تھر ہلاکتیں! اپنا اپنا گریبان

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 تھر ہلاکتیں! اپنا اپنا گریبان
 تھر ہلاکتیں! اپنا اپنا گریبان

سندھ کے علاقے تھر میں قحط اور خشک سالی سے بچوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر ہمارے حکومتی اداروں کی اہلیت کا پول کھول دیا ہے۔ جڑی بوٹیوں کا ناشتہ کرنے والی صوبائی حکومت سے پہلے ہی کچھ زیادہ توقع نہیں تھی مگر وفاقی حکومت اور چند دوسرے قومی اداروں کا ردعمل دیکھ کر یوں محسوس ہوا کہ ہر کوئی مگر مچھ کے آنسو بہانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا ہے ملکی آئین ‘ قانون‘ قواعد و ضوابط اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر عوام کی جیب سے نکلنے پیسے کو غریب عوام پر اچھال کر احسانات کے پہاڑ کھڑے کئے جا رہے ہیں۔
 یوں تو ہر آفت میں سیاسی جماعتیں‘ حکومتیں اور ادارے ڈھٹائی کے ساتھ انسانیت پر احسان جتا کر اپنی مشتہری کرتے ہیں مگر ایک جمہوری ملک میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور طریقہ کار وضع کرنا حکومتوں کا کام ہوتا ہے۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں سندھ حکومت کی ‘ شکر ہے سندھ حکومت‘ میڈیا کی خبروں پر نظر رکھتی ہے ورنہ نہ جانے اسے تھر میں بچوں کی ہلاکتوں کا کیسے پتہ چلتا‘ کچھ بعید نہیں کہ صوبائی حکومت کا اگلا تہوار تھر کے کھنڈرات پر ہی منعقد کر دیا جائے یہ کہتے ہوئے کہ بھوک اور افلاس سے تباہ شدہ یہ تہذیب بھی ہمارے سندھ کا تاریخی ورثہ ہے۔ کراچی اور لاڑکانہ کے محلات میں بیٹھے غیور نمائندوں کے کیا کہنے کہ انہوں نے صوبہ پنجاب اور پھر وفاقی حکومت کی امداد کی پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا۔یقیناً تھر کے بھوک سے بلکتے بچے مر جائیں گے مگر وفاق اور پنجاب کی امداد نہیں لیں گے۔ یہ وہ قائدین ہیں جو اپنے آرام و آسائش اورعیاشیوں کے لئے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سمیت ساری دنیا کے ممالک کے آگے کشکول پھیلاتے ہیں مگر تھر کے عوام کی ”غیرت کا سودا“ نہیں ہونے دیتے‘ سبحان اﷲ!ان قائدین نے تو اسلام آباد اور لاہور میں اسی وجہ سے اپنے اثاثے تک نہیں بنائے اوراپنا سارا پیسہ و سرمایہ تھر کے غیور عوام کی سرزمین پر لگا دیا ہے واہ رے غیرت!
اب بات کرتے ہیں وفاقی حکومت کی‘ اسلام آباد میں قائم نوازشریف حکومت نے قومی آفات سے نمٹنے کے لئے ایک ادارہ بنا رکھا ہے جس کا نام نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہے اس ادارے کے سربراہ فوج کے ایک جرنل ہیں قانون کے تحت کام کرنے والے اس ادارے کو کسی بھی قومی آفت سے نمٹنے کے لئے مرکزی کردار اور اختیار دیا گیا جو حکومت پاکستان کی ایماءپر کارروائی کرتا ہے‘ اس ادارے کی قیادت فوج کے حوالے اسی لئے کی گئی تھی آفت زدہ علاقوں میں فوج کے ذریعے کارروائی کرے‘ مگر تھر کے علاقے میں قحط اور خوراک کے بحران پر اس ادارے کے ردعمل اور صلاحیت پر سوال اٹھتے ہیں‘ ایسے قومی ادارے کے ہوتے ہوئے آخر وفاقی حکومت کو تھر کے عوام کی مدد کےلئے سندھ حکومت سے پوچھنے یا انہیں امداد کی پیشکش کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ تھر کے بحران اور ہلاکتوں کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے نہ کہ وفاقی حکومت‘ انسانی ہلاکتوں پر سیاست بھی ایک افسوس ناک روایت بن چکی ہے۔
