پاکستان میں اتفاقِ رائے کی سیاست کا فقدان

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

پاکستان میں اتفاقِ رائے کی سیاست کا فقدان
پاکستان میں اتفاقِ رائے کی سیاست کا فقدان

پاکستان کی مجموعی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بحرانوں کی ایک لمبی فہرست نمایاں ہے۔ بحرانوں کا پیدا ہونا فطری امر ہے، لیکن یہ بحران کیوں پیدا ہوئے اور اس کے محرکات کیا ہیں، اس کا جائزہ لیے بغیر ہم مسئلہ کے حل کی جانب پیش رفت نہیں کرسکتے۔جس کسی قوم کو مسائل اور بحران کا سامنا ہوتا ہے تو ان کی سیاسی قیادت سمیت اشرافیہ کا طبقہ ’’ایک بڑا اتفاقِ رائے‘‘ پیدا کرکے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ہماری صورت حال کافی مختلف ہے۔ ہم بحرانوں میں اتفاق رائے کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے بجائے افراد کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ اس کا ایک عملی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست، حکومت اور عوام میں فاصلے پیدا ہوتے ہیں، لوگ ریاستی و حکومتی فیصلوں کو قبول کرنے کے بجائے ان معاملات سے لاتعلقی اختیار کرلیتے ہیں۔ مسائل کے حل کی اہم کنجی یہ ہوتی ہے کہ لوگ ان مسائل اور ان کے حل میں ’’ملکیت کے تصور‘‘ کو اپنے اندر پیدا کریں، جبکہ یہاں صورت حال بالکل الٹ ہے اور کوئی اہم معاملات پر ذمہ داری  قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام جمہوریت پر کم اور افراد پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے فیصلوں میں جمہوری مزاج کم نظر آتا ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کو دو بڑے فکری مغالطے ہیں۔ اوّل وہ اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جو علم و صلاحیت ہمارے پاس ہے وہ کسی اورکے پاس نہیں۔ دوئم ان کا خیال ہے کہ اگر ہم نے حقیقی معنوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی تو اس میں ناکامی ملے گی، کیونکہ بالادست طبقات اور عام افراد کی رائے میں فرق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس بحث میں الجھنے کے بجائے وہ کچھ کرتے ہیں جس سے ان کے مفادات کو تقویت ملتی ہے۔ اسی طرح آج کی عالمگیریت پر مبنی سیاست میں فیصلے سیاسی تنہائی میں نہیں ہوتے، بلکہ ہمارے جیسے ملکوں کو عالمی دبائو اور بڑی طاقتوں کے فیصلوں کے سامنے بھی سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ جب حکمران اور بالادست طبقوں کو اندازہ ہے کہ ہمیں ایک بڑے عالمی فریم ورک جس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے، میں رہ کر کام کرنا ہے تو پھر اتفاق رائے کی سیاست کو کیوں آگے بڑھایا جائے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف خود اپنی کتاب ’’ لائن آف فائر‘‘ میں اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے پاس دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اتحادی بننے کا فیصلہ کرنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ ان کے بقول امریکہ نے انھیں صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ آپ بس یہ طے کریں کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں۔ ایسی صورت میں کمزور حکمران یا ریاست یہی فیصلہ کرسکتی تھی، جو اُس وقت کے جنرل نے کیا۔
یقینا ساری قوم ایک نقطہ پر متفق نہیں ہوتی۔ ایسا تصوراتی طور پر تو ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ اس لیے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہمیں اپنے فیصلے مکمل اتفاقِ رائے سے کرنے چاہئیں تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوگا! یہ دلیل اپنے اندر وزن رکھتی ہے۔ لیکن مسئلہ اتنا سادہ نہیں، کیونکہ جب ہم اتفاقِ رائے کی بات کرتے ہیں تو اس میں بعض ادارے یا فریق بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کی سیاست کے تناظر میں پارلیمنٹ موجود ہے۔ ہم سب اتفاق کرتے ہیں کہ ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی ہونی چاہیے۔ ہمارے جمہوری مزاج کے حامل دانشور اور سیاسی قیادت سب سے زیادہ زور بھی اسی نقطے پر دیتے ہیں، لیکن ہمارا عمل پارلیمنٹ کی بالادستی کے برعکس ہے۔ جمہوری اور پارلیمانی سیاست میں قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف سمیت پارلیمنٹ میں موجود دیگر پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے جمہوری اور غیر جمہوری طرزعمل کا تجزیہ بھی ان ہی لوگوں کے طرزعمل سے کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہماری حالت تو یہ ہے کہ قائد ایوان پارلیمنٹ میں آنا اپنے لیے ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بھائی شہبازشریف منتخب حکمران ہیں، لیکن پارلیمنٹ میں آنے کو بہت برا سمجھتے ہیں۔ پنجاب کے وزیر قانون کی منطق سنیں، موصوف فرماتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب صوبائی اسمبلی میں آکر اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے حکمران کس انداز سے پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعویدار ہیں۔ پارلیمنٹ میں موجود اسٹینڈنگ کمیٹیوں اور ان کے فیصلوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے فیصلوں کے برعکس سیاسی و عسکری قیادت نے قومی فیصلے کیے ہیں، جو یقینا پارلیمنٹ کے فیصلوں سے مختلف ہیں۔ اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ایک اہم کردار کابینہ، پارلیمانی کمیٹی اور سیاسی جماعتوںکی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا بھی ہوتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ان کی کیا حیثیت ہے اورقائد ایوان سمیت پارٹی کے سربراہ ان کمیٹیوں اورکابینہ کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں۔اگر آپ کابینہ، اسٹینڈنگ کمیٹیوں اور پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹیوں کا تجزیہ کریں تو پارلیمانی اور جمہوری سیاست کے غیر مؤثر ہونے کے اصل اسباب اور محرکات کو سمجھنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔
اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں حکومت کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ حکومت اہم فیصلوں پر اعتماد میں لینے کے لیے حزب اختلاف کو بھی مشاور ت اور فیصلہ سازی کا حصہ بناتی ہے۔لیکن یہاں بھی اہم بات یہ ہے کہ پہلے فیصلے کیے جاتے ہیں پھر ان فیصلوں کی سیاسی تائید کے حصول میں دیگر جماعتوں کی سیاسی سند بھی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آخری اے پی سی میں تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ محض سیاسی قیادت یا سیاسی جماعتوں نے ہی نہیں کیا، بلکہ اس میں عسکری قیادت بھی شامل تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتفاقِ رائے پر مبنی فیصلے پر ابہام بھی ہم ہی لوگوں نے پیدا کیا۔ مذاکرات اور جنگ کے درمیان جاری میڈیا وار میں جس انداز سے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی وہ بھی توجہ طلب پہلو ہے۔ وہ سیاسی جماعتیں جو اے پی سی میں مذاکرات کے حق میں ووٹ دے کر آئی ہیں کچھ عرصہ بعد آپریشن کا راگ شدت سے الاپ رہی ہیں۔یقینا آپریشن حکمت عملی کا ایک حصہ ہوسکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جس انداز سے مذاکرات پر اتفاقِ رائے حاصل کیا گیا، وہی عمل آپریشن کے لیے بھی اختیار کیا جارہا ہے؟ اس کا جوا ب نفی میں ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اتفاقِ رائے کی سیاست میں اتفاق کے اصول کا جائزہ لیے بغیر، یا یہ کہ اس کا ہمیں کتنا فائدہ یا نقصان ہوگا، نظریۂ ضرورت کو اختیار کر لیا۔ پاکستان کی سیاست میں برتری ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کو ہی حاصل رہی ہے۔ اسی نظریۂ ضرورت کے قانون کو بنیاد بناکر ہماری سیاسی، عسکری اور قانونی قیادت نے ملک میں سیاسی، سماجی، قانونی اور آئینی بحرانوں کی فصل اگا دی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کے سامنے فیصلہ کرتے وقت یقینا داخلی اور خارجی دبائو ہوتا ہے، لیکن قیادت کا کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی کے سوال کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ ہمارے بعض دانشور دوست محفلوں میں قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی کے سوالوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے سامنے جب ان نکات کو بنیاد بنایا جائے تو وہ ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوگا اور یہ فرسودہ سوالات ہیں۔ اب ہمیں نئے حقائق کے تحت اپنے فیصلے کرنے ہوں گے۔سوال یہ ہے کہ اگر خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے سوال غیر اہم ہوگئے ہیں تو پھر ہمیں اپنے آئین میں سے بہت کچھ نکالنا پڑے گا، کیونکہ اب تو جو کچھ ہورہا ہے اس میں آئین پیچھے ہوگیا ہے اور خواہشات یا دبائو کی سیاست کو زیادہ غلبہ حاصل ہے۔
اس وقت بھی پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کی ایک بڑی جنگ کا حصہ ہے۔ اس جنگ کی عملی قیادت امریکہ کررہا ہے اور پاکستان اسی کے فریم ورک میں رہ کراپنا کردار ادا کررہا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس جنگ میں پاکستان دبائو کی وجہ سے کودا ہے، جبکہ قوم کا فیصلہ وہ نہیں تھا جو اُس وقت کی قیادت نے کیاتھا۔ اب بھی اگر ملک کے لوگوں کی رائے معلوم کی جائے تو اکثریت کا جواب یہی ملے گا کہ ہم امریکہ کی جنگ لڑرہے ہیںاور ہمیں اس جنگ سے فوری طور پر باہر نکلنا چاہیے۔ لیکن حکمرانوں کی ترجیحات اور ان کے فیصلے عوامی فیصلوں سے مختلف ہیں۔  ہماری حکومت اور فوج آزادانہ بنیادوں پر فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں اور ان پر امریکہ کا خوف غالب ہے۔
آج بھی جو لوگ حکومت کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس جنگ سے باہر نکلے، اُن کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جنگ میں شمولیت کا فیصلہ جنرل پرویزمشرف کے دور میں کیا گیا۔ اُس وقت پاکستان مسلم لیگ(ن) اس جنگ کو امریکہ کی جنگ سمجھتی تھی۔ لیکن اب جب وہ اقتدار میں آئی ہے تو اسی پالیسی کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے جس فریم ورک میں جنرل پرویزمشرف آگے آگے تھے۔ ایک موقع پر جنرل پرویزمشرف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں صاف کہا کہ اگر میری پالیسیاں غلط تھیں اور میں امریکہ کے دبائو کا شکار ہوگیا، تو آج کی حکومت ان فیصلوں سے خود کیوں نہیں باہر نکلتی اورکیوں اسی حکمت عملی پر آگے بڑھ رہی ہے جو میرے دور میں تھی؟ یقینا اس سوال کا جواب ہمارے آج کے حکمران طبقہ کے پاس نہیں ہوگا۔
اس وقت ملک کی سیاست پر طالبان کے ساتھ مذاکرات یا فوجی آپریشن کا سوال غالب ہے۔غالب گمان یہی ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت فوجی آپریشن کی جانب بڑھ رہی ہے۔ فوجی آپریشن کی حمایت میں پس پردہ قوتیں بھی سرگرم ہیں۔ رائے عامہ بنانے والے اداروں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ عسکری لوگوں کی ایک اہم بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر سیاسی قیادت ہمیں آپریشن کا اختیار دے تو ہم یہ کام پانچ سے چھ ہفتوں میں کردیں گے۔ یعنی شمالی وزیرستان کا علاقہ ایک محفوظ جگہ میں تبدیل کردیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ یہ جنگ گزشتہ 11برسوں سے جاری ہے اور ہماری عسکری قیادت بھی اس جنگ میں شامل ہے، وہ کیونکر ان علاقوں کو ابھی تک محفوظ علاقوں میں تبدیل نہیں کرسکی؟ ابھی تو سیاسی حکومت قائم ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ سیاسی حکومت کے مقابلے میں فوج کی اہمیت ہے۔ ابھی بھی جس انداز سے آئی ایس پی آر سرگرم ہے اور جو بات چیت اس کی جانب سے سامنے آرہی ہے وہ سیاسی حکومت کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔ فوجی ذرائع نے یہ تو بتادیا کہ ہم پانچ سے چھ ہفتوں میں علاقہ صاف کردیں گے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ علاقہ کی صفائی کے بعد یہ لوگ کہاں جائیں گے۔ کیونکہ یہ خدشہ بدستور موجود ہے کہ اگر آپریشن کا دائرۂ کار بڑھتا ہے تو اس جنگ کی ایک بھاری قیمت ملک کے بڑے شہروں کو مزید دہشت گردی کی صورت میں ادا کرنا ہوگی۔ یہ عمل کوئی پہلی دفعہ نہیں ہورہا، جب بڑی طاقتیں کوئی فیصلہ کرلیتی ہیں تو پھر اس کی حمایت میں رائے عامہ کا ذہن بنایا جاتا ہے۔ یہی کچھ اس وقت پاکستان میں بھی ہورہا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا تضاد سیاسی و عسکری قیادت کی ہم آہنگی کا بھی موجود ہے۔ اگرچہ اس وقت یہی تاثر دیا جارہا ہے کہ ہم دونوں ایک ہیں اور ایک ہی فیصلے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہ مکمل سچ نہیں۔ اس وقت بھی بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت مختلف ذہنوں سے سوچ رہے ہیں۔ ایک رائے یہ دی جارہی ہے کہ سیاسی حکومت کے مقابلے میں فوج آپریشن کی حامی ہے، جبکہ حکومت مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو خود خطرناک عمل کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ تاثر اس بات کو اور زیادہ تقویت دیتا ہے کہ سیاسی قیادت اس جنگ کی قیادت کرے ہم بالکل تیار ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف پر بھی یہ تنقید کی جارہی ہے کہ وہ اس جنگ کی سیاسی قیادت کرنے سے ہچکچا رہے ہیں اور انھیں خوف سے باہر نکل کر اس جنگ کی قیادت کرنی چاہیے۔
اب یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت اور عسکری قیادت میں اتفاق ہوا ہے کہ ہمیں مذاکرات اور فوجی آپریشن کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہے۔ یعنی حکومت اپنا کام کرے اور فوج اپنے طریقے سے کام کو آگے بڑھائے گی۔ یہ واقعی ایک مشکل سوال ہے کہ کیا آپریشن اور مذاکرات ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ کیونکہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے تو یہ آپریشن اور مذاکرات کیسے ساتھ ساتھ چل سکے گا! دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی جس کی قیادت عرفان صدیقی کررہے ہیں۔ اس کمیٹی میں رستم شاہ مہمند، میجر عامر اور رحیم اللہ یوسف زئی شامل ہیں۔ اب یہ کمیٹی عملی طور پر بے معنی ہوگئی ہے اور حکومت کے بقول یہ کمیٹی اُس وقت تک طالبان کمیٹی سے بات چیت نہیں کرے گی جب تک کہ طالبان واضح طور پر جنگ بندی کا اعلان نہ کردیں۔ حکومتی کمیٹی بھی حیران ہے کہ جو نئے فیصلے کیے گئے ہیں اس میں ان کو نظرانداز کیوں کیا گیا ہے۔ رستم شاہ مہمند اور رحیم اللہ یوسف زئی اس بات پر مایوس نظر آتے ہیں کہ حکومت تنہا پرواز کرکے ان کی حیثیت کو خراب کررہی ہے۔
اگر واقعی طالبان کے مختلف گروپوں کی جانب سے سیز فائر ہوجاتا تو مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی تھی، لیکن آثار بتارہے ہیں کہ جنگ کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور اسی کی جانب پیش قدمی کرکے قومی منظرنامہ کو جنگ کے حق میں دھکیلا جارہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت قومی اتفاقِ رائے کے نام پر پوری قوم کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ کبھی آئین کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور کبھی آئین کو متنازع بناکر اس کی اپنے اپنے رنگ میں سیاسی تشریح کی جارہی ہے۔ ریاست کی رٹ کی بات کی جاتی ہے۔ یہ رٹ سیاسی و سماجی طور پر کہاں ہے؟ میڈیا غیر ضروری بحثوں میں الجھا کر پوری قوم کو مشکل میں ڈال رہا ہے۔ تدبر، فہم وفراست اور غور وفکر کی سیاست کا فقدان سب ہی اہم اداروں پر غالب ہوگیا ہے۔

سلمان عابد

Comment on this post