Overblog Follow this blog
Edit post Administration Create my blog

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ...باغ تو سارا جانے ہے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ...باغ تو سارا جانے ہےجانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ...باغ تو سارا جانے ہے

مظفر گڑھ سے رکن قومی اسمبلی خبروں میں رہنے، لوگوں کو چونکانے اور حکمران اشرافیہ کو تڑپانے کا ہنر جانتے ہیں مگرپارلیمنٹرین لاجز کے بارے میں انہوں نے فلور آف دی ہائوس پر جو انکشاف کیا ہے وہ اسی ہنر کا شاہکار ہے یا حقیقت بیانی؟ معلوم کرنا چاہئے۔

فیلڈ مارشل ایوب خان نے مرکزی دارالحکومت کو کراچی سے راولپنڈی منتقل کرنے کی وجہ اپنی کتاب (جس رزق سے آتی ہوپرواز میں کوتاہی) میں یوں بیان کی ’’کراچی کی آب و ہوا اچھی نہیں۔ یہاں لوگوں کی طبیعت مضمحل رہنے لگتی ہیں اور کام کرنے کی ہمت پست ہو جاتی ہے ...... کراچی سیاسی شورش اور ہلچل کا مرکز بن گیا ہے۔ تاجروں کے ساتھ ہر وقت میل جول سے سرکاری افسروں میں اخلاقی بگاڑ بھی پیدا ہوا اور بہت سے لوگ بری ترغیب کا شکار ہوئے‘‘۔

جنرل یحییٰ خان کی سربراہی میں دارالحکومت کے انتخاب کے لیے قائم کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ’’کسی ملک کا دارالحکومت بس ایک شہر نہیں بلکہ شہروں کا سربراہ ہوتا ہے یہی بے فکر اور خیال کا سوتا پھوٹتا ہے جو قوم کو سیراب کرتا ہے۔ یہ ہماری امیدوں کی علامت، ہماری آرزوئوںکا آئینہ، قوم کا دل اور روح ہوتا ہے اس لیے اس کی فضا اور ماحول ایسا ہو جس سے قوم کو ہمیشہ توانائی حاصل ہوتی رہے۔‘‘

اسلام آباد بن گیا ایک خوبصورت شہر مگر دوسرے شہروں سے کس قدر مختلف ہے؟ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ وہی آبادی کا اژدہام، سنگ وخشت کا جہاں اور ان تمام قباحتوں کا مجموعہ بری ترغیبات کا مرکز جوہر بڑے شہر کی پہچان ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں یہ رپورٹ منظر عام پر آئی تھی کہ پارلیمنٹ ان سیشن ہو تو اسلام آباد میں شراب اور شباب کی گرانی آسمانوں کو چھونے لگتی ہے۔ 1980-1990 کے عشروں میں تو ارکان اسمبلی کے نرخ بھی روزانہ کی بنیاد پر طے ہوتے۔ اسی دور میں ہائوس ٹریڈنگ، سٹاک ایکسچینج، لوٹا، خچر بازاری اور فصلی بٹیرے ہماری قومی لفظیات کا حصہ بنے۔

ماضی میں وفاداری بدلنے کے لیے عوامی نمائندوں کو زر، زن زمین ہی مرغوب تھی۔ زنان بازاری، مہنگی ہائوسنگ سکیموں میں پلاٹ اور کروڑوں کی نقد ادائیگی۔ ایک سیاستدان نے زرنقد کے عوض اپنے پورے خاندان کو سینٹ اور قومی اسمبلی میں پہنچا دیا اور برخورداروں نے پسندیدہ وزارتیں بھی حاصل کر لیں۔

