قانون کی حکمرانی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

قانون کی حکمرانی
قانون کی حکمرانی

بدترین داخلی بدامنی اور دہشت گردی کی قابل مذمت وارداتوں پر قابو پانے کے لئے مذاکرات اور پُرامن کاوشوں پر چلنے کا حکومتی فیصلہ ہی قابل تحسین دانشمندی ہے لیکن یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ منزل مقصود کی طرف جانے والا یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ بہت پُرخار ہو گا اس لئے کہ پاکستانی حکومت کا واسطہ کسی مہذب ریاست یا ایسے قبیلے سے نہیں جو انصاف پسندی پر مبنی انسانی تکریم یا اخلاقیات کے اعلیٰ اصولوں کی پاسداری کے لئے مشہور ہو۔ پاکستان بدقسمتی سے ایسے لوگوں سے نبردآزما ہے جن کے ہاتھ بے گناہ شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، انسانی کھوپڑیوں سے فٹ بال کھیلنے والے سفاکوں سے یہ توقع رکھنا کہ ان کو جنیوا کنونشن کے انسانیت دوست اصولوں یا مسلح تصادم کی بین الاقوامی حدود و قیود سے آشنائی یا اس کا پاس ہو گا ،احمقوں کی جنت میں رہنے کے برابر ہے۔ پاکستان کا واسطہ دراصل اُن لوگوں سے ہے جو خود ہی جج، جیوری، پراسیکیوٹر اور ایگزیکٹو ہیں۔ دوسرا یہ بھی ذہن میں رکھا جائے کہ پاکستان کے داخلی مسائل کا پرامن حل پاکستان دشمن طاقتوں کو بالکل قابل قبول نہیں۔ اس لئے وہ ہر اس جگہ پر مٹی کا تیل چھڑکیں گے جہاں دہشت گردی کی جنگ کے شعلے بجھنے کا ا مکان  پیداہو جائے اس لئے ڈرون حملے، خودکش واردات یا کسی بھی مجرمانہ کارروائی کی شدید مذمت اور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہوئے بھی مسئلہ کے سیاسی حل کے لئے دروازے کھلے رکھے جائیں اس لئے دہشت گردوں کی کراچی پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے جوانوں کے خلاف بربریت کو ناقابل برداشت سمجھ کر جو لوگ مذاکرات بند کر کے فوجی ایکشن کا فوری مطالبہ کر رہے ہیں، ان کی حب وطنی کو تو ہم سلام پیش کرتے ہیں لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ  افواج پاکستان کے مزید دو یا تین ڈویژنز اندرون ملک پھنسا دینا پاکستان دشمن قوتوں کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہو گی۔ اس کے علاوہ سمجھنے کی یہ بات بھی ہے کہ دشمن کا کوئی چہرہ نہیں۔ ان کی ہائیڈ آؤٹس پورے پاکستان کے پانچوں صوبوں کے علاوہ ڈیورنڈ لائن سے متصل افغانستان کے کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست او پکتیکا جیسے صوبوں میں بھی ہیں، جہاں پاکستان تو کیا افغانستان اور نیٹو افواج کی رسائی بھی ممکن نہیں۔ اس لئے پاکستان کی قبائلی پٹی میں صرف شمالی وزیرستان پر فوجی حملے سے پاکستان میں دہشت گردی کے مسائل حل نہ ہو سکیں گے۔ اس کی وضاحت سابقہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی کی ہے جب انہوں نے کہا کہ قبائلی پٹی کے کچھ علاقوں کو مکمل چھاننے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی شاید 40 فیصدی تک کم ہو سکتی ہے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان بدقسمتی سے اس کو غلط سمجھے اور قومی میڈیا میں یہ بیان داغ ڈالا کہ افواج پاکستان کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کی کامیابی کے امکانات صرف 40 فیصدی ہیں، یہ سراسر غلط بات ہے۔ ملک کے اندر جہازوں، ٹینکوں، توپوں اور میزائلوں سے لیس فوج جہاں بھی آپریشن کرے گی اس کی کامیابی کے امکانات سو فیصدی ہی ہوں گے لیکن سیاسی بصیرت اور دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ فوجی آپریشن کئے بغیر دہشت گردی کی جنگ کو جیتا جا سکے تاہم اس سے کوئی ایسی غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہئے کہ ہماری افواج کی لڑاکا صلاحیتوں میں کوئی سقم ہے۔ افواج آپریشن کے لئے ہر وقت تیار ہیں  مگرفوجی آپریش مسائل کا حل نہیں۔ ہماری ریاستی مشینری کو سب سے زیادہ توجہ اپنی سراغ رسانی کی صلاحیتوں کو بہتر کرنے پر دینی چاہئے۔ ملک کے چپے چپے کو چھان کر یہ دیکھا جائے کہ دہشت گردوں کے گھونسلے پورے پاکستان میں کہاں کہاں ہیں۔ ان گھونسلوں یا غاروں میں خونخوار درندوں کی تعداد کیا ہے۔ ان کا دانہ پانی اور خوراک کہاں سے آتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے کینسر کی نوعیت کیا ہے۔ ان کے ذرائع رسل و رسائل اور پیغام رسانی کے طریقے کیا ہیں۔ سراغ رسانی اتنی مؤثر ہو کہ واردات سے پہلے یہ پتہ حل سکے کہ دہشت گرد کہاں واردات کرنے والے ہیں اور ان کو بروقت روکنے کی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے۔ قارئین! انٹیلی جنس کے بغیر ادارے اور حکومتیں بالکل اندھی ہیں۔ ایک نابینا شخص خواہ جسمانی لحاظ سے کتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو وہ اپنے اوپر اچانک حملوں کا دفاع کرنے سے بالکل قاصر ہوتا ہے۔ سراغ رسانی کے ادارے ہماری آنکھیں اور کان ہیں، ان کی بہترین قوت بینائی اور اعلیٰ استعداد سماعت ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کا بطریق احسن مقابلہ کرنے کے لئے ازحد ضروری ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نہایت قابل تعریف کارکردگی کے باوجود اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی، ریمنڈ ڈیوس کی لاہور میں خونیں واردات، بلیک واٹر کو پاکستان کی سڑکوں پر اسلحے سمیت پھرنے کی کھلی چھٹی، کامرہ، مہران اور جی ایچ کیو پر حملوں کی وارداتیں اور بیرونی جاسوسوں کے لئے بغیر روک ٹوک ویزوں کے اجرا سے قوم کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہمیں ان وارداتوں کا بروقت علم کیوں نہ ہوسکا؟ دکھ کی بات یہ ہے کہ تربیلا ڈیم کے قریب کیمپ میں بیرونی افواج کے لوگ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ پولیس کالج سہالہ میں ہم نے اپنی پولیس کی تربیت کی آڑ میں بیرونی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پانچ سال تک بٹھائے رکھا، ہمیں ہوش اس وقت آیا جب سہالہ پولیس کالج کے کمانڈنٹ نے بتایا کہ میرے ادارے میں قائم بیرونی عناصر کے احاطے میں مجھے بھی داخلے کی اجازت نہیں۔ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کے پڑوس میں جاسوسی کا یہ اڈا پانچ سال تک کیوں کام کرتا رہا؟ قارئین دراصل بات یہ ہے کہ پچھلے عشرے میں حاکم اپنے اقتدار کو بچانے اور اس کی طوالت کے لئے اپنی قومی عزت، وقار اور سلامتی کا سودا کرتے رہے۔ آپ صرف این آر او کو ہی لے لیں، یہ اقتدار کی بندر بانٹ کا بہت ہی گھناؤنا کھیل تھا جس میں درجنوں لوگوں کے قاتل بھی بچ نکلے۔ سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں 6 کروڑ ڈالرز کی پاکستان سے لوٹی ہوئی خطیر رقم کدھر چلی گئی؟ سرے محل کی خریداری پر خرچ ہونے والے کئی ملین ڈالرز کہاں سے آئے؟ وزیروں کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کس غیبی ہاتھ نے ڈالے؟ قانون کی حکمران کہاں ہے؟ احتساب کدھر ہے؟ کیا کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ سوچا بھی جا سکتا ہے کہ جعلی ڈگریوں والے جعل ساز قانون ساز اسمبلی کے رکن بن جائیں؟ اُن پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے بلکہ وہ دوبارہ بھی منتخب ہو کر اسمبلی پھر پہنچ جائیں، کیا ووٹوں کے زور پر اگر ایک فراڈی پارلیمنٹ جیسے سب سے جلیل القدر ادارے کا رکن، وزیر، وزیراعظم یا صدر بن جائے تو قانون حرکت میں نہیں آنا چاہئے؟ امریکی صدر نکسن سب سے زیادہ ووٹ لے کر واضح اکثریت سے دنیا کی مضبوط ترین ریاست کے صدر تو منتخب ہو گئے لیکن جب واٹر گیٹ کا سکینڈل سامنے آیا تو کیا امریکی قوم نے یہ کہا کہ دنیا کے اس چوٹی کے دانشور، محقق، مدبر اور مصنف کو چونکہ عوامی عدالت نے منتخب کیا ہے اس لئے اس کے اخلاقی جرم کو نظرانداز کر دیا جائے؟ بالکل ایسے نہیں ہوا اور امریکی صدر نکسن صدارتی انتخاب جیت کر بھی استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گیا۔ چونکہ قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے مقبولیت کوئی جواز نہیں۔  ہمیں اپنے نظام پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ شترمرغ کی طرح ریت میں صرف سر چھپانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا ہو گا۔ نظامِ حکومت انصاف پر مبنی ہو، انٹیلی جنس ادارے برق رفتاری سے کام کریں، پولیس کو ازسرنو منظم کیا جائے تو حالات ضرور بہتری کی طرف آ سکتے ہیں۔ اس وقت بغیر شک کے ملک کا واحد بہترین ادارہ افواج پاکستان ہی ہے اس کو ملک کے اندر استعمال کرنے سے اجتناب میں ہی پاکستان کی فلاح ہے اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب سول ادارے اپنا بوجھ مؤثر طریقے سے خود اٹھائیں، ان ساری باتوں کا دارومدار ملک میں انصاف اور احتساب پر مبنی قانون کی حکمرانی پر ہے۔

   لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

 

 

Comment on this post