وسطی افریقہ میں مسلمانوں کی نسل کشی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

وسطی افریقہ میں مسلمانوں کی نسل کشی

بین الاقوامی تعزیراتی عدالت ICC کی وکیل استغاثہ Fatou Bensouda نے سابق فرانسیسی نوآبادی وسط افریقی ریاست CAR میں ایک سال سے زائد عرصے سے جاری عیسائی اکثریت اور مسلم اقلیتی ملیشیا Seleka کے مابین اقتدار کی جنگ میں قتل عام کی تفتیش کا آغاز کردیا ہے، کیونکہ ان کے محکمے کو عام شہریوں کے بہیمانہ قتل، عورتوں کی عصمت دری اور بچوں اور عورتوں کو یرغمال بناکر اُن کے جنسی استحصال کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ وسط افریقی جمہوریہ میں عیسائی ملیشیا ملک کے دارالحکومت اور دوسرے شہروں اور بستیوں میں مسلمانوں کا صفایا کررہی ہے۔ مکانات، مساجد، کھیت، کھلیان، حتیٰ کہ گائوں کے گائوں نذرِ آتش کیے جارہے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ وارداتیں نسلی تطہیر، باَلفاظِ دیگر نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ (ڈان 16 فروری 2014ئ)
UNICEF کے مطابق ان فرقہ وارانہ فسادات میں 133بچے بڑی بے دردی سے ہلاک کیے گئے اور ان کے اعضاء کاٹ کاٹ کر انہیں سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا، یہاں تک کہ ان بلوائیوں نے راستوں کی ناکہ بندی کردی اور انہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال میں بھی نہیں لے جایا گیا۔ (ڈان15فروری2014ئ)
کھیتوں کی تباہی اور کسانوں کے قتل عام کے باعث ملک غذائی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ عالمی ادارۂ خوراک (WFP) یومیہ 24 پروازوں کے ذریعے پناہ گزینوں کو خوراک فراہم کررہا ہے، جس سے صرف ڈیڑھ لاکھ افراد کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے جب کہ پناہ گزینوں کی تعداد آٹھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ پناہ گزینوں کے علاوہ ریاست کی 13 لاکھ آبادی بھی سخت غذائی بحران کا شکار ہوئی ہے۔ WFP کے مطابق آج تک ادارے نے پناہ گزینوں کی اتنی کثیر تعداد کو بیک وقت امداد نہیں پہنچائی۔ (ڈان 13 فروری 2014ئ)
یہ تاریخ کا سنگین ترین المیہ ہے کہ 46 لاکھ آبادی والی وسط افریقی جمہوریہ کی 15 فیصد مسلم اقلیت کے تلف ہوجانے کا خطرہ لاحق ہے، چنانچہ اب تک 10 لاکھ مسلمان فرار ہوکر ہمسایہ ممالک چاڈ اور کیمرون میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں، جبکہ ایک ہزار ہلاک ہوچکے ہیں (ڈان 13 فروری)۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بلوائی، مسلمانوں کو فرار بھی نہیں ہونے دیتے۔ 14 فروری کو ہنگوئی سے مسلمانوں کا ایک قافلہ اپنے گھر بار چھوڑ کر بروشدی امن فوج کی حفاظت میں ہمسایہ مسلم ملک چاڈ جارہا تھا تو امن فوج کے دستوں نے انہیں یہ کہہ کر واپس کردیا کہ راستے میں مشتعل عیسائی ملیشیا اور ہجوم ان کی مزاحمت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس وقت تمام راستے میں مسلح ہجوم دو رویہ کھڑا انہیں دھمکیاں دے رہا تھا کہ ’’ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے‘‘۔ (ڈان 15 فروری 2014ئ)
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 1600 فرانسیسی اور پانچ ہزار افریقی امن فوج شہریوں کے جان و مال کی حفاظت نہیں کرسکتی، اسی وجہ سے فرانس نے چار سو فوجیوں کی کمک طلب کرلی ہے۔ یوں بھی افریقی فوجی غیر جانب دار نہیں معلوم ہوتے کیونکہ ایک غیر جانب دار مستند عینی شاہد کے مطابق جب افریقی جمہوریہ CAR کے فوجی ایک مسلمان کو چھرا گھونپ کر ہلاک کررہے تھے تو امن فوج کے سپاہیوں نے منہ پھیر لیا (ڈان 13 فروری 2014ئ، صفحہ 14)۔ وسط افریقی ریاست کی موجودہ فوج بھی مسلمانوں کے قتل عام میں شامل ہے۔ 5 فروری کو نئے صدر کی رسم حلف برداری کے موقع پر حکومت کی فوج مسلمانوںکو گاجر مولی کی طرح کاٹ کاٹ کر ان کی لاشوں کا ڈھیر لگاتی جارہی تھی۔ (ڈان 9 فروری 2014ئ)
اس خانہ جنگی کا آغاز اُس وقت سے ہوا جب مسلم ملیشیا Seleka کے جنگجو سردار Michel Djotodia نے 2012ء کے اواخر میں وسط افریقی ریاست CAR کے  عیسائی سربراہ Farcois Bozizi کو جو دس سال سے ملک پر حکومت کررہا تھا، بدعنوانی اور بدنظمی کے باعث برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور دس ماہ تک ریاست پر برسراقتدار رہا، لیکن ملک کی عیسائی اکثریت نے ایک مسلمان کے ہاتھوں عیسائی سربراہِ ریاست کی برطرفی کو قبول نہیں کیا اور یہ تبدیلی خالصتاً اقتدار کی کشمکش کے نتیجے میں واقع ہوئی، اور اس کا سبب مذہبی اختلافات نہ تھے۔ تاہم مسیحی حلقوں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے دیا جس کے نتیجے میں Seleka اور عیسائی ملیشیا میں جو بعد ازاں Anti-Balaka کے نام سے موسوم ہوئی، خونریز تصادم شروع ہوگیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس تصادم میں Seleka نے سابق آمر Bozizi کے حامیوں کو جو عیسائی تھے، قتل کیا اور ان کی عورتوں کی بے حرمتی کی جس سے عیسائی آبادی میں انتقامی جذبے کی لہر دوڑ گئی۔ لیکن اس کے باوجود یہ تصادم محدود پیمانے پر واقع ہوا، اور اگر بین الاقوامی امن فوج (یعنی 1600 فرانسیسی اور پانچ ہزار افریقی) جانبداری سے کام لیتے ہوئے صرف مسلم ملیشیا Seleka کو غیر مسلح نہ کرتی تو اتنی خونریزی کی نوبت نہ آتی۔ لیکن نام نہاد امن فوج نے عیسائیوں کو غیر مسلح نہیں کیا اور انہیں مسلمانوں کے قتل عام کی چھوٹ دے دی اور بڑی ڈھٹائی سے اپنی ناکامی کا اعتراف بھی کرتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ وسطی افریقی جمہوریہ سے مسلم آبادی کا مکمل اخراج چاہتی ہے۔ یہ صلیبی ٹولے کا منصوبہ ہے کہ افریقی عوام میں اسلام کی مقبولیت کا سدباب کرنے کے لیے فرقہ وارانہ فسادات کرا دیے جائیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک فریق کو غیر مسلح کرکے اسے مسلح فریق کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے!
اگر وسط افریقی جمہوریہ  میں جاری مسلمانوں کی تطہیر کا 1990 ء کے عشرے میں بوسنیا کی مسلم آبادی کی نسل کشی سے موازنہ کیا جائے تو دونوں کا طریقہ واردات یکساں ہے۔
اگر مسلم ملک میں مسیحی اقلیت کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا تو پہلے تو پوپ دہائی دیتا، پھر امریکی صدر فوج کشی کی دھمکی دے کر اس ملک کو تقسیم کرکے مسیحی اقلیت کی ریاست قائم کردیتا جسے اقوام متحدہ کی رکنیت فوراً دے دی جاتی۔ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان اس کی زندہ مثالیں ہیں۔
بین الاقوامی تنظیموں کا خیال ہے کہ وسط افریقی ریاست کی موجودہ صورت حال وہاں موجود فرانسیسی اور افریقی امن فوج کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہاں سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے منشور کے باب 7 کی 39 سے 47 شقوں کے تحت بین الاقوامی فوج بھیجے جو اس ریاست کا نظم و نسق سنبھال کر امن و امان کو بحال کرے اور چاڈ، کیمرون اور اندرون ملک محصور مسلم آبادی کو ان کے گھروں میں آباد کرے اور ان کے جانی اور مالی نقصان کا معاوضہ ادا کرے۔
لیکن ہمیں اقوام متحدہ سے کوئی خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ عالمی تنظیم سے زیادہ مایوسی تو ہمیں مسلم ممالک کی تنظیم OIC سے ہوئی جس نے بے حسی کی انتہا کر دی ہے۔
اگر 56 مسلم ممالک کے ارکان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے وسط افریقی ریاست CAR اور برما کی مسلم اقلیتوں کی تطہیر کا سدباب کرنے کا مطالبہ کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ عالمی برادری اس جائز مطالبے کی حمایت نہ کرے۔
ان مایوس کن لمحات میں ہمیں بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کے فوری اقدام پر امید کی کرن نظر آتی ہے۔ عدالت کی سرکاری وکیل Fatou Bensouda نے مسلم اقلیت کے خلاف انسانیت سوز جرائم اور اس کی تطہیر کا نوٹس لیتے ہوئے ان وارداتوں کے مرتکب ملزمان کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ عدالت صرف عیسائی ملیشیا یا عیسائی حکام کے خلاف کارروائی کرے، بلکہ ہمار امطالبہ یہ ہے کہ عدالت مسلم ملیشیا Seleka اور عیسائی ملیشیا Anti Balaka کے اُن جنگجوئوں کے خلاف مقدمات چلائے جو جنگی جرائم اور نسل کشی کے مرتکب پائے جائیں۔
لیکن مذکورہ عدالت افریقی ریاستوں کے تعاون کے بغیر ملزمان کو کٹہرے میں نہیں کھڑا کرسکتی۔
اس ضمن میں افریقی یونین پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود انسانیت کے قاتلوں کو قانون کے حوالے کرنے میں عدالت سے تعاون کرے۔ افریقی یونین میں مصر، سوڈان، لیبیا، تیونس اور الجزائر مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے مصر کی غاصب فوجی جنتا خود جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالی کی مرتکب ہے، لہٰذا اس میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ وہ اس سلسلے میں عدالت ICC سے تعاون کرے، بلکہ وہ خود بین الاقوامی قانون کے نزدیک مجرم ہے، لہٰذا ICC کو مصر کی فوجی جنتا کے جرائم کا بھی نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ انصاف سب کے لیے… اگر ایک عیسائی ریاست کے حکمرانوں کو سزا دی جاتی ہے تو مسلم ریاست کے ظالم حکمرانوں کو بھی نہیں بخشا جانا چاہیے۔
پروفیسرشمیم اختر

وسطی افریقہ میں مسلمانوں کی نسل کشی
وسطی افریقہ میں مسلمانوں کی نسل کشی

Comment on this post