یوکرین کا المیہ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

یوکرین کا المیہ یوکرین کا المیہ

یوکرین کے عوام نے ایوان صدر پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد صورت حال اس حد تک بگڑ گئی کہ روس نے یوکرین کی ریاست کریمیا میں 30 بکتر بند گاڑیاں اور چھ ہزار فوجی بھیج دیے ۔ روس کا کہنا ہے کہ یوکرین کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد روس کو کیف اور ماسکو کے مابین بلیک سی فلیٹ معاہدے کے تحت کریمیا میں مداخلت کا حق حاصل ہے۔ صدر پیوٹن نے روسی پارلیمنٹ سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ یوکرین کی غیر معمولی صورت حال اور یوکرین میں روسی شہریوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر یوکرین میں فوج استعمال کرنے کی اجازت دے۔اور یہ کہ روسی فوج یوکرین میں اس وقت تک رہے گی جب تک کہ وہاں حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ یوکرین کی جنوبی ریاست کریمیا کے نومنتخب وزیر اعظم سرگئی اکیونوف نے ریاست میں امن قائم کرنے کے لیے روسی صدر پوٹن سے مدد طلب کی تھی، یوکرین کے مشرقی شہر کیف میں 20 ہزار سے زیادہ روس نواز شہریوں نے روسی مداخلت کے حق میں مظاہرہ کیا جو پرتشدد ہو گیا اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔

فرانس اور برطانیہ نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کریمیا میں حالات کو پرامن بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ روسی حکومت کی طرف سے یوکرین میں فوجی مداخلت کی خبریں سخت تشویشناک ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یوکرین کی تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹکراؤ کا راستہ چھوڑ کر تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن اب کریمیا کی حکومت نے روس سے الحاق کا فیصلہ کر لیا ہے اور پارلیمنٹ نے اس کی توثیق کر دی ہے۔ دوسری طرف یوکرین کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر روس نے جارحیت کی تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ختم ہو جائیں گے۔ یوکرین میں پرتشدد کارروائیوں سے خوفزدہ 6لاکھ 75 ہزار شہریوں نے روس میں پناہ حاصل کر لی ہے۔

یوکرین کے عبوری صدر اولیکسانڈر ٹرچی نوف نے ایٹمی پلانٹ سمیت ملک کے اہم مقامات پر حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ امریکا نے روس کے ساتھ عسکری تعاون کو معطل کر دیا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے تجارتی پابندیوں کی دھمکیوں سے روس اپنا اصولی موقف ترک نہیں کرے گا۔ روس نے ممکنہ جنگ کے پیش نظر بحیرہ اسود میں تعینات اپنے دو بحری جنگی جہاز روانہ کر دیے ہیں۔ برطانیہ نے روس کے خلاف تجارتی پابندیوں کی مخالفت کر دی ہے جب کہ یورپی یونین نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی فوج یوکرین سے واپس بلالے ورنہ اسے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جب کہ روس نے کریمیا سے اپنی فوجوں کو واپس بلانے سے انکار کر دیا ہے۔ یوکرین کی ریاست کریمیا کے وزیر اعظم روسی صدر سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ ریاست کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے کریمیا میں اپنی فوجیں رکھے۔

بعض موضوع ایسے ہوتے ہیں جن میں ویوز کی اہمیت کم ہوتی ہے نیوز کی زیادہ۔ یوکرین ایک شورش سے گزر رہا ہے اور شورش کے دوران نیوز کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ہم نے یوکرین کے حوالے سے نیوز کو یکجا کردیا ہے اور نیوز بذات خود ایک اسٹوری بن جاتی ہیں۔ یوکرین کی شورش سے بعض پہلو ایسے نکل آتے ہیں جن پر بحث ضروری ہے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں جمہوریت اس قدر غیر مستحکم کیوں ہے؟ روس کا موقف یہ ہے کہ یوکرین کی اپوزیشن نے ایک منتخب صدر کو غیر جمہوری طریقے یعنی اسٹریٹ پاور کے ذریعے ہٹایا ہے، جو غیر قانونی ہے۔ اسی نے روس سے درخواست کی تھی کہ وہ ملک میں امن و امان بحال کرنے کے لیے اپنی فوج بھیجے اور روس معزول صدر کی اس درخواست کو قانونی بھی سمجھتا ہے ۔امریکا کے مغربی حلیف بھی روس کے اقدام کو غیر جمہوری غیر قانونی کہہ رہے ہیں۔ اس حوالے سے اصل سوال یہ ہے کہ یوکرین کی اپوزیشن نے ایک منتخب صدر کا تختہ کیوں الٹا؟ کیا یوکرینی اپوزیشن نے یہ اقدام عوام کے حق میں کیا ہے؟ یا روایت کے مطابق یہ اقتدار کی لڑائی ہے۔

