سندھ میں قحط سے مرنے والوں کا ذمہ دارکون؟

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

سندھ میں قحط سے مرنے والوں کا ذمہ دارکون؟سندھ میں قحط سے مرنے والوں کا ذمہ دارکون؟

یہ کتنی حیران کن اور شرمندگی کی بات ہے کہ جس مٹی میں175 ارب ٹن سے زائد کالا سونا موجود ہو وہاں کے عوام بے سہارا اور لاوارثوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہوں۔درجنوں بچے حکومتی مشینری کی لاپرواہی کی وجہ سے قحط سالی کا شکار ہیں اور لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ تھر پارکر میں قحط سالی کے باعث اب تک کتنے بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں اس کے بارے میںسرکاری اعدادو شمار اور آزاد رپورٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سندھ حکومت 50 اور60 سے آگے نہیں بڑھ رہی جبکہ آزاد ذرائع ہلاک ہونیوالے بچوں کی تعداد 200 سے زائد بتا رہے ہیں جس میںدن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں قحط کے باعث بچوں کی اتنی بڑی تعداد میں اموات انتہائی تشویشناک امر ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ وادی سندھ جس کی ساڑھے5 ہزار سال سے زائد قدیم تہذیب ہے،جب یورپ اور دیگر دنیا میں اندھیراتھا تو اس وقت موہن جو دڑو میں رہنے والے افراد عالیشان زندگی گزارتے تھے اب اُن کی نسلیں 2 وقت کی روٹی کیلئے تڑپ رہی ہیں۔ یہاںکے ہسپتال اب مقتل گاہیں بن چکے ہیں ۔حکومت اپنے حامیوں کو سیاسی اور انتظامی عہدوں سے نوازنے میں مصروف ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ڈپٹی کمشنر ،ایم پی اے اور صوبائی وزیر کی موجودگی میں تھرپارکر میں کیا ہوا اور کیوں ہوا؟۔تھرپارکر اور سندھ کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث عام ہے کہ مخدوم امین فہیم کی فیملی کو کو تھرپارکر میں اتنی اہمیت کیوں دی گئی ؟ ان کے دو بیٹے جن میں مخدوم شکیل الزمان اور مخدوم عقیل الزمان ڈی سی کے عہدے پر لمبے عرصے سے تعینات رہے۔ انکے تیسرے بیٹے مخدوم خلیل الزمان عرف نعمت اللہ پی ایس62 تھرپارکر سے ایم پی اے منتخب ہوئے ۔ قحط شروع ہوا تو انہوں نے جنوری اور فروری میں جاری سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایک الفاظ تک کیوں نہیں بولا؟سب سے حیران کن امر یہ ہے کہ تھرپارکر میں مخدوم خاندان کے ہزاروں مرید ہیں وہ سروری جماعت سے برسوں سے وابستہ ہیں ان کی خاطر ہی سہی تھرپارکر کے لیے کچھ تو کرتے ۔مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم جمیل الزمان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ریونیو اور ریلیف کے وزیر کی حیثیت میں وہ کچھ کرتے جو ان کے دیگر بھائیوں نے نہیں کیا لیکن وہ بھی غافل رہے ۔یہ سندھ کی بڑی بدقسمتی ہے کہ پورے صوبے میں افسران کی تعیناتی میرٹ کے بجائے کوٹہ سسٹم پر کی جاتی ہے۔جو جتنا زیادہ زیادہ ہیوی ویٹ ہوتاہے اتنا بڑا عہدہ اس کے حوالے کیا جاتا ہے جبکہ اہم عہدوں میں ایم پی اے،ایم این اے،سینیٹرز اور پارٹی رہنمائوں کا شیئر بھی رکھا جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ مرکز میں پی پی مخالف حکو مت قائم ہو نے سے دو درجن کے قریب اچھی شہرت رکھنے والے افسران نے اپنا مقامی صوبہ چھوڑ کر مرکزی حکو مت میں نوکری کرنے کو ترجیح دی ہے اور باقی ماندہ افسران جس حالات میں کام کر رہے ہیں ان کے قصے کہانیاں روزانہ میڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھ حکو مت کے پاس بے تحاشا وسائل ہیں رواں مالی سال کا بجٹ618 ارب روپے کا ہے جو پنجاب حکو مت کے بجٹ897 ارب کے قریب قریب ہے جبکہ پنجاب کی آبادی اور سندھ کی آبادی میں بہت بڑا فرق ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سندھ تمام تر وسائل ہو نے کے باوجود پیچھے ہے اور پنجاب ترقی کی منزلیں طے کررہا ہے۔جس صوبے سے ملک کو67 فیصد ریونیو مل رہا ہو،جہاں پر 2 سمندری بندر گاہیں ہوں،تیل کی مد میں70 اور گیس میں80 فیصدکوئلے کی پیداوار میں90 فیصد سے بھی زائد ہو،جہاں کی زرخیز زمینوں نے انگریزوں کو بھی مجبور کیا تھا کہ سندھ میں شاندار آبپاشی نظام قائم کرے پھر آخر کیا وجہ ہے کہ سندھ میں بد امنی عروج پر ہے،تعلیم تباہ حال میں ہے،بلدیات بدحال ہے،زراعت اور ماہی گیری سے لیکر کوئی ایک بھی ایسا محکمہ نہیں جو اچھی حالت میں ہو۔جس صوبے کے محکمے ناکارہ ہو جائیں وہاں تھرپارکر جیسے بحران ہی آتے رہیں گے جس کو سنبھالنا سندھ حکو مت کے بس کی بات نہیں ہے جیسے 2010 میں محکمہ آبپاشی کے افسران کی نا اہلی سے دریائے سندھ کا بند ٹوڑہی کے مقام پر ٹوٹا تو 80 لا کھ افراد دربدر ہوئے جو صوبے کی تاریخ کی سب سے بدترین دربدری تھی۔ پیپلز پارٹی جو سندھ کے عوام کی محبوب جماعت ہے کو عوام کے بہتر مستقبل کیلئے نئے سرے سے حکمت عملی بنانی پڑیگی۔پنجاب میں صرف شہباز شریف ہیں تو بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک کا حکم چلتاہے،اسی طرح خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک سب کچھ ہیں لیکن سندھ میں ہر دوسراشخص اتنا با اثر ہے کہ اسے نہ قانون کی پرواہ ہے اور نہ ہی وزیر اعلی ٰ کے احکامات شپ کی جس وجہ سے سندھ میں گڈگوررننس کا سخت فقدان ہے۔ پی پی پی قیادت اگر قائم علی شاہ پر اعتماد رکھتی ہے تو اسے اپنے دوستوں کو دور رکھنا ہوگا ۔ اب آصف علی زرداری کے پاس صرف ایک آپشن ہے کہ صوبے میں پیپلز پارٹی کو بچائیں یا دوستی کو۔کیونکہ سندھ کے عوام کی حالت اب ایسے مریض کی ہوگئی ہے جسے آئی سی یو میں داخل کرا نے کے سوائے کوئی چارہ نہیں ۔ بدعنوانوں کیخلاف فوری اور مثالی کارروائی کی جائے جیسی ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی تب جاکے سندھ میں بہتری آئے گی وگرنہ پیپلز پارٹی تاریخ کا حصہ بن جائیگی

منصور مغیری

Comment on this post