پاکستان کی عدلیہ میں امریکی مداخلت

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

پاکستان کی عدلیہ میں امریکی مداخلت

جنوری کو امریکی کانگریس نے پاکستان کو دی جانے والی تین کروڑ تیس لاکھ ڈالر امداد کو غداری کے الزام میں سزا یافتہ مجرم ڈاکٹر شکیل آفریدی کی نہ صرف رہائی بلکہ اس پر عائد ثابت شدہ الزامات واپس لینے سے مشروط کر دیا ہے جبکہ دیگر شرائط وہی فرسودہ مطالبات ہیں جو امریکی حکام، قانون ساز اداروں اور میڈیا کا تکیہ کلام ہو گئے ہیں اور اپنا اثر کھو چکے ہیں تاہم پاکستان کے حکمرانوں کی گدا گری دیکھ کر امریکی اپنا جگالی کیا ہوا فقرہ ڈو مور دہراتے رہتے ہیں۔ یوں میں اپنی اردو کی تحریروں میں بلا ضرورت انگریزی الفاظ کی آمیزش سے گریز کرتا ہوں مگر جو الفاظ زبان زد خاص و عام ہو جائیں ان کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے اور اب Do More الفاظ اتنے رائج ہو گئے ہیں ان کے ترجمے اور وضاحت کی یہاں ضرورت نہیں رہی۔

اس ڈومور میں امریکی مالی امداد کو پاکستان میں دہشت گردوں اور انتہا پسندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا گیا ہے جبکہ دال میں نمک کے برابر جو مالی امداد دی جانی ہے اسے ملک میں ’’بنیادی ڈھانچے‘‘ کی تعمیر کے لیے مختص کر دیا گیا۔ یہ کیری لوگر بل کا تسلسل ہے جس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کانگریس کو ان شرائط پر عمل درآمد کی رپورٹ ارسال کرے گا اور اگر پاکستان کی کارکردگی امریکی ارکان کانگرس کی نظر میں اطمینان بخش ہوئی تو وہ امداد ی رقم کی دوسری قسط کی ادائیگی کی منظوری دے دیں گے۔

چنانچہ کانگریس کی شرائط کے مطابق پاکستان حکومت کو نہ صرف عسکریت پسندوں کے خلاف مؤثر فوجی کارروائی کرنی ہو گی بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ فوجی قبضے کے خلاف جاری عوامی جدوجہد میں شرکت پر لشکر طیبہ اور جیش محمد کا بھی قلع قمع کرنا ہو گا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ امریکی انتظامیہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا ناجائز قبضہ تسلیم کرتی ہے۔ اس لیے مقامی آبادی کی جدوجہد آزادی کے خلاف بھارت کی حمایت کرتی ہے۔ اس پر حکومت پاکستان کو امریکی وزارت خارجہ سے وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ کیا وہ کشمیر کو بھارت کا حصہ سمجھتی ہے جو لشکر طیبہ اور جیش محمد پر ہمسایہ ممالک میں تخریب کاری کا الزام عائد کرتی ہے؟

کشمیر کب سے بھارت کا حصہ بن گیا؟ کیا سلامتی کونسل نے کشمیر کے بھارت میں الحاق کی حمایت کر دی ہے اور 21 اپریل 1948ء، 13 اگست 48 19اور جنوری 1949ء کی اپنی قرار دادوں کو منسوخ کر دیا۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے 26 اکتوبر کو مہاراجہ کشمیر کے ہند سے الحاق کی دستاویز کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے؟ اگر امریکہ مقبوضہ کشمیر کو متنازع علاقہ نہیں سمجھتا تو وہ اقوام متحدہ کے منشو ر کی خلاف ورزی کر رہا ہے لہٰذا اسے پاکستان کو لشکر طیبہ اور جیش محمد پر اعتراض کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ اگر امریکہ دوسرے ممالک میں در اندازی کو اتنا معیوب فعل سمجھتا ہے تو وہ پاکستان میں کیوں اپنے جاسوسوں اور کرائے کے ایجنٹوں کا جال بچھائے ہوئے ہے۔ رابرٹ گیٹس نے سیکرٹری دفاع کی حیثیت سے اسلام آباد میں اخبار نویسوں کے استفسار پر اعتراف کیا تھا کہ امریکہ نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے بلیک واٹر کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہی نہیں امریکی خصوصی فوجی دستے بھی اندرون پاکستان تخریبی کارروائیوں ، لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات اور ہدفی قتل میں ملوث ہیں۔ اس کا زندہ ثبوت ریمنڈ ڈیوس ہے جس نے دن دہاڑے لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کو قتل کیا تو اس کے حق میں امریکی صدر باراک اوباما بول پڑا کہ وہ سفارتکار ہے لہٰذا اس پر پاکستان کی عدالت میں قتل کا مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

