وراثت اور عدالت

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

وراثت اور عدالت

  کورٹ میں مقدمات کی سماعت ہو رہی تھی، بھائی بہن عدالت کے سامنے تھے۔ یہ ناظم آباد کراچی کی خوشحال اور پڑھی لکھی فیملی کا معاملہ تھا۔ مرنے والے نے کچھ جائیداد چھوڑی تھی جس میں پلاٹ کی قیمت کا تعین نہیں ہو رہا تھا۔ جسٹس ناصر اسلم زاہد کو چھ سوگز کے پلاٹ کی درج قیمت کم محسوس ہو رہی تھی۔ اندیشہ تھا کہ بھائی وہ پلاٹ خود ہڑپ کرکے بہنوں کو معمولی سی کیش رقم پر ٹرخا دیں گے۔ عدالت نے وکیل  سے کہا کہ اگر آپ لکھ دیں کہ پلاٹ کی یہی قیمت ہے تو میں مان لوں گا۔ وکیل نے جواب دیا کہ ’’میں قانون دان ہوں اسٹیٹ ایجنٹ نہیں۔ موکلین نے جو قیمت کہی وہی میں نے لکھ دی‘‘ وراثت کے اکثر مقدمات میں ایک ہی جانب کے وکیل ہوتے ہیں۔ مرحوم کے ورثا وراثت نامے کے لیے عدالت سے گزارش کرتے ہیں۔ تمام لوگ کسی ایک کے حق میں وراثت نام دینے کی درخواست دیتے ہیں۔ ان کو یقین ہوتا ہے کہ یہ وارث دیگر حقداروں میں جائیداد کی تقسیم منصفانہ انداز میں کردے گا۔

سرٹیفکیٹ میں تمام وارثین کے نام درج ہوتے ہیں لہٰذا عدالت میں آنے کے بعد فراڈ کے کم امکانات ہوجاتے ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے قارئین 600 گزکو چالیس سے تقسیم کرکے پندرہ مرلے کی زمین سمجھیں۔چیف جسٹس نے تھوڑی دیر فائل کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا کہ آپ نے پلاٹ کی قیمت کم درج کی ہے۔ بہرحال جو قیمت آپ نے لکھی ہے وہ ہم مان لیتے ہیں۔ والد کے ترکے سے بہنوں کا حصہ تقریباً وہی بنتا ہے لہٰذا ہم یہ پلاٹ بہنوں کے نام کردیتے ہیں۔ خوش لباس، خوش شکل اور تعلیم یافتہ لوگوں سے عدالت کی گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی۔ چیف جسٹس کی اس تجویز پر بہنوں کا حق مارنے والے بھائی حیران رہ گئے۔ فوراً ایک کے منہ سے کئی مرتبہ No, No, No نکلا۔ عدالت نے کہا Why No, No, Mister!۔ مقدمہ اگلے پیر کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ عدالت نے بھائیوں کو ہدایت کی کہ پلاٹ کی صحیح قیمت لکھ کر لائیں ورنہ یہ پراپرٹی بہنوں کے نام کردیں گے۔ نہ جانے اگلے ہفتے کیا ہوا کہ ہم دوسری عدالت میں ہوں گے لیکن یہ تو پتہ چلا کہ حقداروں کا کیسے حق مارا جاتا ہے۔

ایک اور مقدمے کے سلسلے میں ایک ماہ بعد اسی عدالت میں بیٹھنے کا موقع ملا۔  یہ دادو سندھ کے ایک مرحوم کی جائیداد کا معاملہ تھا۔ ساٹھ ایکڑ زمین، ایک بیوہ، ایک چھ سالہ بچہ اور ایک ماں۔ بھائی بھی تھا کہ وہ بھائی کا وارث نہ تھا لیکن ماں کے ساتھ آیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پانچ ہزار روپے فی ایکڑ زمین ہے یوں ہم بیوہ اور یتیم کو ان کے حصے کی رقم کیش دے دیتے ہیں تو عدالت مرحوم کی ماں کے نام ساٹھ ایکڑ زمین رجسٹری کرنے کا حکم جاری کردے۔ یہاں بھی عدالت کو زمین کی قیمت کم محسوس ہوئی۔ جج صاحب نے وکلا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کوئی وکیل ہیں جن کا تعلق دادو سے ہو۔ ایک وکیل  سامنے آئے۔ عدالت نے ان سے زمین کی اندازاً قیمت معلوم کی۔ انھوں نے لکھی گئی قیمت سے کہیں زیادہ بتائی۔ جج صاحب نے بوڑھی خاتون کو کہا کہ یہ چھوٹا بچہ تمہارا پوتا ہے اور یہ عورت تمہارے مرحوم بیٹے کی بیوہ ہے۔ تم اپنے نوجوان بیٹوں کی خاطر ان دو کمزوروں کا حق مارنا چاہتی ہو۔

