Overblog Follow this blog
Edit post Administration Create my blog

کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا آفتاب اقتدار نصب انہار پر تھا جب انہیں قدرت اللہ شہاب مرحوم نے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں سے ربط و ضبط کی راہ دکھائی تاکہ قوم فیلڈ مارشل کو محض خشک مزاج فوجی کے بجائے شعر و ادب کا قدردان سمجھے اور ادیب، شاعر، دانشور اپنے اپنے انداز میں شاہی دربار سے فیض یاب ہوں۔

ایوب خان نے ساغر صدیقی کی رندی درویشی کے قصے سنے تو لاہور آمد پر ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ نواب کالا باغ امیر محمد خان یوں تو اس طرح کے لوگوں کو منہ لگاتے نہ گورنر ہائوس کے قریب پھٹکنے دیتے مگر حکم حاکم مرگ مفاجات۔ انتظامیہ کو ہدائت کہ کہ شاعر کو بادشاہ سلامت کے حضور پیش کیا جائے۔

ساغر صدیقی مست الست کوئی گھر نہ گھاٹ اور کہیں اٹھنے بیٹھنے کے معمولات کا علم بھی کسی کو نہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے ہر وہ جگہ چھان ماری جہاں ساغر صدیقی مل سکتے تھے مگر سراغ ندارد۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، پولیس اور انتظامیہ کا بلڈ پریشر گرنے لگا کیونکہ نواب صاحب یہ سننے کے روا دار نہ تھے کہ ساغر صدیقی لاہور میں نہیں۔

بالآخر ایک پولیس اہلکار کو نئی انار کلی میں پان کے کھوکھے پر کھڑے گدڑی پوش کے بارے میں شک گزرا کہ ہو نہ ہو یہی ساغر صدیقی ہے بکھرے بال، اجڑے حال اور درویشانہ خدوخال۔ پوچھنے پر واقعی ساغر صدیقی نکلا۔ تھانیدار نے ساتھ چلنے کو کہا تو صاف انکار کر دیا۔ تھانیدار نے پہلے رعب جمایا پھر منت سماجت کی اور بالآخر پائوں پڑ گیا کہ میری نوکری کا سوال ہے آپ گورنر ہائوس چلیں مگر شاعر گورنر ہائوس جانے پر آمادہ نہ صدر ایوب سے ملنے پر تیار۔

تھانیدار نے زیادہ زچ کیا تو ساغر صدیقی نے اس سے کہا کہ مجھے زبردستی صدر کے سامنے پیش کرنے کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں میں کوئی گستاخی کر بیٹھوں گا اور تمہاری نوکری چلی جائے گی۔ مناسب یہی ہے کہ چپ چاپ لوٹ جائو۔ تھانیدار کے اصرار پر اس نے کوڑے دان میں پڑی سگریٹ کی خالی ڈبیا اٹھائی، دکاندار سے پنسل لی اور شعر لکھ کر تھانیدار سے کہا اسے صدر عالی مقام کے حضور پیش کر دو

ہم سمجھتے ہیں ذوق سلطانی
کھلونوں سے بہل جاتا ہے

قُرب شاہی سے اجتناب کی یہ شاعرانہ روش حکمرانوں کے علاوہ سرکار دربار سے وابستہ شاعروں، ادیبوں کو گستاخانہ لگی مگر ساغر کو اس کی فکر کہاں؟

جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں

ملک غلام مصطفیٰ کھر گورنر پنجاب تھے جب جامعہ الازہر کے شیخ الجامعہ پاکستان کے دورے پر تشریف لائے اور لاہور کے گورنر ہائوس میں قیام کیا۔ شیخ الازہر نے فرمائش کی کہ وہ جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث مولانا محمد ادریسؒ سے ملنا چاہتے ہیں۔ گورنر نے اپنے سیکرٹری کو حکم دیا کہ وہ حضرت شیخ الحدیث کو ادب و احترام سے گورنر ہائوس لائے اور ملاقات کا بندوبست کرے۔ 

سیکرٹری جامعہ اشرفیہ پہنچا تو شیخ الحدیث بخاری شریف کا درس ختم کر کے دارالحدیث سے باہر نکل رہے تھے۔ سیکرٹری نے مولانا سے مدعا بیان کیا۔ مولانا نے قریب کھڑے طالب علم سے پوچھا!

