بجلی بلوں کی دہشت گردی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 بجلی بلوں کی دہشت گردی
 بجلی بلوں کی دہشت گردی

یہ مجھ پر یکا یک کیا جنون طاری ہو گیا، پورا محلہ اپنے بل لئے میرے گھر کے دروازے توڑ رہا ہے، سردی عروج پر ہے اور پانچ مرلہ گھروں کے بلوں کی اوسط چار پانچ ہزار ہے، جون ، جولائی اور اگست میں یہی بل چالیس پچاس ہزار کے ہندسے کو چھوئیں گے، یہ بل ادا کرنے کی سکت کسی میںنہیں ہو گی، میٹر کاٹنے والے دھاو ابولیں گے اور لوگ ان کے گلے کاٹنے کو دوڑیں گے۔
پچھلے سال اگست میں پانچ سو یونٹ کا بل پانچ ہزار تھا، اب 177یونٹ کا بل 4000 سے زائد ہے۔، جتنی رقم بجلی صرف کرنے کی ہے، اتنے ہی ٹیکس ڈال دیئے گئے ہیں ۔ یہ کارنامہ اس حکومت کا ہے جو ایک ایک سانس میں کہتی تھی کہ آئی ایم ایف کی غلامی پر لعنت، کشکول توڑنے کے ایک ہزار کئی سو وعدے، بجلی نہیں آتی تھی تو چیف منسٹر پنجاب میاں شہباز شریف نے زرداری حکومت کے خلاف مینار پاکستان پر احتجاجی کیمپ لگا لیا اور لوگوں کو یقین دلایا کہ اگلے الیکشن میں پورا اقتدار ملا تو زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور چوکوں میںپھانسی پر لٹکائیں گے، ان نعروں کا اصل مطلب کچھ اور تھا۔ سڑکوں پر عوام کو گھسیٹا جا رہا ہے ا ور خدشہ یہ ہے کہ چوکوں میں عام آدمی کو ٹکٹکی چڑھا دیا جائے گا ، حکومت نہیں چڑھا پائے گی تو شمالی وزیرستان سے اترنے والے جتھے یہ کام کر گزریں گے۔
وزیر اعظم نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی کہہ دیا کہ بجلی نہ ملے تو یہ نہ کہنا کہ شیر بجلی کھا گیا، اور ہوا یہ کہ شیر بجلی بھی کھا گیا اور بجلی بلوں کی شکل میں عوام کو بھی نگلے جا رہا ہے۔گزشتہ عید کے بعد وزیر اعظم نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خوش خبری دی کہ جیسے ہی نئی بجلی پید ا ہونے لگے گی تو بجلی کے نرخ کم کر دیں گے، اب کہا ہے کہ بجلی اگلے سات سال میں پیدا ہو گی اور اس قدر پید ا ہو گی جتنی پچھلے چھیاسٹھ برس میں پیدا نہیں ہوئی۔ کوئی حکومت اپنی ٹرم کے اندر کے وعدے توکر سکتی ہے، یہ پہلی حکومت ہے جو اس صدی کے اگلے نصف حصے کے لئے بھی وعدے کر رہی ہے، پچھلے دور میں احسن اقبال 2010 کے لئے پلاننگ کیا کرتے تھے، اب 2020 کے لئے کر رے ہیں، کون جیتاہے تری زلف کے سر ہونے تک، اس اثنا میں احسن اقبال کی حالت تو سنور گئی، انہوں نے اپنے لئے دھیان سے پلاننگ کی ہے۔
لوگ حیران ہیں کہ زرداری حکومت صرف گرمیوں میںلوڈ شیڈنگ کرتی تھی، مگر انقلابی حکومت نے سردیوںمیں بھی چودہ طبق اندھیروں کی نظر کر دیئے۔ستتر میں پہلی بار عوامی تحریک چلی جس کی قیادت پی این اے کے ہاتھ میں تھی، اس کا مقصد بھٹو کواقتدار سے نکالنا تھا۔ پی این اے کے لیڈروںنے مسجدوں میں بیٹھ کر وعدے کئے کہ وہ ستر کی قیمتیں واپس لائیں گے، اس روز سے پی این اے کی پارٹیا ں کسی نہ کسی شکل میں بر سر اقتدار ہیں مگر انیس سو ستتر کی قیمتیں کیا واپس آنا تھیں ، الٹا بیس سو ستتر کی قیمتیں لاگو کر دی گئی ہیں،کتنی تیز دوڑ ہے۔