مرحوم کے بھائی نے کہا کہ بنجر زمین بے کار علاقے میں ہے۔ مرنے والے کی بیوہ اور یتیم بچے کی جانب سے بھی ان کا کوئی رشتہ دار موجود تھا۔ اس نے کہا سائیں انھوں نے جو قیمت لگائی ہے ہمیں منظور ہے۔ ہم مرحوم کی والدہ کو اس کا حصہ کیش دے دیتے ہیں۔ یوں زمین یتیم اور بیوہ کے نام ہوجائے۔ یہاں بھی عدالت نے حق مارنے والوں کو پھنسا دیا۔ یہاں بھی لوگ مکرنے لگے۔ چونکہ جج  قائم مقام چیف جسٹس تھے لہٰذا سمجھا گیا کہ اگلے ہفتے کوئی اور جج  ہوں گے۔ عدالت نے یہ حربہ ناکام بنادیا اور دو دن سوچنے کا وقت دیا۔ مرحوم کی والدہ اور بھائی سے کہہ دیا کہ اب یہ مقدمہ اسی عدالت میں چلے گا۔ نہ جانے بدھ کو کیا ہوا؟ لیکن یہ علم تو ہوگیا کہ شہر ہو یا گاؤں، لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں یا کم پڑھے لکھے، کمزوروں کا حق مارنے کو ہر کوئی تیار رہتا ہے۔ جس کے قبضے میں جائیداد ہو اور باقی وارث کمزور ہوں تو بدنیتی شروع ہوجاتی ہے۔

وکالت کے ابتدائی دنوں میں ایسے ہی وراثت کے مقدمے سے واسطہ پڑا۔ بھائی کہنے لگے کہ بہنوں کا حق نہیں بنتا کہ والد  نے ان کی شادی میں خرچہ کردیا ہے۔ چار میں سے کتنے بھائیوں کی شادی ہوچکی ہے؟ یہ میرا سوال تھا۔ تین بھائیوں کی۔ پھر اس طرح تو والد  نے لڑکوں کی شادی پر بھی خرچہ کیا ہوگا۔ بھائی ماننے کو تیار نہ تھے۔ جب انھیں کہا کہ اخبار کے اشتہار اور رشتے دار گواہوں کے حلف نامے سے بہنوں کے نام سامنے آجائیں گے اور کوئی کسی حقدار کو اس کے حق سے محروم نہیں رکھ سکے گا۔ یاد رکھیے۔ عدالتی معاملہ اس صورت میں ہوسکتا ہے جب جائیداد مرحوم کے نام ہو اور اس کی باقاعدہ رجسٹری ہوئی ہو۔ اگر یہ دو صورتیں نہ ہوں تو قابض اکثر دوسرے وارثین کو جائیداد سے محروم کردیتے ہیں۔ نئی صدی کے ابتدائی دور کے دلچسپ واقعات کہ عدالتیں کس طرح حقائق چھپانے والوں کو پکڑ لیتی ہیں۔

برادری کے ایک جاننے والے انتقال کرگئے۔ ان کے وارثین آئے اور ہم نے عدالت سے وراثت نامہ حاصل کرنے کی درخواست دی۔ وہ تین لڑکے، چھ لڑکیاں اور دو گواہ۔ ہم سب کو بچپن سے جانتے تھے۔ عدالت میں ایک ہجوم تھا۔ جج نے پوچھا کہ مرحوم کی ایک بیٹی نائلہ بھی تھی اس کا ذکر نہیں ہے۔ بیوہ نے فوراً کہا کہ وہ دو ماہ کی تھی کہ اس کا انتقال ہوگیا۔ عدالت نے وراثت نامے کی درخواست منظور کرلی۔ مرحوم کے بیٹے، بھائی اور میں نے پوری فائل کھنگال لی لیکن نائلہ کا ذکر کہیں نہ ملا۔ جج  کو کیسے پتہ چلا؟ بیوہ نے بے ساختہ سے کہا کہ دو ماہ کی عمر میں اس بچی کا انتقال ہوگیا تھا۔ تھک ہار گئے لیکن پتہ نہ چلا۔ جب ایک اور مقدمہ آیا تو پتہ چلا کہ عدالت کیسے جان گئی۔

