Why Balochistan is burning

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

Why Balochistan is burning
Why Balochistan is burning

کراچی سے پشاور جانے والی خوشحال خان خٹک ایکسپریس کو جیکب آباد کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ دھماکے سے 12 مسافر جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکا اتنا زور دار تھا کہ کئی مسافروں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ مسافر ٹرین کو دھماکے سے اڑانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ گزشتہ ہفتے کراچی کے قریب شالیمار ایکسپریس کو گھگر پھاٹک پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ جیکب آباد صوبہ بلوچستان سے متصل ہے، جیکب آباد کے قریب مسافر ٹرین کو تخریب کاری اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا، بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی توسیع ہے۔خبروں کے مطابق علیحدگی پسند تنظیم بلوچ ری پبلیکن آرمی نے مسافر ٹرین پر حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے سواجہ سعد رفیق نے بھی لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں آزادی کی نام نہاد تحریک چلانے والے ٹرینوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بلوچستان کی صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس واقعے سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں ایک اور علیحدگی پسندتنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)نے 5 سرکاری افسروں کو اغوا کرلیا تھا ۔ سرکاری افسران میں ڈپٹی کمشنر کیچ عبدالحمید ابڑو اور اسسٹنٹ کمشنر تمپ حسین بلوچ بھی شامل تھے جو تربت میں ایرانی حکام سے مذاکرات کے بعد کیچ واپس آرہے تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اغوا شدہ سرکاری  افسروں کو قبائلی معتبرین کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔ سرکاری افسروں کے اغوا اور رہائی سے بلوچستان میں امن وامان کی سنگین صورت حال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے قومی ذرائع ابلاغ بلوچستان کی اصل تصویر سے قوم کو آگاہ نہیں کررہے ہیں۔ بلوچستان میں تخریب کاری کے واقعات تسلسل سے ہورہے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں گیس پائپ لائن دھماکے سے اُڑا دی گئی۔ گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑانے کی وارداتیں رحیم یار خان تک پہنچ گئی ہیں۔ جب مسلح عسکریت پسند ڈپٹی کمشنر کو بھی اغوا اور قید کرلیں تو اس سے حکومت کی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ اسی کے ساتھ سیکورٹی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ خضدار میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے فاضل جج بھی بلوچستان کے لاپتا افراد کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو بیرونی ہمدردی بھی ملنے لگی ہے۔ ان کا اشارہ جلاوطن بلوچ رہنمائوں سے امریکی کانگریس کے ایک رکن کی ملاقات اور اس کے بیان کی طرف ہے۔ اس رکن کانگریس نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کو مستقل حل کرنے کے لیے بلوچستان کو ’’آزاد ریاست‘‘ بنا دیا جائے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے فی الحال اس مطالبے کو امریکی سرکاری پالیسی قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ لیکن اس تبصرے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں عالمی طاقتوں کا کھیل کس انداز میںجاری ہے۔ بلوچستان میں بی ایل اے، بی ایل ایف جیسی تنظیموں اور ناراض نوجوانوں کا وجود حکومت بالخصوص جنرل (ر) پرویز مشرف کی غلط اور ناعاقبت اندیش پالیسیوں کا ردعمل ہے۔ مرکزی ٹرین لائن پر ایک ہفتے میں دوبارہ دو مسافر ٹرینوں کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی پشت پناہی کرنے والی اندرونی اور بیرونی قوتیں، مواصلاتی رابطوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، سڑک اور ٹرین کے ذریعے قومی شاہراہوں اور مواصلات کو نشانہ بنانا ان قوتوں کا کام ہے، جو پاکستان سے حالت جنگ میں ہیں۔ کراچی کے بعد جیکب آباد میں ٹرین پر بم دھماکے نے ملکی سیکورٹی اور حفاظت کے پورے نظام پر سوالیہ نشان عائد کردیا ہے۔ جبکہ پورے ملک کو ہمارے سیکورٹی اداروں نے عملاً خفیہ ایجنسیوں کی ریاست میں تبدیل کردیا ہے۔ جیکب آباد میں ٹرین پر بم دھماکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ اس وقت ذرائع ابلاغ میں ایس فضا بنا دی گئی ہے کہ دہشت گردی، بدامنی اور تخریب کاری کا تعلق صرف تحریک طالبان سے ہے۔ جب 2004ء میں قبائلی علاقوں میں فوج کشی کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت تحریک طالبان پاکستان کے نام کا وجود بھی نہیں تھا۔ اسی طرح جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں نواب اکبر بگٹی کو میزائل حملے سے نشانہ بنا کر قتل کردینے کے سانحے تک بلوچستان نسبتاً پر سکون صوبہ تھا۔ قبائلی علاقوں میں مذاکرات یا آپریشن کے حوالے سے بری فوج کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا جو وضاحتی بیان شائع ہوا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ شمالی وزیرستان میں کارروائی ہوتے ہی دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا البتہ اس میں 40 فیصد تک کمی آجائے گی۔ قبائلی علاقے پاکستان کے سب سے پر امن خطے تھے اور قبائل کو پاکستان کا بازوئے شمشیر زن اور بلا تنخواہ کی فوج قرار دیا جاتا تھا، لیکن چونکہ پاکستان عالمی طاقتوں کی جنگ کا میدان بن گیا ہے اس لیے افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد سے ملک کے ہر خطے میں داخلی اور خارجی قوتوں نے متنوع گروہوں کی پرورش کی ہے جو پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وار داتیں کر رہے ہیں ۔ جنرل کیانی کے بیان کے مطابق ان کا اصرار یہ تھا کہ ’’پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے‘‘ یعنی وہ خود اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی صحیح نہیں ہے۔ تخریب کاری کے واقعات کا تسلسل جنرل کیانی کی بات کی تصدیق کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے اصل اسباب ذمہ داروں پر اب بھی پردے ڈالے جا رہے ہیں اور ان واقعات کی آڑ میں ایک نفسیاتی جنگ پاکستانی عوام پر مسلط کردی گئی ہے ۔

Comment on this post