Maqbool Butt Shaheed

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

Maqbool Butt Shaheed
Maqbool Butt Shaheed

مقبول بٹ شہید آج کشمیری مزاحمت کی علامت بھی اپنے نام کی طرح کشمیریوں کے مقبول لیڈر ہیں۔ سرینگر سے 96کلومیٹر دور قصبہ بیگام میں پیدا ہوئے۔ 1958ء میں پاکستان ہجرت کی اور اپنے چچا مرحوم عبدالعزیز کے ساتھ پشاور میں سکونت پذیر ہوئے۔ پشاور یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ احمد فراز سے قربت رہی۔ انگریزی اور اردو لٹریچر میں مہارت حاصل کی۔اجمل خٹک کی ادارت میں اخبار ’’انجام‘‘ کے سب ایڈیٹر رہے۔
مقبول بٹ کے سیاسی سفر کا آغاز قومی محاذ رائے شماری سے ہوا۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیر میں آزادی کی مسلح تحریک پر زور دیا اور سب سے پہلے خود کو اس کام کے لیے پیش کیا۔ مقبول بٹ نے خود جنگ بندی لائن عبور کرکے مقبوضہ کشمیر میں محاذ آزادی کے عسکری ونگ میں نوجوانوں کی بھرتی کا پروگرام شروع کیا۔ اس دوران اُن کو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا مگر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جیل توڑ کر واپس آزاد کشمیر پہنچ گئے۔ جدوجہد جاری رہی اور وہ ایک مرتبہ پھر جنگ بندی لائن عبور کرکے کشمیر میں داخل ہوئے اور وہاں عسکری کارروائیوں کے لیے زمین ہموار کرنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد پھر گرفتار ہوئے تو انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں منتقل کیا گیا اور اسی جیل میں 11 فروری 1984ء کو پھانسی دے کر کشمیر میں ہنگاموں کے ڈر سے ان کی نعش جیل ہی میں دفن کردی گئی، مگر جلد ہی وہ کشمیر کی آزادی اور بھارت کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔ مقبول بٹ کی شہادت کے بعد کشمیر میں آزادی کی مسلح جدوجہد نے خوب زور پکڑا۔ آج کشمیر میں مقبول بٹ کو سیاسی، مذہبی اور گروہی تعصبات سے بالاتر ہوکر ایک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کشمیر میں سرکاری طور پر ان کی برسی منائی جاتی ہے۔ آزادی کے متوالے ان کی پھانسی کو یاد کرکے اپنی تحریکِ آزادی کو جِلا بخشتے ہیں۔ 

Comment on this post