Corruption in Pakistan by Matiullah Jan

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

سکول کے زمانے میں سست اور کاہل بچے ضرورت کی کتابیں بستے میں رکھنے کی بجائے تمام کتابوں کا بوجھ اٹھائے پہنچ جاتے تھے‘ ذرا ہوشیار بچے صرف وہ کتابیں اور کاپیاں بستے میں رکھتے جو اس روز پڑھائی جانی ہوتی‘ نالائق بچوں کی نیت پڑھنے کی نہیں ہوتی تھی بلکہ والدین اور اساتذہ کو اپنے بھاری بھر کم بستوں سے یہ تاثر دینا ہوتا تھا کہ وہ تعلیم میں سنجیدہ ہیں‘ کچھ والدین اور اساتذہ واقعی ان بھاری بھر کم بستوں سے متاثر بھی ہوتے تھے۔

لگتا ہے اب وہی بھاری بھر کم بستوں والے بچے بڑے ہو کر ملک و قوم کی تقدیر کے کاتب بن گئے ہیں یوں تو ڈاکٹر‘ وکیل‘ صحافی اور اساتذہ بھی بھاری بستے کی عادت سمیت اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں‘ مگر ایک شعبہ خصوصاً ایسے بھاری بستوں والوں کی اماجگاہ لگتا ہے اور وہ ہے ہمارے آئین اور قانون ساز ادارے جہاں بیٹھے اراکین پارلیمنٹ پرانے قوانین پر عملدرآمد سے زیادہ نئے قوانین کی منظوری کو کارکردگی کا معیار سمجھتے ہیں‘ بالکل ویسے ہی جیسے آج کل پرانے جوتوں اور کپڑوں کی مرمت کی بجائے کچھ لوگ نئی شاپنگ کو ترجیح دیتے ہیں ہماری وزارت قانون میں انگریزوں اور پھر ہماری حکومتوں کے بنائے ہوئے قوانین سرکاری الماریوں اور لائبریریوں کی گرد چاٹ رہے ہیں اور ان میں سے بہت سے تو ردی کی طرح خریدار کے منتظر ہیں۔ ہمارے عدالتی فیصلوں کی صورت حال کچھ مختلف نہیں عدالتوں کی لائبریریوں میں وزیراعظم کو پھانسی لگوانے اور فوجی آمروں کی بغاوت کو جائز قرار دینے سے لے کر فوجی آمروں کو غاصب قرار دینے والے نسخوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

اس حوالے سے شعبہ انسداد بدعنوانی بھی ایک عمدہ مثال ہے یوں تو یہ قانون بدعنوانی کی روک تھام کے لئے بنایا جاتا ہے جیسا کہ چوری‘ دھوکہ‘ فراڈ وغیرہ مگر ہماری حکومتوں نے تو انسداد بدعنوانی کے لئے اوپر تلے بہت سے ادارے بھی بنا رکھے ہیں‘ جیسا کہ قومی احتساب بیورو‘ محکمہ انسداد بدعنوانی‘ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے‘ آڈیٹر جنرل آف پاکستان‘ اکاوّنٹنٹ جنرل اور درجنوں ریگولیٹری ادارے جو اپنے اپنے شعبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں‘ بد قسمتی سے ہمارا انسداد بدعنوانی کا بستہ بھی بہت بھاری ہو چکا ہے‘ سرکاری محکموں میں مالی بے ضابطگیوں کو نظر انداز کرنے کے لئے ایک مرغی کی ٹانگ پر سودا کرنے والے آڈیٹر جنرل کے ملازمین ہوں یا بدعنوانی کرنے کے بعد محکمہ انسداد بدعنوانی میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہونے والے افسران یا پھر قومی احتساب بیورو میں تعینات وہ افسران جو کبھی ملزمان کے ماتحت رہے ہوں‘ یہ سب لوگ آخر کیونکر اور کیسے ملک سے بدعنوانی کے خاتمے میں سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔

