کھیوڑہ کی کانیں: نمک کے خزانے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

کھیوڑہ کی کانیں: نمک کے خزانےکھیوڑہ کی کانیں: نمک کے خزانے

بہت سے لوگوں نے کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کی سیر کی ہوگی، اور وہاں نمک کے پتھروں سے بنائی گئی یادگاروں کو بھی دیکھا ہوگا۔ ہم نے بھی ان کانوں کے باہر سے نمک کے پتھروں سے بنی ہوئی کچھ چیزیں بطور تحائف کے خریدی تھیں۔ کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا بھر میں اپنی قسم کی دوسری بڑی کان ہے۔

جب ہم کھیوڑہ کی کان میں داخل ہوتے ہیں، تو یہ راستہ چند سو میٹرز کے بعد جاکر بند ہوجاتا ہے اور ایک بورڈ پر تحریر ہے کہ سیاحوں کا علاقہ بائیں جانب ہے۔ لیکن اگر ہم دائیں طرف جائیں گے تو ہم اس علاقے میں پہنچ جائیں گے جہاں کان کن اپنا کام کرتے ہیں۔

برطانوی حکمرانوں نے نمک کی اس کان میں پہلی مرتبہ 1872ء میں کان کنی شروع کی تھی۔ لیکن روایتی داستانوں کے مطابق یہ کان اس وقت دریافت ہوئی تھی، جب سکندر اعظم اپنے سفر کے دوران اس علاقے سے گزرا تھا۔

’’اس کی فوج نے دیکھا کہ ان کے گھوڑے اس علاقے کے پتھروں کو چاٹ رہے ہیں۔‘‘ یہ بات مجھے پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے مقامی گائیڈ عابد نے بتائی، انہوں نے مجھے ایک ٹارچ اور ایک ہیلمنٹ پکڑائی تاکہ ہم کان کنی کے علاقے میں جانے والی تاریک سرنگ میں داخل ہوسکیں۔

کان کنوں کی ٹارچ کی روشنی سے یہ دیواریں چمک رہی تھیں۔ عابد نے وضاحت کی کہ یہاں ہر ایک چیز نمک کے پتھروں سے بنی ہوئی ہے۔ ان میں سے کچھ کرسٹل کی صورت میں تھے، جس کی وجہ سے جگمگا رہے تھے۔

ہمارے قدموں کے نیچے فرش بہت پھسلنے والا تھا۔ میں ٹرین کی پٹری کو دیکھ رہا تھا، جو چند میٹر کے بعد غائب ہوگئی تھی۔

’’نواز شریف کی پچھلی حکومت کے دوران یہاں ریلوے کے نظام کو بند کردیا تھا، اس لیے کہ یہ منافع بخش نہیں تھا۔ اب ہم کان سے نمک کو باہر نکالنے کے لیے ٹریکٹر ٹرالی کو استعمال کرتے ہیں۔‘‘ عابد نے ہمیں بتایا، پھر وہ مزاحیہ انداز میں بولا ’’لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ ان کی حکومت نے ریل کی پٹری کا سارا دھاتی اسکریپ فروخت کرکے بہت پیسہ کمایا تھا۔‘‘

چیف مائننگ منیجر رانا تنویر بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگئے، انہوں نے بتایا کہ ’’جس طرح ہم آہستہ آہستہ اندرونی طور پر اپنا راستہ بناتے جائیں گے، سرنگ کا نیٹ ورک پھیلتا جائے گا۔ یہاں اٹھارہ منزلیں ہیں۔‘‘

جب ہم ایک خالی چیمبر میں سے گزرے اور دوسرے چیمبر میں داخل ہوئے تورانا تنویر وضاحت کی ’’ہم نے کچھ چیمبرز کو بند کردیا ہے، اس لیے کہ مزید کان کنی سے اس ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘‘ یہاں بہت سے کان کن کام کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ہر ٹیم لیڈر کے ساتھ دس سے پندرہ کان کن کام کرتے ہیں۔‘‘