ایک وکیل  نے کہا کہ میں نے موکل کے کہنے پر ایک ’’اسپیشل خاتون‘‘ کا ذکر مرحوم کے وارثوں میں نہ کیا۔ حیران کن طور پر جج نے پوچھا کہ مرحوم کی ایک بیٹی بھی تھی۔ اب میں اور موکل دونوں پریشان ہیں۔ ان کے وکیل  نے مجھے کہا کہ یہ مقدمہ آپ سنبھال لیں۔ میں نے کہا کہ اگر خاتون واقعی ’’اسپیشل‘‘ ہوئیں تو مقدمہ لوں گا ورنہ نہیں۔ بیس گریڈ کا سرکاری افسر سامنے تھا۔ اس نے کہا کہ چالیس سالہ بہن ابنارمل ہے۔ اسے لانا لے جانا بڑا مشکل ہے اس نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ وہ ثبوت کے طور پر سرٹیفکیٹ اور تصاویر لائے جس میں اس بہن کے ساتھ پورا خاندان موجود تھا۔ معاملات کو چھپایا گیا تھا۔ حق مارنے کے لیے نہیں بلکہ آسانی کے لیے۔ موکل کی جانب سے معافی کی درخواست لگا کر عدالت میں سرکاری افسر کو ماں اور بہن کے ساتھ پیش کردیا۔ ڈسٹرکٹ جج ظفر احمد شیروانی  نے دیکھا کہ واقعی خاتون کو سنبھالنا بڑا مشکل تھا۔

چالیس سالہ بہن کا نام ان کے مرحوم والد کے وارثوں کی فہرست میں نہ دینے سے بظاہر کیا تاثر ملتا ہے؟ یہ کہ کوئی شادی شدہ اور بال بچے والی عورت ہوگی جب کہ اس مقدمے میں یہ کچھ نہیں تھا۔ یہ شخص اکلوتا بیٹا ہے اور ابنارمل بہن اور بوڑھی ماں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ جج  نے ہمیں چیمبر میں بلایا۔ افسر سے کہا کہ آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں اور آپ کو عدالت سے حقائق نہیں چھپانے چاہیے تھے۔ اس نے کہا کہ والد نے کہا تھا کہ مکان تمہارا ہے۔ جج  نے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ ایک تو آپ نے عدالت سے غلط بیانی کی اور پھر والد کے کہے کو جواز بناتے ہیں۔ انھوں نے اسلام کے اصول وراثت بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’’قرآن نے وارثوں کے حصے طے کر دیے ہیں۔

بیٹی کا ایک حصہ اور بیٹے کے دو حصے۔ اگر بیٹا باپ کے ترکے سے پچاس لاکھ لے رہا ہے تو بیٹی کو پچیس لاکھ ملنے چاہئیں۔ اسلام نے جو حصے مقرر کیے ہیں ان میں تبدیلی کا کسی کو اختیار نہیں۔ کسی شخص کو حق نہیں کہ وہ بیٹے کو زیادہ اور بیٹی کو کم حصہ دینے کی وصیت کرے۔‘‘ ایک ڈیڑھ سال میں جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا تھا اور ہمارا مقدمہ کراچی کی سول عدالت کی مالیاتی حد سے بڑھ چکا تھا۔ تین ماہ کی کوششوں کے بعد یہ مشکل معاملہ ہائی کورٹ سے طے ہوا ، مرحوم کے وارث ان کی بیوہ، بیٹا اور بیٹی قرار پائے۔ عدالتیں ’’نادرا کے فارم ب‘‘ کے ذریعے مرحوم کے وارثوں کا پتہ چلا لیتی ہیں۔ جب زمینی عدالتوں کی ایسی پکڑ ہے تو آسمانی عدالتوں کی پکڑ کیا ہوگی؟ حق مارنے والوں کو وراثت کے معاملے میں بڑی عدالت سے محتاط رہنا چاہیے۔

محمد ابراہیم عزمی ایڈووکیٹ

 

وراثت اور عدالت
وراثت اور عدالت

Comment on this post