Overblog Follow this blog
Edit post Administration Create my blog

یو کرین میں سیاسی تبدیلی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

یو کرین میں سیاسی تبدیلییو کرین میں سیاسی تبدیلی

سابق سوویت روس کی جمہوریہ یو کرین میں صدر وکٹر یونوکووچ کے خلاف 21 نومبر 2013ء سے جاری احتجاج بالآخر 23 فروری کو اختتام کو پہنچا جب ریاست کی پارلیمان نے صدر کو برطرف اور ان کی حریف سزا یافتہ وزیراعظم یولیا ٹمو شنکو کو رہا کر دیا۔ معزول صدر کو پولیس نے ماسکو فرار ہونے سے روک دیا تو وہ روسی نژاد اکثریتی مشرقی یوکرین کے خطے Donetsk کے مقام Oleksandr Turchyno میں کہیں روپوش ہو گئے جبکہ ٹمو شنکو جنہیں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں 2011ء میں سات سال کی سزا ہو گئی تھی اور قیدی کی حیثیت سے ہسپتال میں زیر علاج تھیں اپنے حریف Yunukovich کا تختہ الٹنے کے بعد آزادی سے گھوم پھر رہی ہیں جبکہ وزیرداخلہ نے اعلان کر دیا ہے کہ اب پولیس احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

یہ ایسی ڈرامائی تبدیلی تھی کہ جس نے بین الاقوامی مبصرین کو محو حیرت کر دیا کیونکہ 22 فروری کو معزول و مفرور صدر اور حزب اختلاف کے سربرآوردہ رہنماؤں کے مابین ایک سمجھوتہ ہو گیا تھا جس کی رو سے یونوکووچ نے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار شہ گان جن کی تعداد سو (100) تھی کی رہائی کا حکم صادر کر دیا تھا ساتھ ہی دسمبر میں عام انتخابات کا اعلان بھی کر دیا تھا اور اپنی کابینہ کے ارکان کو برطرف کر کے متبادل کابینہ کی تشکیل کا فیصلہ بھی کر دیا تھا تاہم عوام اس معاہدے سے مطمئن نہیں تھے کیونکہ وہ صدر یونوکووچ کی برطرفی پر اصرار کر رہے تھے۔ اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ 19 اکتوبر سے 21 اکتوبر تک پولیس نے سابق وزیر داخلہ کے حکم پر مظاہرین پر گولے باری کا حکم دیا تھا جس کے نتیجے میں 100 افراد ہلاک ہو گئے تھے لہٰذا مشتعل عوام کسی صورت میں صدر یونوکووچ کو معاف کرنے کو تیار نہ تھے۔ اس لیے ان کے دباؤ پر پارلیمان نے صدر اور اس کی کابینہ کو معزول کر دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ عوام نے حزب اختلاف کے رہنماؤں اور صدر یونوکووچ کے مابین کیے گئے معاہدے کو مسترد کر کے پارلیمان کو اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کر دیا۔

دریں اثناء مظاہرین دارالحکومت خیف سے 15 کلو میٹر پر واقع وکٹریو نوکووچ کے ذاتی محل پر قابض ہو گئے جس کی مرمریں عمارت، وسیع و عریض لان، اس پر نصب خرگوشوں کے مرمریں مجسمے، گولف کھیلنے کا میدان حتیٰ کہ سونے کے واش بیسن اور کموڈ والے غسل خانے اور طہارت خانے کو دیکھ کر دنگ رہ گئے اور حیران و پریشان تھے کہ اتنے غریب ملک کا ایک لاکھ ڈالر سالانہ تنخواہ پانے والا شخص ایسے شاہانہ ٹھاٹ باٹ سے کیسے رہ سکتا ہے لیکن اس میں حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ سابق کمیونسٹ ریاستوں قازقستان، ازبکستان کے صدوراسی کی ٹھاٹ باٹ سے رہتے ہیں یہاں تک کہ کمیونسٹ چین کے وزراء اور حکام کے بیرونی بینکوں میں اربوں ڈالر جمع ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ الٰہی تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں کہ سلطانی بھی عیاری درویشی بھی عیاری۔ کم از کم کمیونسٹ ریاستوں کے حکمرانوں کو تو دولت کی حرص و ہوس زیب نہیں دیتی۔ جیسا کہ میں نے سطور بالا میں کہا ہے کہ یو کرین میں شاید ہی کوئی بااختیار شخص بدعنوانی سے محفوظ رہا ہو۔ خود یولیا ٹموشنکو پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں لیکن عوام کا حافظہ چونکہ کمزور ہوتا ہے اس لیے لوگ بدعنوان افراد کو بھول جاتے ہیں اور جب آوے کا آوا ہی ایسا ہو تو کون کسی پر انگشت نمائی کر سکتا ہے!

