مارشل لاء اس وقت آتا ہے، جب سیاستدان ناکام ہوجائیں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ معین الدین حیدر 1945میں پیدا ہوئے۔ 1962میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ 1965اور 71کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں انسٹرکٹر رہے، 1991میں جی ایچ کیو میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور 1996میں کور کمانڈر لاہور کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مارچ 1997سے جون 1999تک نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں گورنر سندھ رہے۔ 12اکتوبر 1999میں لگنے والا مارشل لا کے نتیجے میں جب اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف بر سراقتدار آئے تو انھوں نے انھیں اپنی کابینہ میں بہ طور وزیر داخلہ شامل کیا۔ معین الدین حیدر اکتوبر 2002تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس عرصے میں خطے اور عالمی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں، نو گیارہ کے واقعات ہوئے افغانستان پر امریکی حملے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکا کا اتحادی بنا، اسی دور میں پاکستان کی سلامتی کو داخلی سطح پر نئے چیلنجز کے سامنا ہوا۔ معین الدین حیدر نے ان ساری تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا۔ موجودہ حالات اور مستقبل کے اہم امور سے متعلق روزنامہ دنیا نے ان کے ساتھ ایک ملاقات کا اہتمام کیا جس کا احوال پیش کیا جارہا ہے۔

دنیا: آپ نواز دور میں گورنر اور بعد ازاں 1999میں پرویز مشرف کے برسر اقتدار آنے کے بعد وزیر داخلہ کے عہدوں پر فائز رہے۔ اسی دور میں پاکستان کی داخلی صورت حال میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ اس بارے میں کچھ بتائیں؟ معین الدین حیدر:میری گورنری کے دور میں اہم مسئلہ ایم کیوایم کے ساتھ تھا۔ نصیر اللہ بابر کارروائی کرچکے تھے۔ اس کارروائی میں انھوں نے خفیہ اداروں اور بالخصوص آئی بی کا زیادہ استعمال کیا تھا۔ اسّی کی دھائی سے اندرون سندھ میں ڈاکوئوں کا مسئلہ زوروں پر تھا، انھوں نے دہشت پھیلا رکھی تھی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی تیزی ہورہی تھی۔ سندھ کی سڑکیں بھی غیر محفوظ ہوچکی تھیں۔ 82اور 85کے دور میں اندرون سندھ گاڑیوں کو باقاعدہ کانو۱ے کی صورت میں گزارا جاتا تھا۔ اس زمانے میں، مَیں لاڑکانہ ، جیکب آباد، شکار پور، سکھر اور خیر پور وغیرہ میں اپنی مارشل لا ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا۔ مجھے ان حالات کا اندازہ اس وقت سے تھا۔ اس صورت حال میں کئی اقدامات کیے گئے۔ پہلے تو فوج نے اندرون سندھ ڈاکوؤں کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا۔ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے بھی بہت سے اقدامات اٹھائے گئے۔ ایسی کارروائیاں انٹیلی جینس کے بغیر نہیں ہوتی اور اس زمانے میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا نیٹ ورک بھی سندھ میں وسیع کیا گیا۔کراچی میں سی آئی ڈی کو بھی مزید بہتر کیا گیا۔ کراچی میں خوں ریزی کا دور تھا۔ ایم کیوایم اور حقیقی کے مابین تنازعات کی وجہ سے شہر کا امن و امان کا مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ شہر میں نسلی بنیادوں پر بھی فسادات ہورہے تھے۔ ان تمام مسائل کی نوعیت کچھ اور تھی۔ لیکن اب جو صورت حال ہے اس سے یک سر مختلف ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی اور انتظامی سطح پر اقدامات کیے گئے۔ پولیس اور رینجرز کی مدد سے امن و امان بحال کیا گیا اور کبھی اس مقصد کے لیے فوج بھی طلب کی گئی۔ مارچ 1997میں جب گورنر کی ذمے داریاں سنبھالیں تو شہر میں بے چینی تھی۔ اغوا برائے تاوان کا مسئلہ تھا۔ بھتّے کا زیادہ رواج نہیں تھا۔ مجھ سے پہلے نصیر اللہ بابر آپریشن کرچکے تھے۔ میرے گورنر بننے کے کچھ عرصے تک تو لیاقت جتوئی وزیر اعلیٰ تھے اور وہی صوبہ چلاتے تھے، گورنر کے پاس انتظامی طورپر زیادہ اختیارات نہیں تھے۔ لیکن بعد ازاں ساڑھے آٹھ ماہ کے قریب گورنرراج رہا ، اس دورانیے میں ہم نے کوئی باقاعدہ آپریشن نہیں کیامگر ہم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فعال ضرور کیا،قانون کی حکم رانی قائم کرنے کی کوشش ضرور کی۔ سب سے پہلے تو مقامی انتظامیہ اور پولیس کے نیک نام افسران کو کراچی اور اندرونِ سندھ میں تعینات کیا۔ میرے پاس کوئی وزیر بھی نہیں تھا بعد میں دوست محمد فیضی کو وزیر اطلاعات بنایا گیا۔ تو ان اقدامات سے کراچی کے حالات کافی بہتر ہوئے۔ اگر نیت صاف، ارادہ مضبوط اور کردار شفاف ہو تو آپ کے پاس اخلاقی قوت ہوتی ہے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ دنیا: ملک میں دہشت گردی کے مسئلے نے جب سر اٹھانا شروع کیا اس وقت آپ وزیر داخلہ تھے۔ ابتدائی چیلنجز کیا تھے؟ معین الدین حیدر نومبر 1999سے نومبر 2002کا دور جسے ٹیکنو کریٹ کی حکومت بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں سیاسی لوگ نہیں تھے مختصر سی کابینہ تھی۔ امریکا ہم سے ناراض تھا پاکستان پر بہت سی پابندیاں لگی ہوئی تھیں۔ مالی حالات بہت خراب تھے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی، نو گیارہ کا واقعہ نہیں ہوا تھا اور امریکا ابھی خطے میں نہیں آیا تھا۔ اس زمانے میں مسئلہ یہ تھا کہ ہماری بیس سے زاید جہادی تنظیمیں کشمیر میں بہت متحرک تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر کشمیر میں کارروائیاں کرتے تھے اور ہندوستان اس پر احتجاج بھی کرتا تھا۔ ان میں اکثر تنظیمیں پاکستان میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہیں کرتی تھیں۔ لیکن بعد میں ان میں سے چند جماعتیں پاکستان کے اندورنی معاملات میں ملوث ہوگئیں۔ یہ مسئلہ میرے زمانے میں اٹھنا شروع ہوگیا تھا۔ اس زمانے میں قومی سطح کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ واریت تھی۔ اس زمانے میں مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے ہورہے تھے۔ بلوچستان میں حالات تھوڑے بہتر تھے۔ ان تمام چیزوں کے پیش نظر میں نے پرویز مشرف کو ایک بریفنگ دی کہ دنیا ان جہادی تنظیموں کے خلاف ہوتی جارہی ہے۔ سرحد پار مداخلت کا معاملہ اٹھایا جارہا ہے اور نوگیارہ کے بعد تو اسے دہشت گردی کی تعریف میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اسے ہم جنگ آزادی کہتے تھے لیکن دوسری جانب دنیا کے حالات بدل رہے تھے۔ اسے کراس بارڈر ٹیررازم سے تعبیر کیا جانے لگا۔ جو لوگ کشمیر میں کارروائیاں کررہے تھے، جب حالات بدلنا شروع ہوئے تو ان میں سے کئی پاکستان لوٹ آئے۔ اب وہ یہاں آکر کیا کرتے، انھیں لڑنے کے سوا تو کچھ آتا نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان میں مسائل پیدا ہونا شروع ہوئے۔ کابینہ کے ایک اجلاس میں ، میں نے یہ تجویز پیش کی کہ ان تمام جماعتوں کو قانون کا پابند کرنا چاہیے۔ ان لوگوں کے لیے کوئی مثبت سرگرمی تلاش کرنا چاہیے اور فرقہ ورانہ جماعتوں کو کالعدم قرار دینا چاہیے۔ کافی بحث و تمحیص کے بعد پرویز مشرف نے اس تجویز کو قبول کرلیا۔ فرقہ ورانہ تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا، ان کے دفاتر بند کروائے گئے اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ ان کے کچھ لیڈروں کو ہم نے پکڑا۔ایک کالعدم تنظیم نے اس زمانے میں افغانستان میں ایک کیمپ قائم کر رکھا تھا۔ پاکستان سے لوگ بھرتی کرکے افغانستان میں قائم کیمپ میں تربیت کے لیے بھیجے جاتے تھے ، وہیں انھیں ٹارگٹ دیے جاتے تھے اور پھر یہ افراد یہاں کارروائیاں کرنے کے بعد دوبارہ افغانستان چلے جاتے تھے۔ اس سلسلے کو روکنے کے لیے میں نے افغانستان کے تین دورے کیے۔ طالبان حکومت کے وزرا سے بات کی۔ ملاّ عمر سے تین مرتبہ ملاقات کرکے یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ برائے مہربانی آپ افغانستان میں یہ کیمپ بند کروائیں۔ آپ ہمارے برادر ملک ہیں، آپ کی تجارت ہمارے کراچی بندر گاہ سے ہوتی ہے۔ دنیا ہمیں کہتی ہے آپ نے طالبان حکومت کو قبول کیا ہے۔ ہم دنیا کی تمام باتوں کو برداشت کرتے ہوئے آپ کے ساتھ ہیں تو آپ ان لوگوں کو روکیں جو پاکستان میں لوگوں کو قتل کررہے ہیں اور پچاسی سے زیادہ اہم افراد کو قتل کرچکے ہیں۔ لیکن انھوں نے جس طرح ہماری مدد کرنا چاہیے تھی نہیں کی۔ بالآخر ہم نے وہ کیمپ بند کروا دیے تھے، یہاں ریاض بسرا مارا گیا ا۔ ہم نے کچھ اور کارروائیاں بھی کیں کیوں کہ میری نظر میں اُس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ واریت تھا۔ سب سے زیادہ قتل و غارت بھی یہی لوگ کررہے تھے۔ اس کے نتیجے میں مجھے ان تنظیموں نے ہٹ لسٹ پر رکھا۔ حالاں کہ میں سنیُ حنفی ہوں، مجھے قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ میرے بیٹے کو ہٹ لسٹ پر رکھا گیا۔ میرے بڑے بھائی احتشام الدین حیدر جو فاطمید فاؤنڈیشن کے ایڈمنسٹریٹر تھے انھیں ادارے کے باہر قتل کردیا گیا۔ بعد میں وہ لوگ پکڑے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ لشکر جھنگوی اکرم لاہوری گروپ کے لوگ تھے۔ مقتول بھائی کے دو بچے تھیلیسمیا کے مریض ہیں اور ان کی کفالت کی ذمے داری اب ہم پر ہے۔ پاکستان کو فرقہ واریت سے چھٹکارا دلانے کی مخلصانہ کوششوں کا یہ صلہ مجھے ملا۔ اور میں آج بھی اس کی قیمت ادا کررہا ہوں۔ ایرانی سفارت کار صادق گنجوی کے قتل کیس کا معاملہ بھی ختم کروایا ۔ قاتل کو سزا ہوئی تو قاضی حسین احمد اور مولانا سمیع الحق وغیرہ میرے پاس آئے کہ ہم ایران جا کر خوں بہا ادا کروا دیتے ہیں لیکن اس قاتل کو سزا نہ دی جائے۔ بعد میں مجھے ایرانی سفیر نے بھی کہا کہ آپ نے انصاف کے تقاضے پورے کردیے ہیں، یہ کافی ہے تو آپ اس قاتل کو پھانسی نہ چڑھائیں، اس سے پاکستان میں حالات خراب ہوں گے لیکن ان سے بھی یہی کہا کہ ایک سفارت کار کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے، اور اس کو پھانسی لگائی۔ ایسے اقدامات کیے۔ اس وقت دہشت گردی کے یہ چیلنجز نہیں تھے جو آج ہیں۔ امریکا کے افغانستان میں آنے اور طالبان حکومت ختم ہونے کے بعد القاعدہ اور طالبان کے بہت سے لوگ پاکستان آئے اور پشاور سے لے کر کراچی تک پھیل گئے۔ امریکا کی طرف سے یہ دباؤ آنا شروع ہوا کہ یہ ہمارے مجرم ہیں انھیں ہمیں پکڑ کر دو۔ اس کے ردعمل میں ایسی پاکستانی تنظیمیں جو کشمیر کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی متحرک تھیں انھوں نے پاکستان میں کارروائیاں شروع کردیں۔ اور اس سلسلے کا پہلا خود کُش حملہ اسلام آباد کے چرچ میں ہوا۔ اس میں ایک ایسی جماعت ملوث پائی گئی جو کشمیر اور افغانستان دونوں جگہوں پر کارروائی کرتی تھی۔ اس کے بعد ہم نے جہادی جماعتوں سے کہا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ دنیا: کیا اُس وقت بھی ایسے گروپس سے بات چیت کرکے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی؟ معین الدین حیدر:اس زمانے میں پاکستان کے ایک بڑے میڈیا گروپ کی جانب سے مجھے یہ کہا گیا کہ آپ ان لوگوں سے مذاکرات کریں اور کوئی ضابطہ اخلاق تشکیل دیں۔ میں نے اس کے لیے ان بیس جہادی تنظیموں کے سربراہان کو میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں جمع کیا اور پورے دن بات چیت کا سلسلہ چلتا رہا۔ میں نے ان تمام لیڈروں سے کہا کہ آپ جہاد کررہے تھے، کشمیر کی آزادی کے لیے کام کررہے تھے، دنیا اسے تسلیم کررہی تھی۔ کشمیر کو متنازعہ سرزمین ہونے کی وجہ سے وہاں ہونے والی جدوجہد کو امریکا سمیت دنیا قبول کرتی تھی۔ اب ہندوستان نے دنیا کو قائل کرلیا ہے کہ یہ سرحد پار دہشت گردی ہے۔ اور اس پر سیکیورٹی کونسل کی جانب سے قرارداد بھی منظور کروائی جاچکی ہے۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب ہتھیار رکھ دیں۔ ان پر یہ بات بھی واضح کی کہ آپ کو پاکستان کے قانون کی پابندی کرنا ہوگی اور میں کسی صورت کوئی خلاف ورزی قبول نہیں کروں گا۔ اس کے بعد ہم نے بیس نکات پر مبنی ایک ضابطہ اخلاق ترتیب دیا۔ بات چیت کرکے اتمام حجت کیا۔ لیکن حالات پھر بھی قابو میں نہیں آئے اور پھر ہمیں کارروائی کرنا پڑی۔ اس کے نتیجے میں جو ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ جاری تھی وہ کافی عرصے کے لیے رک گئی۔ افغان وار کی وجہ سے پورے ملک میں ہتھیار پھیل گئے تھے۔ اس کی روک تھام کے لیے ملک میں پہلی مرتبہ ناجائز ہتھیاروں کے خلاف مہم چلائی۔ دو لاکھ 86ہزار ہتھیار جمع کیے اور انھیں تلف کیا۔ دنیا: کراچی میں قیام امن کے لیے جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے طریقہ کار کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ معین الدین حیدر:جس طرح کے حالات چل رہے ہیں ان میں یہی طریقہ موزوں ہے۔ اس آپریشن کی کام یابی کا انحصار اچھی انٹیلی جینس پر ہے۔ عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جرائم پیشہ جن علاقوں میں چُھپتے ہیں ان کے آس پڑوس کے لوگوں کو ان کی سرگرمیوں سے ان کے بارے میں اندازہ ہوجاتا ہے۔ لندن پولیس کے مطابق انھیں 66فی صد انٹیلی جینس عام شہریوں سے ملتی ہے۔ یہاں ایسا باہمی تعاون نظر نہیں آتا۔ عام شہریوں کو پولیس کے حوالے سے بھی خدشات لاحق ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ نشان دہی درست ہونی چاہیے اور کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔ کراچی میں جاری کارروائی کے کچھ اچھے اثرات نظر آرہے ہیں اور اگر ان باتوں پر مزید توجہ دی گئی تو اور بھی اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ قانونی اعتبار سے جو سقم تھا، امید ہے کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کی مدد سے وہ بھی دور ہو جائے گا۔ دنیا: لیکن تحفظ پاکستان آرڈیننس پر انسانی حقوق کے حوالے سے تنقید کی جارہی ہے؟ معین الدین حیدر: تنقید تو ہوگی۔ لیکن دوسری طرف دیکھنا چاہیے کہ ایک آدمی سر بازار دھماکے کرکے درجنوں افراد کے پرخچے اُڑا دیتا ہے، وہ بھی تو انسانوں کی جان لے رہا ہے اگر ایسے افراد سے ڈیل کرتے ہوئے کوئی انیس بیس ہو جاتی ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ جب بھی قانون کی عمل داری یقینی بنائی جاتی ہے تو انسانی حقوق کچھ نہ کچھ زد میں آتے ہیں۔ جب کرفیو لگتا ہے تو ہم اپنی نقل و حرکت پر یہ پابندی صرف اس لیے قبول کرتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں امن قائم ہوگا، ہماری اور ہمارے خاندان کی جانیں محفوظ ہوجائیں گی۔ جو صورت حال پیدا ہوچکی ہے اس میں سختی ہی سے کام کرنا ہوگا، دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے اور پھر گیہوں کے ساتھ گھن بھی پستا ہے لیکن امن کے قیام کے لیے کچھ سخت اقدام اٹھانے ہی پڑتے ہیں۔ دنیا: سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف قانونی کارروائی کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ معین الدین حیدر: مشرف کی بنیادی غلطی 1999میں حکومت پر قبضہ ہے۔ میں ہمیشہ سے ریکارڈ پر ہوں کہ اُس وقت آرمی چیف کی تبدیلی کا جو طریقہ اپنایا گیا اس کی وجہ سے فوج نے مداخلت کی۔ مشرف صاحب کی اِس غلطی کو چھوڑ کر ان کے بعد کا اقدام ، جو ان کی اپنی غلطی ہے، کو بنیاد بنا کر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ تین نومبر کے حوالے سے ان کا یہ کہنا کہ اس میں سب سے مشاورت کی، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، آخر میں ذمے داری تو سربراہ کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔ جب کوئی جنگ جیتتے ہیں تو جرنیل کی واہ واہ ہوتی ہے اور شکست ہونے کی صورت میں بھی سارا بوجھ اسے ہی اٹھانا ہوتا ہے۔ یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ حکومت اس مقدمے پر آئین کی عمل داری اور عدالتوں کے احترام کی وجہ سے اصرار کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ لیکن کیا مقامی اور بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم عدالتوں نے نہیں دیا؟ اس حکم کو ماننے میں اتنی پس و پیش کیوں ہے جس کی وجہ سے اٹھارہ کروڑ عوام کے مسائل وابستہ ہیں۔ اپنے مفاد میں آئین کی یہ پامالی کی جارہی ہے۔ اسی طرح آئین میں آرٹیکل 62, 63بھی ہے جس کے مطابق صرف دیانت دار افراد ہی ایوان میں جاسکتے ہیں۔ لیکن کیا اس کی خلاف ورزی کرکے آئین کی پامالی نہیں کی گئی۔ تین نومبر کے اقدام پر مشرف یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ان سے کام تو غلط ہوا لیکن اول تو کچھ ہی عرصے بعد ایمرجنسی ختم کردی گئی، پھر اس کے نتیجے میں ملک پر کوئی زیادہ برے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ سیاست داں اور عوام بھی یہ چاہتے ہیں کہ فوج سیاست سے دور رہے اور یہ مقدمہ فوج کو ایک واضح پیغام دینے کے لیے چلایا جارہا ہے۔ اس لیے پرویز مشرف کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ عدالت میں پیش ہوں تاکہ قانون کی عمل داری قائم ہو۔ عدالت کی آزادی کا بھرم بھی قائم رہے۔ ان کے پاس قابل وکلا کی ٹیم موجود ہے جو ان کا اچھا دفاع کرسکتی ہے۔ لیکن اگر بالفرض عدالت انھیں سخت ترین سزا بھی دیتی ہے تو حکومت کے پاس انھیں معاف کرنے کا اختیار ہے۔ اس طرح عدالتوں کی آزادی پر بھی حرف نہیں آئے گا، فوج کو پیغام بھی مل جائے گا اور حکومت انھیں معاف کرکے جب بیرون ملک جانے کی اجازت دے گی تو یہ خود ہی راستے سے ہٹ جائیں گے۔ دنیا: پرویز مشرف یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی کاروائی سے فوج میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ آپ اس فوج کا حصہ رہے ہیں اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ معین الدین حیدر: اُن کا یہ کہنا کہ فوج کے اندر بے چینی پائی جاتی ہے یا موجودہ آرمی چیف اس معاملے میں کس حد تک جاتے ہیں یہ بیانات مناسب نہیں۔ ہم چھوٹے لوگ ہیں، آنی جانی شے ہیں لیکن فوج کا ادارہ بہت بڑا ہے۔اس لیے اس ادارے کو ان معاملات میں گھسیٹنا یا متنازع بنانا مناسب نہیں۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ فوج اس بارے میں کیا سوچتی ہے تو اس کا جواب میں یہی دوں گا کہ اگر آپ کے گھرانے میں کسی شخص سے جرُم ہوجائے اور اس کے خلاف مقدمہ چلے تو کیا آپ خوش ہوں گے؟ جائز کارروائی ہونے کے باوجود پریشان ہوں گے۔ اسی طرح فوج میں جوان ہیں، ینگ آفیسرز ہیں جو ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں وہ یہ ضرور دیکھیں گے کہ بدعنوانی کے بڑے بڑے مقدمات میں ملوث افراد تو سکون سے ہیں اور دوسری جانب ایک شخص جو ہمارا کمانڈر ان چیف تھا اس پر غداری کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ عوامی سطح پر بھی پرویز مشرف کو پسند کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں کہتا ہوں کہ مشرف صاحب کی ایک پرسنیلٹی ہے کہ ’’میں کسی سے ڈرتا نہیں ہوں میں کمانڈو ہوں‘‘ اس لیے یہ اچھا نہیں لگتا کہ وہ ایف آئی سی میں جاکر بیٹھ جائیں۔ انھیں عدالت جانا چاہیے اور وہاں سے جو ریلیف ملے وہ لینا چاہیے۔ یہ ان کے لیے اور ملک کے لیے بھی اچھا ہوگا۔ دنیا: آپ طویل عرصے تک پرویز مشرف کے دوست رہے۔ کیا انھیں پاکستان واپسی پر کوئی مشورہ دیا؟ معین الدین حیدر: 1961سے پرویز مشرف کے ساتھ دوستی تھی جو 2006 میں ایک تھنک ٹینک پلڈاٹ کے طرف سے ایک خط لکھنے کی وجہ سے ختم ہوگئی، اس خط میں ہم نے یہ لکھا تھا کہ پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے سے فوج پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس خط پر اٹھارہ افراد نے دست خط کیے تھے جن میں میں بھی شامل تھا۔اس کے بعد میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا لیکن کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے انھیں یہ پیغام ضرور پہنچایا تھا کہ وہ واپس نہ آئیں۔ لیکن انھوں نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا۔ دنیا: پرویز مشرف کے بعد دائیں بازو کی مذہبی سیاسی جماعتوں اور فوج میں دوریاں پیدا ہوئیں۔ اس کا کیا سبب تھا؟ معین الدین حیدر: پہلے ہماری پالیسی افغانستان میں طالبان حکومت سے قربت برقرار رکھنے کی تھی، ساتھ ہی کشمیر کے معاملے پر بھی ان جماعتوں سے ہم آہنگی پائی جاتی تھی لیکن بین الاقوامی حالات میں تبدیلی کے باعث اب ہماری پالیسی بھی تبدیل ہوئی۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم ہوگئی، کشمیر میں جاری جہاد کو سرحد پار دہشت گردی قرار دے دیا گیا، جس کے بعد پاکستان نے بھی ایسی تنظیموں اور گروپس کے بارے میں اپنا طرز عمل بدل لیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کی وجہ سے جماعت اسلامی ، دیگر مذہبی جماعتوں اور فوج کے مابین دوریاں بڑھیں۔ پھر جب مذہبی جماعتوں کو خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں حکومتیں ملیں تو وہاں شدت پسندی میں اضافہ ہوا۔ سوات میں طالبان انہی لوگوں کی وجہ سے مضبوط ہوئے۔ دنیا: افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ کی پالیسی کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ معین الدین حیدر: اسٹریٹجک ڈیپتھ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ کسی بھی جنگ کی صورت میں ہم اپنا دفاعی میکانزم کسی دوسرے ملک میں رکھیں، ہم نے ایران سے تو ایسی مراعات لی ہیں لیکن اس حوالے سے فوج کی نظر میں افغانستان کبھی بھی آپشن نہیں رہا۔ افغانستان کے حوالے سے یہ تصور صرف اتنا ہے کہ افغانستان ہمیشہ غیر جانب دار ملک رہے اور کسی تیسرے ملک کو ہمارے خلاف اپنی زمین استعمال کرکے کوئی محاذ نہ کھولنے دے۔ ہندوستان نے افغانستان سے پینگیں بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ہم تو افغانستان کی جانب سے ہونے والی کسی بھی مداخلت کو روکنے کے لیے ’’اسٹریٹیجک ڈیپتھ‘‘ کی بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم افغانستان کو اپنا صوبہ سمجھتے ہیں تو یہ بات غلط ہے۔ دنیا: موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں بھارت سے تعلقات میں کس حد تک جانا چاہیے، اس کے کیا پیمانے ہونا چاہییں؟ معین الدین حیدر: میاں نواز شریف نے تو پہلے بھی بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ واجپائی کی بس یاترا ایک تاریخ ساز واقعہ تھا۔ اُس دورے کے بعد کشمیر اور دیگر معاملات میں پیش رفت کے امکانات پیدا ہوئے تھے ، مگر اسے کارگل نے برباد کردیا۔ لیکن یہ بھی قابل غور ہے کہ کارگل کی وجہ سے ہماری دوریاں بڑھیں لیکن پھر وہی پرویز مشرف آگرہ بھی جاتے ہیں اور ہندوستان سے تعلقات بہتر کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے کشمیر پر کئی فارمولے پیش کیے، پرویز مشرف اور اس وقت کے وزیر خارجہ قصوری یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم کشمیر کے معاملے پر کسی بڑی پیش رفت کے قریب تھے اور یہ بات ہندوستان بھی مانتا ہے۔ نواز شریف اب دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں اور تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں۔ یہ پاکستان کے حق میں ہے لیکن ساتھ ہی قومی مفاد کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ بھارت یہ چاہے کہ ہم کشمیر کو بھول جائیں، پانی کا مسئلہ فراموش کردیں اور تعلقات بہتر بھی ہوں۔ دنیا: افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد کی صورت حال کو کیسے دیکھتے ہیں؟ معین الدین حیدر: امریکیوں کی وہاں موجودگی کے باعث صورت حال قابو میں تھی۔ امریکا کا یہ منصوبہ تھا کہ افغانستان میں کوئی جمہوری نظام قائم کرکے ان کی فوج اور پولیس کھڑی کرکے وہ کوئی ایسا نظام قائم کریں گے جو ان کے بعد بھی قائم رہتا۔ اس حوالے سے ان کی کام یابی مشکوک ہے۔ طالبان کا زور ٹوٹ نہیں سکا اور جب یہ افواج جانا شروع ہوں گی تو اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ طالبان نے کیا سبق سیکھا ہے۔ کیا وہ ماضی کی طرح پھر خانہ جنگی کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا موجودہ نظام میں اپنا جائز حصہ منوانے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو صورت حال بہتر ہونے کی کوئی امید ہے۔ جہاں تک ہم پر افغانستان کے حالات کے اثرات کی بات ہے تو یہ صدیوں سے اصول ہے کہ وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی صورت حال کا براہ راست اثر ہم پر پڑتا ہے۔ دنیا: حکومت اور طالبان کے مابین جاری مذاکرتی عمل کے کیا امکانات نظر آتے ہیں؟ معین الدین حیدر: جن لوگوں سے مذاکرات کیے جارہے ہیں ان کی باتیں پاکستان کی اکثریت کے لیے تو قابل قبول نہیں۔ ان کے نظریات ہمارے لیے قابل قبول نہیں اسی لیے یہ اقلیت پاکستان کی اکثریت پر اپنا نظام ٹھونس نہیں سکتی۔ جہاں تک امکانات کی بات ہے تو جو مائنڈ سیٹ ہمارے مقابل ہے اس سے بات چیت کا کوئی نتجہ نکلتا نظر نہیں آتا ، لیکن اتمام حجت کے طور پر بات چیت کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ دنیا: گذشتہ دنوں مغربی میڈیا میں ایسی رپورٹس آئیں جن میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں 2014میں فوج برسر اقتدار آسکتی ہے۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ معین الدین حیدر: پاکستان کو اس بات کا ادراک ہوچکا ہے کہ ہمیں جمہوریت ہی کا طرز حکومت اختیار کرنا چاہیے اور اسی کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنا چاہییں۔ ضیاء الحق سے پہلے فوج نے خود پر یہ پابندی لگائی تھی کہ وہ اقتدار نہیں سنبھالے گی اورضیاء الحق کے بعد مشرف دور تک فوج بحیثیت ادارہ اپنی مرضی سے اقتدار سے دور رہی۔ مارشل لا آتا ہی اُسی وقت ہے جب سیاست داں ناکام ہوجاتے ہیں۔ ملک میں معاشی اور سیاسی بے چینی کی وجہ سے لوگ ادھر اُدھر دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی مارشل لا کے خلاف عوامی مزاحمت نہیں ہوئی۔ جب تک جمہوریت عوام کے مسائل حل نہیں کرتی تو ایسے حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ جنوبی کوریا، انڈونیشیا اور ترکی کی مثال آپ کے سامنے ہے جب جمہوریت نے ان کے مسائل حل کیے تو فوج خود ہی بیرکوں تک محدود ہوگئی اور وہاں کے عوام اب جمہوریت سے خوش ہے، فوجی اقتدار کو قبول نہیں کریں گے۔ جس دن جمہوریت نے عوام کو سُکھ دینا شروع کیا آمریت دفن ہوجائے گی ورنہ یہ مردہ کبھی بھی زندہ ہوسکتا ہے۔

مارشل لاء اس وقت آتا ہے، جب سیاستدان ناکام ہوجائیں
مارشل لاء اس وقت آتا ہے، جب سیاستدان ناکام ہوجائیں

Comment on this post