Maulana Abul Kalam Azad مولانا ابوالکلام آزاد

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 Maulana Abul Kalam Azad مولانا ابوالکلام آزاد
 Maulana Abul Kalam Azad مولانا ابوالکلام آزاد

  مفکر، میدانِ سیاست کے مدبر، جہاد کے شہسوار، سحر طراز ادیب، جادہ بیان خطیب، ذہانت، فہم وفراست، فکر و تدبر کی گہرائی کا عنوان اور عالم و فن کے امام مولانا ابوالکلام آزادکی تاریخ پیدائش 11نومبر 1888ء اور تاریخ وفات 22 فروری 1958ء ہے۔ آپ دہلی میں جامع مسجد کے پاس آسودۂ خاک ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔  والد کا نام مولانا محمد خیرالدین تھا۔ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں والد کو ہندوستان سے ہجرت کرلی۔ کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی، پھر جامعہ ازہر (مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کرلیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحیتوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ ’’لسان الصدق‘‘ جاری کیا، جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1913ء میں ’’الہلال‘‘ نکالا۔جس نے آپ کی مقبولیت کو آسمان پر پہنچا دیا۔ آپ کی مشہور تصانیف میں ترجمان القرآن، تذکرہ، غبارِ خاطر، مسئلہ خلافت، حیات سرمد، اور انڈیا ونس فریڈم شامل ہیں۔ اس کا اردو ترجمہ ’’آزادیٔ ہند کی کہانی‘‘ ہے جو شہرۂ آفاق صحافی‘ ادیب اور ترجمہ نگار مولانا غلام رسول مہر کے زورِ قلم کا شاہکار ہے۔ مولانا مہر نے یہ ترجمہ 1959ء میںکیا تھا۔ اس میں مولانا ابوالکلام آزاد کا سوانحی خاکہ، ان کی سیاسی وابستگی اور تحریک آزادی کی کہانی انتہائی چابکدستی کے ساتھ مرحلہ وار محفوظ کی گئی ہے۔ ان کی ایک کتاب’’ہماری آزادی‘‘کے تیس صفحات کا قضیہ ایک طویل عرصے تک موضوع بحث بنا رہا۔ ’’ہماری آزادی‘‘ مولانا کی زندگی میں لکھی گئی، بلکہ مولانا نے اسے املا کرایا تھا اور بعد میں اسے دیکھا بھی تھا۔ ترمیمات بھی کی تھیں اور اس کے تیس صفحات کو جہاں تہاں سے الگ کرلیا تھا، لیکن کتاب کی اشاعت ان کی وفات کے بعد عمل میں آئی۔آپ انڈین نیشنل کانگریس کے حامیوں میں تھے اور ہندوستان کی تقسیم کے شدید مخالف تھے، مگر جب پاکستان بن گیا تو آپ نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ اس نئی مملکت کو مضبوط و مستحکم بنائیں۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنے۔ مولانا کا ایک فقرہ ہے کہ ’’تم لوگ پانی اور کیچڑکو دیکھ کر بارش کا یقین کرتے ہو، میں اس کو ہوا میں سونگھ کر جان لیتا ہوں۔‘‘

Comment on this post