کا ٹڈی دل لشکر میسور میں داخل ہوا تو اسے کہیں بھی قابلِ ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، بلکہ غدارانِ قوم ان کی محفوظ راستوں تک رہنمائی کرتے رہے۔ اپنوں کی غداری کے سبب ٹیپو سلطان کو طوعاً و کرہاً پیچھے ہٹنا پڑا، یہاں تک کہ وہ سرنگا پٹم کے قلعہ میں محصور ہوگیا۔ انگریزی توپ خانے نے قلعہ پر ہزاروں گولے داغے جس کے نتیجے میں قلعہ میں شگاف پڑگیا۔ شگاف کی اطلاع موصول ہوتے ہی انگریزی افواج نے قلعہ پر دو اطراف سے دباؤ بڑھا دیا۔ 4مئی 1799ء کو آخری معرکے کے روز ٹیپو سلطان نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد اپنے ہیڈ کوارٹر سے جو قلعے میں ہی کہیں قائم کیا گیا تھا، محل میں آیا۔ غسل کے بعد معمول کے مطابق ہندوؤں اور مسلمانوں میں خیرات اور نذرانہ تقسیم کیا۔ رات تک محل میں رہنے کے بعد وہ واپس ہیڈکوارٹر میں آگیا جہاں اس کے لیے رات کا کھانا چنا گیا۔ ابھی اس نے چند لقمے ہی تناول کیے تھے کہ اطلاع ملی کہ شگاف کی نگرانی پر مامور اس کا وفادار سپہ سالار سید غفار توپ کا گولہ لگنے سے شہید ہوگیا ہے اور دشمن شگاف کے راستے قلعے میں داخل ہورہا ہے۔ ٹیپو اسی وقت پاپیادہ شگاف پر پہنچ گیا جہاں اس کی سپاہ مسلسل گولہ باری کے باعث بدحواسی کا شکار تھیں۔ سلطان کو اپنے درمیان پاکر سپاہ کو حوصلہ ملا اور انہوں نے دشمن کی پیش قدمی روکنے کے لیے ایک بھرپور حملہ کیا جو سیلِ رواں کی طرح بڑھتے ہوئے دشمن کو روکنے میں ناکام ثابت ہوا۔ ٹیپو اس دوران اپنی سپاہ کے ساتھ انگریزی افواج سے لڑتا رہا اور نصف درجن سے زائد گوروں کو اس کی بندوق نے واصل جہنم کیا۔ دباؤ بڑھ جانے پر ٹیپو گھوڑے پر سوار ہوگیا اور قلعہ بھر میں گشت کرتے ہوئے اپنی سپاہ کے حوصلوں کو مہمیز دیتا رہا۔ وہ تادم آخر دشمن کے سامنے سینہ سپر رہا اور بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اپنے اس تاریخی قو ل کو اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ
’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے‘
ٹیپو سلطان نے اپنے بارہ ہزار جانثار سپاہیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا اور ہزاروں دشمنوں کو تہہ تیغ کیا۔ شہادت پانے والوں میں حرمِ سلطان کی خواتین بھی شامل تھیں۔ شہادت کے وقت سلطان کی عمر 48 سال تھی۔ ہندوستان میں انگریزوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حیدر علی اور آخر میں ٹیپو سلطان تھے‘ جن کے خاتمے کے بعد انگریزوں نے جشن فتح بڑی دھوم دھام سے منایا۔
ٹیپو کی تدفین اور آسمانی بجلی
جس وقت ٹیپو سلطان کی نماز جنازہ ادا کی جانے لگی اور امام نے اللہ اکبر کہا اُس وقت آسمان پر بجلیاں چمکنے لگیں۔ گویا اہلِ زمین کے غم میں آسمان بھی برابر کا شریک ہو۔ یہ بات ٹیپو کی عقیدت میں غلو نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جسے ٹیپو سلطان کے بدترین دشمن انگریز مؤرخین نے بھی اپنی تاریخ میں رقم کیا ہے۔ چنانچہ معروف انگریز میجر ہیٹسن رقم طراز ہے:
’’ٹیپو کی تدفین کے وقت بارش، گرج اور بجلی غضب ڈھا رہی تھی، اس دوران انگریزی کیمپ پر بجلی گری جس سے دو افسر اور چند سپاہی ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے‘‘۔
ٹیپو سلطان کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی سلطنتِ انگلشیہ اور ہندوستان میں اس کے زیراثر علاقوں میں واقع کلیسا مقدس گھنٹیوں سے گونج اٹھے، ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین میں مٹھائی اور انعامات تقسیم کیے گئے، جبکہ جنرل ہیرس نے چیخ کر یہ اعلان کیا کہ ’’ اب ہندوستان ہمارا ہے‘‘ ۔
محمود عالم صدیقی

 

 

Published on Pakistan, India, Tipu Sultan

Comment on this post

aghakhalil 05/05/2015 11:29

سلطان فتح علی ٹیپو