دنیا میں رائج الوقت جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ حصول اقتدار اور تحفظ اقتدار کی جنگ اس کی سرشت میں شامل ہے۔ ہر جمہوری ملک کے آئین میں اقتدار حاصل کرنے اور برسر اقتدار طبقے کو اقتدار سے ہٹانے کے اصول قوائد اور قانون موجود ہوتے ہیں لیکن اپوزیشن آئین سے ہٹ کر برسر اقتدار گروہ کو اسٹریٹ پاور کے ذریعے ہٹانے کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ اس حوالے سے ہم بھٹو حکومت کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ بھٹو ایک منتخب اور جمہوری سربراہ حکومت تھے۔ الیکشن میں چند سیٹوں پر دھاندلی کے الزام میں ان کے خلاف ایک زبردست تحریک چلائی گئی اور غیر جمہوری طریقے سے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ اسٹریٹ پاور کیا ہے؟ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ بھٹو کو اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی لیکن بھٹو کی حکومت کا جس اسٹریٹ پاور کے ذریعے تختہ الٹا گیا اس پاور میں شرکت کرنے والوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی، یعنی ایک بھاری اکثریت کے مینڈیٹ کو ایک چھوٹی سی اقلیت کے ذریعے زبردستی چھین لیا گیا۔ یہ ہماری جمہوریت کا ایک ایسا المیہ ہے جو جمہوریت کے سارے فلسفے کی نفی کر دیتا ہے۔

اس کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے عوام کو استعمال کرتی ہیں۔ اگر حکومت پر عوام کے حقوق کی پامالی، کرپشن یا سسٹم کی کسی خرابی کا الزام ہو تب بھی جمہوری اصولوں کے مطابق آئین میں دیے ہوئے طریقہ کار کے مطابق ہی حکومت تبدیل کی جانی چاہیے۔ اسی طرح حکمران جماعت تحفظ اقتدار کے لیے بھی تشدد کا غیر آئینی طریقہ استعمال کرتی ہے جو جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔ اس طریقہ کار سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہماری جمہوریت سرے سے وہ ہے ہی نہیں جو آئین کی رو سے ہونی چاہیے۔یوکرین کے معزول سربراہ پر اگر عوام کے حقوق یا عوامی مسائل کے حل میں ناکامی کے الزامات ہیں تب بھی اگر اس سسٹم کی افادیت ثابت کرنا ہے تو اسے یوکرین کے آئین کے مطابق ہٹایا جانا چاہیے تھا۔ ہمارے آئین کے آرٹیکل 6کے تحت حکومت کا تختہ الٹنے کی سزا موت ہے۔ کیا 1977ء میں بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے والوں پر اس آرٹیکل کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے تھا؟ روس نے یوکرین کی بہت ساری اہم تنصیبات پر بھی قبضہ کر لیا ہے امریکا روس کے اس اقدام کی سزا بھگتنی ہو گی حقیقت یہ ہے کہ روس اور امریکا کے موقف اور اقدامات کا یوکرین کے عوام کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں یہ سب پاور گیم کا حصہ ہیں۔ ان اقدامات جوابی اقدامات اور حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی محض سیاسی مفادات کا حصہ ہیں اور بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر جمہوری نظام کی ناکامی ہے۔

ظہیر اختر

Published on Russia, Ukraine

Comment on this post