پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل میں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل میں
 پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل میں

وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کو سمیٹتے ہوئے پالیسی خطاب میں دو اعلانات کردیے ہیں۔ ایک یہ کہ جنرل سیلز ٹیکس میں کمی نہیں کی جائے گی، دوسرا یہ کہ حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ لے گی۔ پہلے فیصلے کا تعلق بھی آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضوں سے ہے۔ اس موقع پر وزیرخزانہ نے سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور کی گئی 113 تجاویز میں سے 21 تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ اور اقتصادی امور میں بھی عوام کے منتخب نمائندوں کے اداروں کو کسی قسم کی بالادستی حاصل نہیں ہے۔ وزارت ِخزانہ کے معاشی منتظمین جو بیوروکریٹ اور عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ہوتے ہیں، آخری اختیار رکھتے ہیں۔
بجٹ پیش کیے جانے کے بعد مختلف اشیاء پر جنرل سیلز ٹیکس میں ایک فیصد اضافہ کردیا گیا تھا، جس کی وجہ سے پیٹرول اور سی این جی کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگیا تھا۔ اس مسئلے پر عدالتِ عظمیٰ نے ازخود نوٹس لیا اور بجٹ کی منظوری سے قبل جی ایس ٹی میں اضافے اور اس کے نتیجے کے طور پر نرخوں میں اضافے کو غیر قانونی قرار دے دیا اور فیصلہ عائد کیا کہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر جی ایس ٹی میں اضافہ غیر قانونی ہے۔ وزیرخزانہ کے پالیسی بیان کے مطابق پارلیمنٹ عالمی اور مقامی سرمایہ داروں کی لونڈی کا کردار ادا کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے اور ملک کے مختلف طبقات اور عوام کے احتجاج کو نظرانداز کرتے ہوئے اوپر کی ڈکٹیشن پر عمل کرے گی۔ اس کے باوجود وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد صرف مشاورت کے لیے پاکستان آرہا ہے اور ہم عوامی مفاد کے خلاف آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کو تسلیم نہیں کریں گے اور اپنی شرائط پر آئی ایم ایف سے قرضہ لیں گے۔ وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے پالیسی خطاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق حکومت اور موجودہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ 2013ء کے انتخابات کا اصل موضوع ہی یہی تھا کہ کون سی جماعت صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں قائم پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی عوام دشمن اور تباہ کن پالیسیوں سے نجات دلا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے انتخابات میں ملک کی سب سے پرانی، مقبول عوامی جماعت کو عبرت ناک شکست ہوئی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو سادہ اکثریت حاصل ہوگئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کشکول توڑنے اور خود انحصاری کا نعرہ لگاتی رہی ہے، لیکن پہلے ہی بجٹ میں اپنے منشور کے برعکس سابق حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس سلسلے میں قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی عدالتِ عظمیٰ کے فیصلوں پر عملدرآمد سے گریز کیا ہے۔ جی ایس ٹی میں اضافے کے بارے میں اب یہ پارلیمنٹ کا بھی امتحان ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے جی ایس ٹی میں اضافے کو نہ صرف رد کردے بلکہ پہلے سے ہی 16 فیصد کی تباہ کن شرح کو بھی کم کرے اور بنیادی ضروریات پر مشتمل اشیاء کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گی تو سوال پیدا ہو جائے گا کہ کیا پارلیمنٹ اپنی بالادستی کا دعویٰ عوام کی نمائندگی کے لیے کرتی ہے یا طاقتور اشرافیہ اور عالمی قوتوں کے محافظ کا کردار ادا کرتی ہے۔ اگر وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار یہ مؤقف اختیار کرتے کہ ابھی ہم نے حکومت سنبھالی ہے، بجٹ سابق حکومت اور نگران حکومت کے معاشی منتظمین نے تیار کیا ہے، ابھی ہمیں کام کرنے کے لیے وقت اور مہلت کی ضرورت ہے، ہم سابق اور نگران حکومت کے معاشی منتظمین کا تیار کردہ بجٹ پیش کررہے ہیں، آئندہ برس ہم نئی حکمت عملی کے ساتھ بجٹ پیش کریں گے تو یہ رعایت دی جاسکتی تھی۔ لیکن انہوں نے اور ان کی حکومت نے اس بجٹ کو قبول کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، اس لیے آئی ایم ایف کے قرضے جاری رہیں گے۔ وزیر خزانہ کے دعوے کے مطابق گزشتہ حکومت نے 14 ہزار پانچ سو بلین ڈالر کا قرضہ عالمی بینک سے لیا ہے، ہمیں پچھلے قرضوں کے آئی ایم ایف کے 13 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں۔ گویا قرض لے کر پرانا قرضہ ادا کیا جائے گا۔ یہ بوجھ عوام کو اٹھانا ہے جنہوں نے اس قرضے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ سابق حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسایا تھا۔ 2008ء میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا فیصلہ پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، اور یہ فیصلہ اس لیے ہوا تھا کہ عالمی قوتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے کو رضاکارانہ طور پر قبول کرلے۔ اسی فیصلے کے نتیجے میں روپے کی قیمت کم کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیرونی قرضے کی مقدار میں خودبخود اضافہ ہوجاتا ہے۔ یعنی جس وقت ایک ڈالر کا قرضہ لیا گیا تھا اُس وقت 60 روپے اصل قرض کی مد میں واپس کرنے تھے، لیکن جب ڈالر 60 روپے سے 100 روپے ہوگیا تو قرضے کی رقم میں خودبخود 40 روپے کا اضافہ ہوگیا، جبکہ سود کی شرح الگ ہے۔ اسی فیصلے کے نتیجے میں عالمی مالیاتی اداروں کے منتظمین مالیاتی وائسرائے بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ ہم اپنی شرائط عائد کرتے ہیں۔ 26 دسمبر 2008ء کو سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا، اس کے بعد سے اب قوم کا کام یہ ہے کہ وہ عالمی مہاجنوں کے سود کی ادائیگی کے لیے رگوں سے خون اور ہڈیوں سے گودا نکال کر دے دے۔ اس فیصلے کی ذمہ داری سے مسلم لیگ (ن) بھی بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی حکمراں اور سب سے بڑی حزب اختلاف تھی۔ این آر او زدہ غیر مقبول حکومت کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں تھی، لیکن ’’سسٹم‘‘ چلنے دینے کے پردے میں وہ حکومت کی معاون ومددگار حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی رہی۔ اسحاق ڈار پہلے وزیر خزانہ تھے، وہ مشاورت میں شریک رہے، بلکہ پاکستان کی معیشت کو آئی ایم ایف کے شکنجے میں کسنے والے پیپلز پارٹی کے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین بھی پاکستانی معیشت میں میاں نواز شریف کے متعارف کردہ فرد تھے، وہ آج بھی ان ماہرین میں شامل ہیں جو میاں نواز شریف کے اقتصادی امور کے مشیر ہیں۔ توانائی کے مسئلے پر ہونے والے پہلے اجلاس میں بھی وہ شریک تھے اور قومی ائرلائن کی بحالی کے لیے وزیراعظم نے جو کمیٹی قائم کی ہے اس کے بھی وہ رکن ہیں۔ اس اعتبار سے یہ اہم سوال ہے کہ موجودہ حکومت اور سابق دو حکومتوں میں پالیسیوں کے اعتبار سے کیا فرق ہے؟ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ملکی معیشت آئی ایم ایف کے شکنجے سے آزاد تھی۔ آئی ایم ایف کے بارے میں خود امریکہ اور یورپ کے ماہرین معیشت بھی سخت رائے رکھتے ہیں، لیکن نئی حکومت کے معاشی منتظمین کے پاس بھی آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات کا کوئی نسخہ نہیں ہے۔

Comment on this post