دوسری طرف آرمی چیف راحیل شریف کی ہدایت پر پاک فوج کے امدادی دستوں کی تھر میں آمد نے بھی وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کی اہلیت اور قانونی اختیار پر سوال اٹھائے ہیں‘ فوج کے زیر اہتمام ہوتے ہوئے بھی حکومتی ادارے این ڈی ایم اے سے رابطے اور منصوبہ بندی کے بغیر فوجی وسائل کو آرمی چیف کے حکم پر تھر کے علاقے میں بھیجنا اوراس کی خبر اورتصاویر چھپوانا کیا ظاہرکرتا ہے ۔ اس سے پہلے جنرل کیانی کے دور میں بھی سیلاب کی آفت کے دوران میڈیا میں خبر چلوائی گی کہ فوج سیلاب کے متاثرین کی مدد اور جان بچانے کے لیے حکومتی حکم کا انتظار کیے بغیر خود ہی متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی۔ آخر فوج کو اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے حکومتی ساکھ کمزور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اس طرح کے قومی المیے میں فوج اور حکومت کو اپنی اپنی مشتہری کا مقابلہ کرنے کی بجائے عوامی ومسائل کو آئین‘ قانون اور ضابطوں کے تحت استعمال کرتے ہوئے متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔ این ڈی ایم اے کے ترجمان سے گفتگو میں ایک چیز واضح ہوئی کہ فوجی دستے ازخود ہی امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں تاہم انہوں نے یہ وضاحت ضرور کی کہ این ڈی ایم اے بھی ان سے رابطے میں ہے۔ اتھارٹی کے ترجمان نے تویہ تک کہہ دیا کہ آفات سے نمٹنے کے لیے انہیں حکومت سے پوچھنے کی ضرورت نہیں مگر پھر واضح کیا کہ ان کی تمام کاروائیاں حکومت کی جانب سے ہی ہوتیں ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ این ڈی ایم کے اوراس کی باوردی قیادت کے ہوتے ہوئے آخر فوج ازخود کیسے عوامی وسائل اور دفاعی بجٹ کا ایسا استعمال کرسکتی ہے یہ اخراجات اگر دفاعی بجٹ سے نہیں کیے جاتے تو پھر یہ وسائل کہاں سے آتے ہیں اور کیا فوج کے ادارے براہ راست عوام اور شخصیات سے چند اکٹھا کرنے کے مجاز ہیں؟ حکومت کو بھی اب بزدلی اور سیاسی مصلحت کے خول سے باہر نکل کر اپنے اداروں کو قواعد وضوابط کا پابند کرنا ہوگا۔ اگرحکومت کی پالیسی کے برخلاف عربی شہزادوں کی طرف سے پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو دی گئی بخشیش واپس لی جاسکتی ہے تو پھر دوسرے قومی اداروں کو بھی براہ راست دی جانے والی غیر ملکی امداد اور فنڈز کا حساب کتاب رکھنا ضروری ہے۔
انسانی المیے پر کاروباری اداروں کی طرف سے امدادی سرگرمیاں ایک قدرتی اشتہاری مشق ہوتی ہے اور ویسے بھی یہ کاروباری ادارے جس حساب سے غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام کی جیب کاٹتے ہیں اور حکومت کو ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے ان کی طرف سے کروڑوں روپے کی امداد کا اعلان حیران کن نہیں ہونا چاہیے ۔ یہی پیسہ اگر ٹیکس کی صورت میں ادا ہو تو حکومت عوام پر بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ خرچ کرسکتی ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ قدرتی آفات آنے پر ہماری حکومتیں ایک نظام اور اداروں کے ذریعے کا رروائی کی بجائے سب کچھ دوسرے اداروں اور شخصیات پر چھوڑ دیتی ہیں بالکل ویسے یہی جیسے کو انتخابات کے دوران اپنے سیاسی جلسوں کا نظام مقامی تھانیدار ‘ پٹواری اور تحصیلداروں کے سپرد کیا جاتا ہے۔ آخر میں بات میڈیا کی ہو تو سندھ حکومت پر اپنے تیر چلانے والا یہ میڈیا ہی تھا جس نے سندھ کے فیسٹیول کو خوب توجہ دی اور براہ راست نشر بھی کیا اس طرح میڈیا نے جس طرح کرکٹ کے میچوں پر براہ راست نشریات دکھائی اسی طرح اسے تھر کے علاقوں میں بحران کے بارے میں بھی براہ راست نشریات دکھانی چاہیے تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ انسانی المیے پر سیاست اور ساکھ چمکانے کا کاروبار اب بندہونا چاہیے اورقومی اداروں کو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے قانون اور آئینی تقاضوں کے مطابق حکومت کی پالیسی کو مدنظر رکھ کر بھوک اور افلاس کا مقابلہ کرنا چاہیے عوامی ٹیکس کے پیسے پر امداد کی بھیک دیتے ہوئے تصاویر بنانا کسی طور پر بھی اخلاقی نہیں ۔ ادارے سیاستدان اور سرکاری ملازمین امدادی کام کرنے کے پابند ہیں اور اس کی تنخواہ لیتے ہیں احسان نہیں کرتے۔ خدانخواستہ کل جنگ کی صورت میں کیا یہ ادارے ایسے ہی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرینگے؟ اور پھر حکومت کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں آئے گی؟ 

مطیع اللہ جان

 

Comment on this post