دنیا میں کہیں خواتین کا کوٹہ مخصوص نہیں مگر پرویز مشرف کے دور میں تھوک کے حساب سے خواتین کو اسمبلیوں میں داخل کیا گیا تاکہ امریکہ اور یورپ ہماری روشن خیالی پر ایمان لائے۔ کیسی کیسی خواتین کوٹہ سسٹم کے تحت اسمبلیوں میں پہنچیںیہ ارکان اسمبلی ہی بتا سکتے ہیں۔ ہمارے دوست مظہر برلاس ایک خاتون رکن اسمبلی کے بارے میں چودھری شجاعت حسین کا تبصرہ سنایا کرتے ہیں ’’اے کڑی، پنج ست طلاقاں کرائے گی‘‘ میں اور عباس اطہر صاحب ایک بار چوہدری صاحب کے پاس بیٹھے تھے۔ خواتین ارکان کا ذکر چلا تو بولے ’’اسمبلی چلے نہ چلے کئی گھر ضرور اجڑیں گے۔‘‘یہ مرض پرویز مشرف کے دورمیں بڑھا، پیدا ہبہت پہلے ہوا۔

صرف اسلام آباد ہی نہیں مختلف صوبائی دارالحکومتوں میں واقع ارکان اسمبلی کے اقامتی ہاسٹلز کو چونکہ قانونی تحفظ حاصل ہے اس لیے مبینہ طور پر صرف ارکان اسمبلی ہی نہیں ان میں سے بعض کے اوباش سنگھی ساتھی ان ہاسٹلز کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔ چند برس قبل پنجاب اسمبلی کے پہلو میں واقع ایم پی اے ہاسٹل میں سے ایک کمرے سے برہنہ خاتون چیختی چلاتی، بچائو بچائو کی صدا لگاتی استقبالیہ پر پہنچی، اخبارات میں خبر شائع ہوئی مگر پھر یہ معاملہ دب گیا۔ کیونکہ حکمران اشرافیہ میں سے کوئی نہیں چاہتا کہ عوامی نمائندوں کی خرمستیاں اور رنگ رلیاں عوامی بحث مباحثے کا موضوع بنیں اور قانون کی گرفت میں آئیں۔

پارلیمنٹ لاجز میں مقیم سارے ارکان سینٹ و قومی اسمبلی چونکہ آئین کے آرٹیکل 62, 63 کی چیک پوسٹیں عبور کر کے یہاں تک پہنچے اس لئے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ ان میں سے کسی پر زانی، شرابی، بدکردار و اوباش کی تہمت لگائے۔ بہت سے واقعی ایسے ہیں کہ اگر دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں مگر جمشید دستی نے جو کہا اور نبیل گبول، رشید گوڈیل، طلحہ محمود اور زہری نے اس کی تائید کی وہ بھی ؎ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔

بلاشبہ جمشید دستی سر پھرا رکن اسمبلی ہے حلقے میں اس کے حامی لاکھوں میں ہیں اور مخالفین لاتعداد مگر فلور آف دی ہائوس پر اس نے جو بات کی وہ سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے محض یہ کہہ دینے سے معاملہ ٹھپ نہیں ہو سکتا کہ یہاں ارکان اسمبلی کی فیملیز رہتی ہیں، بعض متشرع ارکان پارلیمنٹ اور ایک مسجد میں پنج وقتہ نماز کا اہتمام۔ بادشاہی مسجد کے زیر سایہ خرابات سے کون انکار کر سکتا ہے۔

سابقہ اسمبلی میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور کشمالہ طارق کے مابین لفظی جنگ نے طول پکڑا تو سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے دونوں کو بلا کر معاملہ رفع دفع کرایا۔ جانتی تھیں کہ یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں۔ سپیکر ایاز صادق نیک نام شخص ہیں مگر پارلیمنٹ لاجز کی شبینہ سرگرمیاں؟ سپیکر معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں یا دانش مندی سے دستی کی زبان بند کرائیں ورنہ معاملہ بگڑنے کا اندیشہ ہے

؎ یہ بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔

بشکریہ روزنامہ  جنگ

Comment on this post