 نئی بجلی بنانے کے لئے نواز شریف اور شہاز شریف نے چین، جرمنی اور ترکی کے ان گنت دورے کیے ، ان دوروں میں بیسیوں معاہدوں پر دستخط ہوئے، مگر شاید یہ معاہدے نہیں تھے، محض مفاہمت کی یادادشتیں تھیں جو داشتہ آید بکار کے ہم معنی اور ہم استعمال ہوا کرتی ہیں۔پون سال گزر گیا ، بجلی کا ایک اضافی یونٹ پید انہیں ہوا، اور باتیں کی جاتی ہیں ہزاروںمیگا واٹ نئی بجلی کی۔ باتوں سے نہ دل بہلتے ہیں ، نہ بجلی کی کمی میں فرق پڑتا ہے اور نہ بجلی کو سستا کیا جا سکتا ہے، کبھی گڈانی کا منصوبہ، کبھی کوئلے کی بجلی، کبھی ہوا ئی بجلی،کبھی سولر یونٹ۔اور تان کہاںٹوٹتی ہے ، نندی پور اور رسول پن بجلی گھر پر۔رسول پن بجلی گھر کے نئے یونٹ کا فیتہ عطا الحق قاسمی کے ہاتھوں کٹوایا گیا۔ بجلی عطا قاسمی کے شعروںمیں تو ضرور بھری ہو گی مگر اسے لوگوں کے گھروں تک ٹرانسمٹ نہیں کیا جا سکتا،شاہد ریاض گوندل ا ن منصوبوںکے انچارج ہیں۔ وہ اپنے زیر نگرانی سارے منصوبے مکمل بھی کر لیں تو پچاس میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ نہ بجلی بنے گی، نہ اسے سستا کیا جا سکے گا اور نہ عوام کو مہنگے بلوں سے ریلیف دی جا سکے گی۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لئے یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس پر حکومت کااختیار نہیں ، طالبان سے سیز فائر ہو جائے تو بقول وزیر اعظم بھارتی را دھماکے شروع کر دیتی ہے، مگر گورنر پنجاب دور کی کوڑی لائے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک دھماکے کر رہے ہیں۔کوئی بھی دھماکے کرتا رہے ، حکومت کے بس میں نہیں کہ ان کا انسداد کر سکے مگر بجلی بنانا تو حکومت کے اختیار میں ضرور ہے، پیسے نہیں ہیں تو مریم نواز فنڈ کو ضبط کر کے انرجی منصوبوں پر صرف کر لیاجائے، لیپ ٹاپ کا پیسہ ان پر خرچ کر لیا جائے، یوتھ فیسٹیول کے کروڑوں روپے انرجی منصوبوں پر لگا لیئے جائیں۔ بلا  ل یاسین جیسے شہزادے ہیلی کاپٹروں کے تیل پر جو پیسہ اڑا دیتے ہیں، یہ بچا کر بجلی پیدا کر لی جائے۔اگر ضیا الحق درمیان میں مارشل نہ لگاتا تو یہ سب شہزادے گوالمنڈی اور رام گلیاں میں گلی ڈنڈے کھیل رہے ہوتے۔یا کرکٹ کے بیٹس سے ایک دوسرے کا سر پھاڑ رہے ہوتے۔ان کی موجودہ رنگ رلیوں کو لگام دی جائے تا کہ قوم کے گاڑھے پسینے کی کمائی پیداوری منصوبوں کے کام آ سکے۔
مجھے شبہہ ہے کہ حکومت اپنے اللے تللے پورے کرنے کے لئے بجلی کے بلوںمیں ہوش ربا اضافہ کرتی رہے گی، مگراس کا رد عمل بڑا شدید ہو سکتا ہے، ایک لال مسجد کے آ پریشن کے ستائے ہوئے نوجوانوںنے ساٹھ ہزا رگردنیں اڑا دی ہیں، بجلی بلوں کے ستائے ہوئے عوام کیا کر گزریں گے، ا س کا اندازہ کر کے میری توروح کانپنے لگتی ہے۔خدا روز بد سے محفوظ رکھے۔

  اسد اللہ غالب

 

 

Comment on this post