’’مولوی صاحب یہ سیکرٹری کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’حضرت گورنر کا معاون خصوصی سمجھ لیں‘‘
’’مولوی صاحب یہ گورنر کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’حضرت! صوبے کا حاکم اعلیٰ‘‘
’’گورنر کو مجھ فقیر سے کیا کام ہے؟‘‘
’’حضرت! شیخ الازہر آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘‘
’’مولوی صاحب مجھے تو گورنر صاحب سے کوئی کام ہے نہ شیخ الازہر سے ملنے کا شوق، میں درس حدیث کا حرج کیوں کروں‘‘
یوں اس درویش حق پرست نے گورنر ہائوس جانے اور شیخ الازہر کی خدمت میں حاضری دینے سے انکار کر دیا۔

اگست 1995ء میں بھارت کے وزیراعظم نرسمہا رائو نے بریلی کے دورہ کے موقع پر اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کے مزار پر چادر چڑھانے اور ان کے نواسے مولانا منان رضا خان کی قدم بوسی کی خواہش ظاہر کی مگر نواسۂ اعلیٰ حضرت نے وزیراعظم سے ملاقات، مزار پر حاضری اور چادر چڑھانے کی اجازت نہ دی۔ نرسمہارائو نے دارالعلوم اور لنگر کے لئے ایک کروڑ روپیہ پیش کرنا چاہا مگر سجادہ نشین نے یہ پیشکش ٹھکرا دی ؎

کروں مدحِ اہل دول رضا
پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا
میرا دین پارہ ناں نہیں

جامعہ اشرفیہ کے بانی مفتی محمد حسن نے اپنے ورثا اور رفقاء کو وصیت کی تھی کہ ’’آمدنی زیادہ ہو تو کام زیادہ کر دو، آمدنی کم ہو جائے تو کام کم کر دو، آمدنی بند ہو جائے تو کام بند کر دو۔ یہ کبھی خیال نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مدرسہ چلانے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا تو سر پر ٹوکری اٹھا کر، حلال کما کر کھانے سے بھی حاصل ہوتی ہے۔‘‘

ایک امیر نے حضرت مرزا جان جاناںؒ کی خدمت میں تیار حویلی، خانقاہ پیش کی اور خانقاہ میں مقیم فقراء کے لئے مناسب وظیفہ مقرر کر کے قبولیت کی درخواست کی آپ نے جواب دیا ’’چھوڑ جانے کے لئے اپنا اور بیگانہ مکان برابر ہیں فقیروں کا خزانہ صبر و قناعت ہیں۔‘‘

مگر یہ سب اس زمانے کی باتیں ہیں جب شاعر، ادیب، دانشور، علماء صوفیا اور فقراء فقر غیور کے پیکر، قرب سلطانی کی خواہش سے بے نیاز اور اپنے علم، ذہانت، شعور و آگہی، تقویٰ اور استغنا کو مقصد حیات، سرمایہ زندگی تصور کرتے تھے۔ نعم الامیر علیٰ باب الفقیر و بئس الفقیرعلیٰ باب الامیر (امیر، فقیر کے دروازے پر اچھا لگتا ہے اور فقیر امیر کے دروازے پر بُرا‘‘) کی ضرب المثل ہر جگہ ہر محفل میں دہرائی جاتی اور قرب سلطانی کے خواہش مندوں، طلب گاروں کو عزت نفس سے محروم تصور کیا جاتا تھا آج کل ماضی کے یہ واقعات پڑھ اور سن کر لوگ چنداں خوش نہیں ہوتے بد مزہ ہو جاتے ہیں۔

خداوندا ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

بشکریہ روزنامہ ' جنگ'

Comment on this post