دراصل یوکرین کا مسئلہ پڑا پیچیدہ ہے۔ اس کی آبادی روسی نژاد اور یوکرینین قوم پرستوں میں بٹی ہوئی ہے، روسی آبادی ریاست کے مشرق میں یعنی روس سے متصل خطے میں آباد ہے جبکہ مغربی خطے میں یوکرینی اکثریت میں ہیں۔ چنانچہ قارئین نے محسوس کیا ہو گا کہ ساری بغاوت خیف میں برپا ہوئی اور سارے مغربی یوکرین میں پھیل گئی جبکہ مشرقی یوکرین جس کا صدر مقام Kharkiav ہے بالکل پر امن رہا بلکہ وہاں تو صدر یو نوکووچ کے خلاف احتجاج عذاری کے مترادف تصور کیا جاتا تھا۔

چنانچہ یوکرین کی آزادی کے بعد اس کے پہلے صدر Leonid Kravchuk نے سچ کہا ہے کہ ملک خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایک تو لسانی و نسلی تقسیم ہی کیا کم کشیدگی کا باعث تھی اس پر مستزاد مشرق یو کرین کے باشندے روس جبکہ مغربی یوکرین کی آبادی یورپی یونین کی جانب مائل تھی اور یہ کشمکش یوکرین کی آزادی کے بعد ہی شروع ہو گئی تھی جو 2004ء میں تاریخی انقلاب کے نام سے موسوم ہو گئی۔ اس میں ٹموشنکو نے اہم کردار ادا کیا تھا اور وکٹریو نوکووچ کے صدارتی انتخاب کو عوامی احتجاج کے ذریعے کالعدم کرا دیا۔

یوکرین کا حالیہ بحران اس وقت کھڑا ہوا جب صدر یونوکووچ نے یورپی یونین کی امدادی پیشکش کو ٹھکرا کر روسی صدر پیوٹن کی 18 ارب ڈالر کی امداد کو منظور کر لیا۔ اس پر مغربی یوکرین میں شدید عوامی احتجاج شروع ہو گیا جسے طاقت سے کچلنے پر حکومت کاتختہ ہی الٹ گیا۔ گو بادی النظر میں یہ یورپی یونین اور امریکہ کی روس کے مقابلے میں زبردست جیت ہے لیکن حزب اختلاف خود منقسم ہے جبکہ یوکرین کا روس کی گیس پر کلی انحصار ہے اور ماضی میں روس یوکرین کی جانب سے گیس کی رقم کی عدم ادائیگی پر اس (گیس) کی ترسیل بند کر چکا ہے اور اگر یوکرین کی مستقبل کی حکومت یورپی یونین اور بالآخر نیٹو میں شمولیت اختیار کرتی ہے تو روس کسی دن بھی گیس کی فراہمی بند کر سکتا ہے۔ اگر یورپی یونین اور نیٹو یوکرین میں مداخلت نہ کرتے تو شاید ملک خانہ جنگی کا شکار نہ ہوتا۔ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ خانہ جنگی کی صورت میں مشرقی یو کرین اور مغربی یوکرین علیحدہ ہو جائیں۔ ایک بات یقینی ہے کہ روس کسی قیمت پر یوکرین کو یورپی یونین اور نیٹو کارکن نہیں بننے دے گا۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

Published on Ukraine, Russia, United States

Comment on this post