’’جنیوا2‘‘ اور یرموک کیمپ کا انسانی المیہ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

’’جنیوا2‘‘ اور یرموک کیمپ کا انسانی المیہ
’’جنیوا2‘‘ اور یرموک کیمپ کا انسانی المیہ

شام میں جاری عوامی بغاوت کی تحریک اور صدر بشارالاسد کے مستقبل کے تعین کے لیے کئی ماہ کی مساعی کے بعد بالآخر اقوام متحدہ نے 22 جنوری کو دوسرے جنیوا اجلاس کا اعلان کیا۔ شام کی تہہ در تہہ پیچیدہ صور ت حال سے یہ کہنا مشکل ہے کہ عالمی سفارت کاری کی یہ کوشش ثمر آور ثابت ہوگی یا نہیں۔ مبصرین پہلے ہی یہ پیش گوئی کرچکے ہیں کہ جس طرح عالمی جرگہ داروں کے درمیان جنیوا اجلاس کی انعقاد کے ضمن میں اختلافات رہے اور شامی باغیوں کی جانب سے اجلاس میں شرکت اور عدم شرکت کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات نے پہلے ہی یہ اشارہ دے دیا تھا کہ ’’جنیوا 2‘‘ بھی مسئلے کے جلد او ر دیر پا حل میں کوئی اہم سنگ میل ثابت نہیں ہو سکے گا۔

مبصرین یہ عندیہ اس لیے بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ کیونکہ دو سال قبل پہلے جنیوا اجلاس میں جتنے بھی اہم نکات منظور کیے گئے تھے۔ بشارالاسد اور باغیوں دونوں نے ان میں سے کسی ایک نقطے پرعمل درآمد نہیں کیا ہے۔ نئی سفارتی اور سیاسی کوشش بھی وہی ’’دوستان شام‘‘ کر رہے ہیں جو’’جنیوا1‘‘ کے خاکہ ساز تھے۔ ’’العربیہ ‘‘ ٹی وی کی   رپورٹ کے مطابق

دوسری اہم طاقت امریکا، سعودی عرب، ایران اور روس ہیں۔ یہ چاروں خارجی قوتیں چاہیں تو شام کی خانہ جنگی کودنوں میں نہیں کم از کم ہفتوں اور مہینوں میں ضرور ختم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ بحران کو طول دینے اور اسے ختم کرنے میں ان ممالک کا کلیدی کردار سمجھا جاتا ہے۔شام کا دوسرا بڑا مسئلہ اندرون ملک جاری خانہ جنگی کی وجہ سے سنگین انسانی صورت حال ہے۔ جنیوا جلاس اگر شامی پناہ گزینوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کاباعث نہیں بن سکتا تو اس کے بعد شامی عوام کا عالمی برادری سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ سب سے زیادہ تباہ کن حالت دمشق کے جنوب میں قائم فلسطینی پناہ گزین کیمپ کی ہے۔

شام کی سرکاری فوج نے فلسطینیوں کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ’’یرموک‘‘ کا پچھلے سات ماہ سے مسلسل محاصرہ کر رکھا ہے۔ صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک کے دوران یرموک کیمپ میں بعض فلسطینی تنظیموں اور مقامی شامی آبادی پر بھی باغیوں کی حمایت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ کیمپ میں فوجی کریک ڈاؤن میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق شام میں بشارالاسد کی فوج کے ہاتھوں کم سے کم 1921 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، ان میں سے بیشتر یرموک کیمپ میں کریک ڈاؤن میں مارے گئے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے محصورین یرموک کی مدد کے کئی بار وعدے اور یقین دہانیاں کی گئی ہیں مگرمفلوک الحال عوام کی عملی مدد نہیں کی جا سکی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں بالخصوص ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ رواں موسم سرما میں یرموک کیمپ میں پچاس افراد بھوک سے مر چکے ہیں۔ ہزاروں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔موت کے اس خوفناک سائے میں عالمی طاقتیں دوسرے جنیوا اجلاس کی تیاری کر رہی ہیں۔ کیا جنیوا اجلاس میں مفلوک الحال لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کوئی انتظام ہو سکے گا۔

’’جنیوا2‘‘کی کامیابی فریقین کی سنجیدگی پر منحصر ہے۔

Published on Syria, Bashar Al Asad, Jeneva 2

Comment on this post