مذاکراتی عمل جاری رہنا چاہیے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

مذاکراتی عمل جاری رہنا چاہیے

اقوام عالم سمیت پاکستانی قوم کی نظریں حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان جاری مذاکراتی عمل پر لگی ہوئی ہیں اور وہ ہراجلاس کی کارروائی کے بعد ہونے والی پیش رفت سے آگاہی چاہتی ہیں ۔کشت وخون میں نہائی قوم کی پکار صرف امن ہے، بدامنی اور پر تشدد کارروائیوں کا خاتمہ ملک کا اولین مسئلہ ہے ۔بلاشبہ جاری مذاکراتی عمل میں تعطل اس وقت آیا جب ایف سی کے تیس مغوی اہلکاروں اور اس کے بعد پشاور میں میجرجہانزیب عدنان کو شہید کر دیا گیا،ادھر کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی شہادت کی اطلاعات نے بھی اہل وطن کو صدمہ سے دوچار کردیا تھا ۔ ان سانحات کے باعث حکومتی کمیٹی کے ارکان نے موقف اختیار کیا کہ وہ طالبان کمیٹی کے اراکین سے نہیں مل سکتے، کیونکہ مذاکرات اب تشدد رکنے پر ہی ہوں گے،کمیٹی نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات میں صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ،جب کہ دوسری جانب وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان بھی ملاقات ہوئی جس میں ملکی سلامتی کو کسی صورت نظرانداز نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا یہ بیان خوش آیند ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہیں ، جب کہ جمعیت علمائے اسلام(س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ترجمان کا جذباتی ردعمل سامنے آیا کہ اگرحکومتی کمیٹی ہم سے نہیں ملنا چاہتی تو ہمیں بھی ان سے ملنے کا کوئی زیادہ شوق نہیں ہے۔

بہر کیف مذاکراتی عمل کے درمیان ڈیڈلاک کی کیفیت پیدا ہونے پر جذباتی ہونا فطری امر ہے لیکن یہی قومی تقاضا اور وقت ہے مولانا سمیع الحق کی فہم وفراست ، مذاکرات کی کامیاب بحالی اور تدبرکے امتحان کا کہ وہ جذباتیت کو نظر انداز کر کے ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے طالبان کو راضی کر پاتے ہیں یا نہیں ۔ قوم کی اس وقت اولین ضرورت امن ہے، انسانی خون کی ندیاں بہنی اب بند ہونی چاہئیں۔مذاکرات کا عمل تب ہی آگے بڑھ سکتا ہے جب فریقین کے مابین جنگ بندی ہو اور پرسکون انداز میں مذاکراتی عمل آگے بڑھتا چلاجائے اور نتیجہ خیزثابت ہو۔اسی حوالے سے مبصرین کے مطابق وزیراعظم ابھی طالبان سے مذاکرات کے خواہاں ہیں،اگر وہ پرامید نہ ہوتے تو کمیٹی ٹوٹ جاتی۔بلاشبہ وزیراعظم نوازشریف کی شدید خواہش ہے کہ پاکستان میں امن وامان قائم ہو تا کہ وطن عزیزکو معاشی واقتصادی ترقی کی راہ پرگامزن کیا جاسکے ۔اس وقت پاکستان تاریخ کے نازک ترین موڑ پرکھڑا ہے جب کہ طالبان بھی ایک  فیصلہ کن دوراہے پر ہیں ۔امیدافزاء بات یہ ہے کہ تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود حکومت اور طالبان مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کی کوششیں قابل ستائش ہیں ۔حکومت کوملک کے طول وعرض میں امن وامان کے حوالے سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ،بلوچستان میں کشیدہ صورتحال کا تاحال کوئی مثبت حل نہیں نکل سکا ہے حالانکہ بھارت کی مداخلت کے واضح ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں، پاکستان کے معاشی حب کراچی میں ٹارگٹڈآپریشن جاری ہے ،جرائم پیشہ اورشدت پسند عناصر پولیس اور رینجرز پر حملے کر رہے ہیں جن میں بھاری جانی نقصان بھی ہوا ہے ۔

اسی تناظر میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کسی کی سیاسی وابستگی خاطر میں لائے بغیر مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا۔ بلاشبہ حکومت اور طالبان دونوں فریقین پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے کی سنجیدگی سے کوشش کریں ،کیونکہ ان مشکل حالات سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں ،کیونکہ پاکستان کے استحکام ،ترقی وخوشحالی کے دشمنوں کی خواہش ہے کہ مذاکراتی عمل کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکے اس امر کا ادراک ضروری ہے کہ کچھ قوتیں مذاکرات کو سبوتاژکرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہیں ۔طالبان اگر فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کردیں تو پھر حکومت پر بھی اخلاقی طور پر دباؤ بڑھے گا اور وہ بھی بآسانی جنگ بندی کا اعلان کرسکے گی ۔ملک کی سلامتی اور بقا ہمارا مطمع نظر ہونا چاہیے نا کہ ذاتی انا اور خواہشات۔

Comment on this post