حیرت تو اس پر ہے کہ پیشے کے اعتبار سے امریکہ کا نامی گرامی وکیل باراک اوباما پاکستان میں عدلیہ کو ضابطے کی کارروائی کرنے سے روک رہا ہے لیکن حکومت نے اس بات کو رد کرتے ہوئے مجرم ریمنڈ ڈیوس کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا اور اگر وہ رہا کیا گیا تو پاکستان میں شریعت کے قانون دیت کے تحت ورثاء کو خون بہا کی رقم دینے کے بعد کیا گیا۔ یہ انسانیت پر مبنی وہی اسلامی قانون ہے جس کی امریکہ مخالفت کرتا ہے جبکہ وہی اس کے ایجنٹ کی جان بخشی کا موجب بنا۔

رہ گئی انتہا پسندی والی بات تو ہر معاشرے میں اعتدال پسند اور انتہا پسند قوتیں ہوتی ہیں۔ امریکہ کی ری پبلیکن پارٹی کا دھڑا ٹی پارٹی اپنے مقصد کے حصول کے لیے بندوں کے استعمال کا کھلے عام اعلان کرتا ہے یہاں تک کہ الاسکا کی گورنر سارہ پالن رائفل بردار رہی ہیں اور آئے دن امریکی سکولوں، چھوٹی بڑی بستیوں میں گرجا گھروں، مساجد اور سکھوں کے گردواروں میں آتشزنی، تخریب کاری اور قتل عام معمول بنتا جا رہا ہے۔ کیا یہ انتہا پسندی نہیں ہے؟ امریکہ میں آتشیں اسلحہ پر آج تک مؤثر پابندی نہیں عائد کی جا سکی جبکہ ہر سال تیس ہزار افراد ’’سر پھرے‘‘ نوجوانوں کے ہاتھوں گولیاں کھا کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ہاں اگر ان سر پھروں میں کوئی مسلمان ہے تو وہ ’’سر پھرا‘‘ نہیں انتہا پسند، دہشت گرد، القاعدہ باقاعدہ یا بے قاعدہ اور نہ جانے کن کن ناموں سے پکارا جاتا ہے اور امریکی میڈیا (TV) کمرشل کی طرح اس سر پھرے نوجوان کو قاتل، سازشی، شمالی وزیرستان کے مدرسے کا فارغ التحصیل طالب علم،پاکستانی شہریت کے حامل کی حیثیت سے متعارف کراتا ہے۔ تان ٹوٹتی ہے اسلام پر جو بقول صلیبی صہیونی ٹولہ کے تشدد کا درس دیتا ہے۔

تو میرا مشورہ یہ ہے کہ کانگریس کے مالی امدادی بل کی شرط کے مطابق صرف پاکستان میں انتہا پسندی کے خلاف مہم چلانے کی بجائے امریکی اور پاکستانی حکام پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی امریکہ اور پاکستان دو نوں ممالک کو انتہا پسندی کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے مؤثر مہم چلائے کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ امریکہ میں انتہا پسندی پھلے پھولے اور پاکستان میں اس کا ردعمل نہ ہونے پائے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

Comment on this post