بدعنوان لوگوں کی ایک قسم وہ ہے جو جمہوریت کی ٹانگ کے ساتھ آمریت کا بم باندھ کر عوام کو لوٹتے ہیں۔ عوام کو تاثر دیا جاتا ہے کہ اگر ان بڑے ملزمان کے خلاف کارروائی ہوئی تو جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی‘ المیہ تو یہ ہے کہ فوجی قیادت بھی احتساب کا نعرہ لگا کر آئین سے بغاوت تو کرتی ہے مگر پھر انہی بدعنوان ملزمان کی طرح خود بھی لوٹ کھسوٹ میں حصہ دار بن جاتی ہے کبھی احتساب کی بندوق کی نالی پر ق کی قینچی سے جمہوریت کا ازار بند کاٹا جاتا ہے تو کبھی احتساب کی لاش کو این آر او کے صلح سفید کفن میں لپیٹ کر دفنا دیا جاتا ہے اور ہماری عسکری قیادت پر تو ویسے بھی انسداد بدعنوانی سے متعلق بنائے گئے اداروں کا اختیار نہیں اور جن کا اختیار ہے جیسا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان ان کی اوقات گاہے بگاہے انہیں یاد دلائی جاتی رہتی ہے۔

بدعنوانی کوئی زخم نہیں جس پر انسداد بدعنوانی کی مرحم لگا کر اسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ بدعنوانی ایک کینسر ہے جو معاشرے کی رگوں میں دوڑتا ہے جو نسل در نسل چلتا ہے اور اس کا علاج بھی ایک نئے طرز زندگی سے ہی کیا جا سکتا ہے ہمارا معاشرہ وہ کوڑے کا ڈھیر بن چکا ہے جس پر چڑھ کر سیاست دان اقتدار کی بلندی پر پہنچتے ہیں اور وہاں سے اعلان کرتے ہیں کہ وہ کوڑا کرکٹ ختم کرکے دم لیں گے ہماری سیاست لاشوں کا وہ ڈھیر ہے جس پر قدم جما کر قائدین چوٹی تک پہنچ جاتے ہیں اور پھر اعلان کرتے ہیں کہ لاشوں کی سیاست نہیں ہوگی‘ یہ سیاست دان اور فوجی آمر آخر کیونکر درخت کی اس ٹہنی کو کاٹیں گے جس پر وہ خود بیٹھتے ہوں‘ جس ملک اور معاشرے میں مقتدر لوگ اپنے چاچے‘ مامے‘ بھانجے‘ بھتیجے‘ بچوں‘ بہنوں‘ بھائیوں کو اہم عہدوں پر فائز کرتے ہوں تو وہاں بد عنوانی کا خاتمہ کیسے ہوگا کون کرے گا اور کب کریگا؟

آخر کب تک ان ”بلند پایہ“ قائدین کی تقریریں اور بیانات سن کر ہم معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کے خواب دیکھتے رہیں گے ہمارے ٹیکس کے پیسے سے ہمیں عوام کو ہی بیوقوف بنانے کے لئے بڑے بڑے ادارے تو بنا دیئے جاتے ہیں اور پھر ان کی جھوٹی کارکردگی کے اشتہارات تو چھاپ دیئے جاتے ہیں مگر پھر وہی ہوتا ہے ”جمہوریت“ خطرے میں پڑ جاتی ہے اور جمہوریت کو بچانے کے لئے بدعنوانی کے ملزمان اکٹھے ہو جاتے ہیں‘ یوں لگتا ہے کہ جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے والے اور اسے بچانے والے دونوں ملے ہوئے ہیں جب بھی احتساب کی بات ہوتی ہے تو جمہوریت پر ”پھوکے“ فائر کھول دیئے جاتے ہیں اور جیسے ہی عوام سہم جاتے ہیں تو جمہوریت کو بچانے کے لئے احتساب کے کالے بکرے کو قربان کر دیا جاتا ہے‘ یوں نہ تو اربوں ڈالر لوٹنے والے کبھی کٹہرے میں آتے ہیں اور نہ ہی ”آئین کے غدار“ کبھی تختہ دار تک پہنچ پاتے ہیں‘ جس روز کوئی لٹیرہ سزا پا گیا تو آئین کا غدار بھی نہیں بچے گا اور جب کوئی آئین کا غدار تختہ دار پر جھول گیا تو پھر کوئی لٹیرہ بھی نہیں بچے گا‘ شاید اسی لئے عوام کو دکھانے کے واسطے قوانین اور اداروں کے بستے بھاری رکھے جاتے ہیں اور یہ بھاری کیوں نہ ہوں ان کا بوجھ تو عوام نے ہی اٹھانا ہے مگر پھر عوام کسی حد تک اپنے کئے کی سزا ہی تو بھگتے ہی ہیں۔

ایک لمحے کی لغزش اور پھر پانچ سال کا رونا‘ ذمہ دار وہ ہیں جو غلط ووٹ دیتے ہیں اور وہ بھی جو ووٹ ڈالنے نکلتے ہی نہیں۔

Comment on this post