یہاں روشنی بہت کم تھی۔ زیادہ تر کام گیس لائٹ یا ٹریکٹر ٹرالی کی ہیڈلائٹ کی روشنی کی مدد سے کیا جارہا تھا، جسے بھرنے کے لیے یہاں لایا گیا تھا۔ کان کنوں میں سے زیادہ تر ایسے تھے جو یہاں کام کرنے والے کان کنوں کی دوسری یا تیسری نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ایک کان کن نے مجھے بتایا کہ یہاں کان کنی کا طریقہ کار پچھلی ایک صدی کے عرصے میں تبدیل نہیں ہوا تھا۔

کچھ کان کنوں کو پہاڑی دیواروں میں نرم ہدف مل گیا تو انہوں نے وہاں ڈرل مشین سے سوراخ کرنا شروع کردیا۔ دوسرے لوگ ان سوراخوں میں بھرنے کے لیے بارود کے ذریعے دھماکہ خیز مواد تیار کرنے لگے۔ یہاں بارود بھر کر کچھ فاصلے پر محفوظ مقام پر اس کا بٹن دبا کر دھماکہ کیا جائے گا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں کام کرنے والے بہت سے کان کن نہ تو ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے اور نہ ہی کان کنی کے دیگر آلات ان کے پاس تھے۔

ایک کان کن نے مجھے بتایا کہ ’’ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم ضابطوں پر عمل کریں گے، لیکن کبھی ان کی پیروی نہیں کی جاتی، اس لیے کہ کوئی بھی ہمیں حقیقی معنوں میں چیک نہیں کرتا۔‘‘

جیسے ہی فیوز تیار کرنے والوں نے روشنی کے ذریعے اشارہ کیا ہم تیزی کے ساتھ ایک محفوظ مقام پر چلے گئے۔ چند لمحوں کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا، پہاڑی پتھرنیچے کی جانب ٹکڑے ٹکڑے ہوکر گرنے لگے۔

اس کے کچھ دیر بعد دوسرے کان کنوں کو کام کرنے کا موقع مل گیا، وہ بڑے پتھروں کو بھاری ہتھوڑوں کے ذریعے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کرنے لگے، پھر جب وہ اس قابل ہوگئے کہ انہیں ٹرالی میں ڈال کر یہاں سے لے جایا جاسکے، تو یہاں ایک ٹرالی لاکر کھڑی کردی گئی۔

جلد ہی یہ پتھر ٹوٹ گئے اور ہرایک نے ان چھوٹے ٹکڑوں کو ہاتھوں سے اُٹھا کر ٹرک میں بھرنا شروع کردیا۔

مائن انجینئر نے ایک ٹکڑا میرے ہاتھ میں پکڑایا۔ ’’اس کو دیکھیے، یہ گلابی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے زیادہ منفرد نمک ہے۔‘‘ میں نے دیکھا کہ یہ منفرد ہی نہیں تھا بلکہ یہ خوبصورت بھی تھا۔

پاکستان کی اس پہاڑی سلسلے سے سالانہ بارہ لاکھ ٹن گلابی نمک پیدا کرتا ہے، جو اس کی حقیقی صلاحیت کے دس فیصد سے بھی کم ہے۔ خودکار مشینوں کی کمی مزید پیداوار میں رکاوٹ ہے۔

وارچا سالٹ مائن میں چیف مائننگ منیجر فیصل شاہ نے کہا ’’آپ نے دیکھا کہ ہم اب بھی ہاتھ سے استعمال ہونے والی ڈرل مشین استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم کالاباغ کی کان میں خچر تک استعمال کرتے ہیں۔ یہ فرسودہ طریقہ کار ہیں۔ عالمی سطح پر نمک کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے اور پاکستان اس بڑی آمدنی سے محروم ہے۔‘‘

’’ذرا تصور کیجیے کہ ہمارا نمک دنیا بھر میں پاکستانی نمک کے طور پر نہیں جانا جاتا ہے۔ اس کو ہمالیائی نمک کہا جاتا ہے، اور یہ خیال بھی عام ہے کہ یہ ہندوستانی پنجاب سے آتا ہے، اس لیے کہ ہم اس نمک کی مارکیٹ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔‘‘

Comment on this post